تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : براڈ شیٹ کی بجائے نیب کی ضرورت اور صلاحیت کا جائزہ لیجیے

براڈ شیٹ اسکینڈل آسان لفظوں میں یہ واضح کرتا ہے کہ بعض کمپنیاں نیب جیسے قومی ادارے کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ آئینی لحاظ سے خود مختار ادارے کی حیثیت رکھنے والا قومی احتساب بیورو اور اس کے ذمہ داران اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی جوابدہی ہو سکتی ہے۔ یہ آسان معاملہ سمجھنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر کابینہ نے براڈ شیٹ تحقیقات کے لئے خصوصی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی جسٹس (ر) عظمت سعید کو سونپی گئی ہے۔ حسب روایت ان اس تقرری پر حکومت اور اپوزیشن سینگ پھنسائے ہوئے ہیں۔ اس معاملہ پر گفتگو سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ براڈ شیٹ کا نام کیوں تسلسل سے پاکستانی سماعت میں انڈیلا جا رہا ہے۔ یہ کمپنی برطانوی عدالت کے حکم کے مطابق دراصل وہ کمپنی ہے جس نے جون 2000 میں نیب کے ساتھ بیرون ملک پاکستانی شہریوں کے ناجائز اثاثوں کا سراغ لگانے کا معاہدہ کیا تھا۔
قومی احتساب بیورو کو نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی حکومت قائم کرنے والے جنرل پرویز مشرف نے قائم کیا تھا لہذا فطری طور سے نیب کے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ میں بنیادی دلچسپی یہی تھی کہ یہ کمپنی اور اس کے ’ماہرین‘ نواز شریف کی چوری ثابت کریں گے اور اربوں ڈالر کے اثاثے پاکستان واپس لائے جا سکیں گے۔ یہ معاہدہ کرتے ہوئے البتہ نیب نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ غیر قانونی اثاثوں کا سراغ لگانے کے لئے اس کمپنی اور اس سے وابستہ افراد کے پاس کیا مہارت ہے۔ نیب قانون کے تحت کام کرنے والا ادارہ تھا جسے ملک کے اعلیٰ ترین قانونی ماہرین کا تعاون حاصل تھا۔ اس لئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس معاہدہ کے وقت یہ بھی پرکھا گیا ہوگا کہ براڈ شیٹ اور اس کے نمائندوں کو مغربی ممالک میں نجی لوگوں کی املاک، بنک اکاؤنٹس اور دیگر پرائیویٹ معلومات حاصل کرنے کا کتنا قانونی اختیار حاصل تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سوال نہ سنہ 2000 میں اٹھایا گیا اور نہ ہی اب اس کا جواب تلاش کرنا ضروری خیال کیا جا رہا ہے۔
براڈ شیٹ کے نام سے یہ کمپنی مئی 2000 میں ایک آف شور کمپنی کے طور پر رجسٹر ہوئی اور ایک ماہ بعد ہی اسے نیب جیسا ادارہ ’گاہک‘ کے طور پر مل گیا۔ گزشتہ ماہ برطانوی ہائی کورٹ کے حکم پر زبردستی پاکستان ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے 28 اعشاریہ 7 ملین ڈالر وصول کرنے کے بعد اب براڈ شیٹ کے کرتا دھرتا نیب کو سونے کا انڈا دینے والی مرغی سمجھنے میں حق بجانب ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کمپنی کا مالک مختلف چینلز پر انٹرویوز کے ذریعے کسی بھی طرح حکومت پاکستان اور نیب کو ایک بار پھر تعاون پر آمادہ کرنے کی خواہش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد میں نواز شریف کو پھنسانے کی خواہش اب بھی اتنی ہی شدید ہے جتنی 2000 میں تھی۔ اسی لئے کاوے موسوی کو ایک بار پھر اپنی چاندی ہی چاندی دکھائی دے رہی ہے۔نیب نے براڈ شیٹ کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اس میں نہ تو وقت کا تعین تھا اور نہ ہی اس معاہدہ کو ختم کرنے کی کوئی گنجائش رکھی گئی تھی۔ معاہدہ کی دستاویز کو پڑھ کر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ ایک پرائیویٹ کمپنی اور کسی خود مختار ملک کے طاقت ور ادارے کے درمیان معاملات کی دستاویز ہے۔ بلکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے دو خود مختار ملکوں نے باہمی مفادات کے تحفظ کے لئے ایک معاہدہ کیا ہے جسے دوسرے کی مرضی و منشا کے بغیر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ معاہدہ میں درج ہے کہ ’اس معاہدہ کے تحت فریقین ایک دوسرے کے ساتھ غیر معینہ مدت تک تعاون جاری رکھنے کے پابند رہیں گے اور یک طرفہ طور سے معاہدہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ معاہدہ کو صرف باہم رضامندی سے ہی ختم یا منتقل کیا جاسکے گا‘ ۔
بعد میں ہونے والے تجربوں اور ناکامیوں کے بعد نیب نے یک طرفہ طور سے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح نت نئے کردار اس ڈرامہ میں شامل ہوتے رہے۔ براڈ شیٹ (اصلی) اس دوران ختم ہو گئی اور اس کی بجائے ایک حصہ دار نے اپنے نام سے نئی براڈ شیٹ بنا کر نیب کے ساتھ ’تعاون‘ ختم کرنے کی بات چیت جاری رکھی۔ یوں بزعم خویش قومی احتساب بیورو نے اس نئی قائم شدہ براڈ شیٹ کے ساتھ معاملات ختم کرنے کے لئے 2008 میں پندرہ لاکھ ڈالر ادا کر دیے۔ اور یہ سمجھ لیا کہ اس کمبل سے جان چھوٹ گئی۔ تاہم ’اصلی کمبل‘ دوبارہ نمودار ہو گیا اور اس نے نیب کو یاد دلایا کہ اس کا معاہدہ ختم نہیں ہوا۔ نیب نے ان دعوؤں پر توجہ نہیں دی تو براڈ شیٹ (اصلی) کے وارث لندن کی عدالت پہنچ گئے جس نے فریقین کے ساتھ مل کر معاملہ طے کروانے کے لئے ثالث مقرر کر دیا۔
ثالثی عدالت کے سربراہ سر انتھونی جونز نے اگست 2016 میں قرار دیا کہ نیب نے غلط کمپنی کے ساتھ ’مک مکا‘ کر کے اصلی براڈ شیٹ کو مالی نقصان پہنچایا ہے۔ یوں نیب کو براہ راست اس براڈ شیٹ کا ’مقروض‘ قرار دیا گیا جو اب 29 ملین ڈالر وصول کرچکی ہے۔ اس فیصلہ میں نیب کو اس مبینہ نقصان کا ازالہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا جو نیب کے ’تساہل یا غلطی‘ کی وجہ سے براڈ شیٹ (اصلی) کو اٹھانا پڑا۔ جب یہ جرمانہ ادا کرنے سے مسلسل گریز کیا گیا تو براڈ شیٹ نے گزشتہ ماہ لندن ہائی کورٹ سے پاکستان ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے مطلوبہ رقم وصول کرنے کا حکم حاصل کر لیا۔ بنک نے عدالتی حکم کے مطابق یہ رقم ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے براڈ شیٹ کو منتقل کردی۔ اس ’سادہ‘ معاملہ کی پیچیدگیوں کا خاتمہ ابھی ہوا نہیں ہے۔ کیوں کہ ابھی تک نیب یا حکومت اس سوال کا جواب دینے پر آمادہ نہیں کہ اٹھائیس ملین ڈالر کی کثیر رقم لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ میں کیوں منتقل کی گئی تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کاوے موسوی کو یہ خبر کیسے حاصل ہوئی کہ ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ میں رقم پہنچ چکی ہے جس کے بعد اس نے ہائی کورٹ سے اپنے واجبات حاصل کرنے کا حکم حاصل کیا اور اس مقصد میں کامیاب رہا۔ لیکن اس کثیر رقم کی ادائیگی سے بھی زیادہ یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا اب نیب اور پاکستان کا براڈ شیٹ کے ساتھ وہ معاہدہ ختم ہو گیا ہے جس پر جون 2000 میں دستخط ہوئے تھے اور جسے کوئی فریق یک طرفہ طور سے ختم نہیں کر سکتا۔ کیا ثالثی عدالت میں قانونی نمائندگی کے دوران یہ بات طے کروا لی گئی تھی کہ اس کے بعد نیب اور براڈ شیٹ کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ بظاہر ثالثی عدالت نے ایک فریق کی شکایت پر دوسرے فریق کو واجبات ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسے اس سے زیادہ کچھ کہنے کا اختیار بھی نہیں تھا۔ کیا نیب نے اس دوران براڈ شیٹ سے کوئی ایسی دستاویز حاصل کرلی ہے جس کے بعد یہ سمجھا جاسکے کہ اب یہ معاملہ طے ہو چکا ہے۔ یا پاکستان میں شریف خاندان کے بغض میں براڈ شیٹ تحقیقات ہوتی رہیں گی اور چند برس بعد براڈ شیٹ کا کوئی نیا وارث اپنے نئے مبینہ نقصانات کا ایک نیا دعویٰ کسی عدالت میں لے کر آ جائے گا۔ سیاسی نفرت ہی کا شاخسانہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملہ میں سچائی جاننے، نیب کو اپنے قانونی اور مالی معاملات کی پڑتال کرنے اور مستقبل کے لئے پاکستان کو ایسی کسی مشکل میں ڈالنے سے بچانے کی کوشش کرنے کی بجائے، گزشتہ دنوں ٹویٹ پیغامات کے ایک سلسلہ میں یہ تاثر دیا گویا براڈ شیٹ نے شریف خاندان کی کرپشن ثابت کردی ہے۔ بس اب تھوڑی محنت کرنے کی ضرورت ہے، پاکستانی خزانہ مالا مال ہونے کو ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ براڈ شیٹ کو گزشتہ ماہ تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کے مساوی رقم ادا کرنے کے علاوہ اس معاملہ میں ’دھوکہ دہی‘ سے ادا کیے گئے 15 لاکھ ڈالر اور قانونی اخراجات ملا کر پاکستانی خزانے کو ساٹھ پینسٹھ ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس پر تو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ’کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے‘ ۔
وزیر اعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ معاملہ کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا جس کا سربراہ جسٹس (ر) عظمت سعید کو بنایا گیا ہے۔ عظمت سعید سپریم کورٹ کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق 2000 سے 2001 تک نائب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اور خصوصی پراسیکیوٹر کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ یہی وہ دورانیہ ہے جب نیب براڈ شیٹ کے جال میں پھنسا تھا۔ یہ تو عظمت سعید ہی بتا سکتے ہیں کہ کیا وہ اس سارے معاملہ کا حصہ تھے۔ یوں بھی ماضی میں نیب کا حصہ رہنا والا کوئی شخص کیوں کر اسی ادارے کی ’شفاف‘ تحقیقات کا ضامن بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود عظمت سعید کی نامزدگی ضمنی معاملہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر نیب ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے جس پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ہے تو اس کے لین دین یا دیگر معاملات کی تحقیقات کرنے یا کروانے کا اختیار وفاقی کابینہ کو کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ براڈ شیٹ کی تحقیقاتی کمیٹی پر اپوزیشن کے اعتراضات کی بجائے چیئرمین نیب حکومت کے اس اقدام کو کیوں چیلنج نہیں کرتے؟ حکومت اور عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ کرپشن کے جس مردے میں وہ جان ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ براڈ شیٹ نے اس بیانیے کا رہا سہا پول بھی کھول دیا ہے۔ قوم کو مزید نقصان اور مملکت پاکستان کو جگ ہنسائی سے بچانے کے لئے بہتر ہوگا کہ براڈ شیٹ کی بجائے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی اور صلاحیت کا جائزہ لینے کے لئے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے۔ اگر عمران خان کو پارلیمنٹ ’چور مافیا‘ کے قبضے میں لگتی ہے تو پھر وہ نیب کی قانون شکنی اور نا اہلی کا احتساب کروانے کے لئے عدالت عظمی سے رجوع کریں۔ براڈ شیٹ تحقیقات کے ذریعے نواز شریف کو پھنسانے کی نئی کوششیں بار آور نہیں ہوں گی۔ نیب کو انتقام کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا اور اس سے ہر دور میں یہی کام لیا گیا۔ پاکستان کو اگر آگے بڑھنا ہے تو اس کے لئے نیب کا خاتمہ اور ماضی سے حال میں قدم رکھنا ضروری ہے۔

(بشکریہ کاروان ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker