کہتے ہیں مشرقِ بعید میں کبھی ایک ایسا ملک تھا جہاں سچ بولنا جرم، سوال کرنا بغاوت اور سوچنا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ وہاں نئی فکر، انسان دوستی اور آزادیٔ اظہار کو فتنہ قرار دیا جاتا تھا۔ ادارے ایک دوسرے پر نظر رکھتے تھے، دیواروں کے بھی کان تھے اور ذہنوں پر تالے۔ یہ ملک اپنی ہی روح سے خوف زدہ تھا۔
اسی سرزمین پر یونان سے ایک فقیرِ دانشور آیا۔ وہ تلوار نہیں، سوال ساتھ لایا تھا؛ وہ لشکر نہیں، مکالمہ لے کر آیا تھا۔ اس نے ایک نام نہاد دانش گاہ سے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اس کی گفتگو میں انسان دوستی تھی، اس کے سوالوں میں انصاف کی چبھن تھی اور اس کی خاموشی میں بھی احتجاج تھا۔ مگر جیسے ہی اس کی فکر نے جمود کی دیواروں میں دراڑیں ڈالیں، اختیار کے ایوان لرزنے لگے۔ چاپلوسوں، مفاد پرستوں اور نالائق منتظموں نے مل کر اس فقیر کو خاموش کر دیا۔ اسے زہر دے دیا گیا۔
فقیر تو مر گیا، مگر سوال زندہ رہ گئے۔ اس کی موت کے بعد زمین کانپ اٹھی اور ریاست مٹی کا ڈھیر بن گئی۔ صدیوں بعد جب کھدائی ہوئی تو بے چہرہ لاشوں میں ایک لاش ایسی ملی جس کا چہرہ تروتازہ اور جسم معطر تھا۔ ظلم نے ظالموں کو بدبو دار کر دیا تھا اور مظلوم کو ہمیشہ کے لیے روشن۔
یہ محض ایک کہانی نہیں، یہ تاریخ کا استعارہ ہے۔
آج اگر ہم اپنی پاکستانی جامعات پر نگاہ ڈالیں تو وہی فضا محسوس ہوتی ہے۔ یہاں بھی سوال کرنے والا طالب علم “مسئلہ” بن جاتا ہے، اختلاف کرنے والا استاد “خطرہ” کہلاتا ہے، اور مکالمہ “نظم و ضبط کے خلاف سازش” قرار پاتا ہے۔ یونیورسٹی جو دانش کی نرسری ہوتی ہے، وہاں اکثر خاموشی کی کاشت کی جاتی ہے۔
یہاں فیصلے میرٹ پر نہیں، مرضی پر ہوتے ہیں۔ یہاں اہلِ علم کو دیوار سے لگایا جاتا ہے اور چاپلوسوں کو منبر ملتا ہے۔ یہاں کرسی کو فکر پر ترجیح دی جاتی ہے، اور اقتدار کو اصول پر۔
یاد رکھنا چاہیے کہ مکالمہ کسی بھی معاشرے کا سانس ہوتا ہے۔ جب سانس بند کر دی جائے تو جسم زندہ نہیں رہتا۔ جب یونیورسٹیوں میں سوال کا قتل ہوتا ہے تو دراصل قوم کے مستقبل کو زہر دیا جاتا ہے۔
جو معاشرے اپنے سقراطوں کو زہر دیتے ہیں، وہ خود تاریخ کے زلزلوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جامعات زندہ رہیں، تو ہمیں مکالمہ زندہ کرنا ہوگا۔ اختلاف کو برداشت کرنا ہوگا، سوال کو گالی نہیں، تحفہ سمجھنا ہوگا۔ ورنہ ہم بھی کسی آنے والی کھدائی میں بے چہرہ لاشوں کی صورت ملیں گے… اور شاید کوئی کہے گا:
یہ وہ قوم تھی جس نے اپنے دانشوروں کو مار دیا تھا۔
فیس بک کمینٹ

