’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے تحت چولستان میں نہر نکالنے کے سوال پر سندھ میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے بعد اب پیپلز پارٹی بھی ’سندھو پر دریا نامنظور‘ کا نعرہ لگا کر نہروں کے نئے منصوبے کے خلاف اعلان جنگ کررہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ وفاق کے حامی ہیں لیکن سندھ کو اس کے حق سے محروم نہیں ہونے دیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرجوش طریقے سے سندھ واٹر سسٹم کا پانی نئی نہروں کے لیے استعمال کرنے کے سوال پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کی جنگ جس میں پانی کی منصفانہ تقسیم شامل ہے، میں عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں۔ جب وزیر خارجہ تھاتو دنیا کو اس بات پر منایا کہ ہمارے دریائے سندھ کو بچانا ہے، ان کو کہا کہ آئیں پاکستان کا ساتھ دیں۔ ان کا دعوی تھا کہ ’ ہزاروں سال سے نسل در نسل ہمیں ایک ہی کام آتا ہے کہ دریاؤں کے ساتھ رہنا ہے اور فصل کاشت کرنا ہے‘۔ ان الفاظ کے ساتھ پیپلز پارٹی کے چئیرمین نے وفاقی حکومت کے نہری منصوبہ کے خلاف دو ٹوک اور واضح اختلاف کا اعلان کیا۔
اس معاملہ میں البتہ دو پہلو حیران کن حد تک ناقابل فہم ہیں۔ ’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے لیے نہروں کا منصوبہ کئی ماہ پرانا ہوچکا اور اس کے خلاف سندھ میں ہونے والا احتجاج بھی بہت عرصے سے جاری ہے تاہم مارچ سے پہلے پیپلز پارٹی کو اس بارے میں کوئی ’پریشانی‘ لاحق نہیں تھی۔ سندھ میں ماحولیات و کسانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے متعدد گروہ و تنظیمیں اس منصوبے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کررہی تھیں۔ تاہم نہ تو قومی میڈیا میں یہ معاملہ کوئی اہمیت حاصل کرسکا اور نہ ہی پیپلز پارٹی نے اس پر کسی خاص تشویش کا اظہار کیا۔ البتہ جب پارٹی کو یہ احساس ہونے لگا کہ اس معاملہ پر خاموش رہ کر سندھ میں سیاسی مقبولیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے تو اس منصوبے کے بارے میں تحفظات کا اظہار ہونے لگا۔ سب سے پہلے صدر آصف علی زرداری نے 10 مارچ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں نئی نہروں کے منصوبے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور وفاقی حکومت سے کہا کہ اس معاملہ میں اتفاق رائے سے کام کیا جائے۔ اس کے بعد 14 مارچ کو سندھ اسمبلی میں مشترکہ طور سے منظور کی گئی قرار داد میں ان نہروں کی مخالفت دیکھنے میں آئی۔ اور اب بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملہ کو سندھ کی ثقافت و ضرورت کے ساتھ ملاکر کسی بھی قیمت پر نئی نہروں کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ البتہ یہ بھی حیران کن ہے کہ پیپلز پارٹی نے جو وفاقی حکومت کی حمایت کرتی ہے، ابھی تک یہ معاملہ باقاعدہ طور سے وزیر اعظم کے ساتھ اٹھا کر اسے حل کرنے کی بات نہیں کی ہے۔ لیکن بیان بازی کی حد تک میدان گرم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں دھیرے دھیرے صوبہ سندھ کے حکومتی نمائیندوں کے بعد اب پارٹی چئیرمین بھی شامل ہوچکے ہیں۔
اس حوالے سے دوسرا ناقابل فہم نکتہ وفاقی حکومت کا اطمینان اور سرد مہری ہے۔ اس بحث میں پیپلز پارٹی کی طرف سے بیان بازی کے بعد پہلے تو یہ واضح کیا گیا کہ صدر زرداری گزشتہ سال جولائی میں اس نہری منصوبہ کی منظوری دے چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی اس دعوے کو مسترد کرتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کی قیادت مصر ہے کہ صدر زرداری نے ایک اجلاس میں اس منصوبہ سے اتفاق کیا تھا۔ تاہم معاملہ کا یہ پہلو بدستور ناقابل فہم ہے کہ ملک کا صدر ایک آئینی عہدہ ہے۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے سوال پر پیدا ہونے والے تنازعہ میں ان کی کسی رائے کو حتمی حیثیت حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اگر کسی اجلاس میں بالواسطہ طور سے یہ منصوبہ پیش کیاگیا اور صدر زرداری نے اس کی تائید کی تو بھی اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی جسے تسلیم کرنا سندھ حکومت کے لیے لازمی ہو۔
اسی حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے نسبتاً خاموشی اور سرد مہری بھی حیران کن ہے کہ کیسے ملک کا وزیر اعظم ایک ایسی پارٹی کی طرف سے اٹھائے جانے والے اہم معاملہ کو نظر انداز کررہا ہے ، جس کے سہارے وہ اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔ حتی کہ آج وزیر اعظم شہباز شریف نے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اور ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی۔ اس موقع پر نہروں سے متعلق فیصلے کے بارے میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے کسی مشاورت کا عندیہ دینے یا اس بیان بازی کو ختم کرانے کے لیے کوئی اقدام تجویز کرنے کی بجائے نہایت اطمینان سے محض یہ فرمایا کہ ’حکومت کا خاصا ہے کہ تمام فیصلے اتحادیوں کی باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ اتحادی حکومت میں باہمی مثالی اعتماد سازی کی فضا خوش آئند ہے۔ اتحادی حکومت ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے مکمل یکسوئی سے کام کر رہی ہے‘۔ حالانکہ اگر حکومت اپنا سہارا بننے والی سب سے بڑی پارٹی کی طرف سے سامنے آنے والی ایک سنگین تشویش پر کوئی رائے دینے یا پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ دوسری طرف سندھ اسمبلی سے لے کر بلاول بھٹو زرداری تک سندھ کے پانی کے ناجائز تصرف پر سراپا احتجاج ہیں تو اسے کیسے ’مثالی اعتماد سازی‘ مان لیا جائے؟
بظاہر اس کی یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ نہروں کا منصوبہ درحقیقت ’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس نام کی ایک کمپنی فوج کے زیر انتظام قائم کی گئی ہے تاکہ ملک کی 48لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو آبا دکیا جاسکے۔ تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کے اس منصوبہ کی مکمل ملکیت فوج کے پاس ہے اور پنجاب حکومت نے اس مقصد کے لیے چولستان میں ساڑھے سات لاکھ ایکڑ زمین تیس سالہ لیز پر گرین پاکستان انیشیٹو (جی پی آئی) کو دی ہے۔ اسی منصوبہ کی آبپاشی کے لیے چولستان نہر کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ چولستان میں اس منصوبے کا افتتاح پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ 16 فروری کو کیا تھا۔ اسی کے بعد سے اس نہری منصوبہ کے بارے میں تشویش کا زیادہ واضح اظہار کیا جارہا ہے۔ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت یوں تو 6 نہریں نکالی جائیں گی جن میں دو پنجاب، دو سندھ اور دو بلوچستان میں ہوں گی۔ البتہ سب سے زیادہ تشویش جی پی آئی کے چولستان میں منصوبے کے لیے نکالی جانے والی نہر کے بارے میں پائی جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نہر کے لیے دریائے سندھ سے پانی نہیں لیا جائے گا بلکہ دریائے ستلج میں طغیانی سے شامل ہونے والے فالتو پانی سے یہ نہر بھری جائے گی۔ تاہم ناقدین اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہیں اور اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سیلاب کے پانی سے کوئی نہر نہیں بھری جاسکتی۔ اس نہر میں دریائے سندھ کا پانی شامل ہوگا جس سے سندھ کے کاشتکار متاثر ہوں گے اور وہاں زمینیں بنجر ہوجائیں گی۔
اس نہری منصوبہ کے لیے گزشتہ ماہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) سے منظوری حاصل کرلی گئی ہے لیکن اس موقع پر سندھ کے نمائندے احسان لغاری نے مخالفت کی۔ اپنے اختلافی نوٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’چولستان نہر کو شاید دریائے سندھ کا پانی دیا جائے جو سندھ کے ساتھ ناانصافی ہوگی‘۔ البتہ دیگر ارکان یا وفاقی و پنجاب حکومتوں کی طرف سے اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ یا تو وزیروں کی سطح پر ناقدانہ بیانات جاری ہوئے ہیں یا وزیر اعظم نے اتحادیوں کے ساتھ مثالی تعاون کا دعویٰ کرتے ہوئے اس مسئلہ کو نظر انداز کیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ آسانی سے ختم نہیں ہوگا۔ شہباز شریف شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ چونکہ پاک فوج کی نگرانی میں کام کررہا ہے تو فوجی قیادت خود ہی پیپلز پارٹی کو ’مطمئن‘ کرلے گی ، اس لیے انہیں پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے شروع میں شاید فوج کی مداخلت ہی کی وجہ سے ا س بارے میں واضح مؤقف اختیار نہیں کیا تھا تاہم سندھ میں گراس روٹ پر سامنے آنے والے احتجاج اور پیپلز پارٹی کی سیاسی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے اب پیپلز پارٹی اس معاملہ پر ضمانت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی یہ تجویز صائب ہے کہ بین الصوبائی معاملات طے کرنے کے لیے قائم مشترکہ مفادات کونسل میں اس منصوبہ پر بات کرکے اتفاق رائے پیدا کرلیا جائے تاکہ اس تنازعہ سے نکلا جاسکے۔ تاہم وفاقی حکومت نے اس تجویز پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ایک جائزے کے مطابق ملکی جی ڈی پی کا 25 فیصد زراعت سے حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ کل ورک فورس کا 37 فیصد زرعی شعبہ میں کام کرتا ہے۔ اس کے باوجود گزشتہ سال پاکستان نے غذائی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے 9 ارب ڈالر کی خوراک درآمد کی تھی۔ حالانکہ پاکستان زرمبادلہ کی شدید مشکلات کی وجہ سے سخت درآمدی پالیسی پر کاربند ہے اور اسے معاشی طور سے آگے بڑھنے کے لیے بدستور آئی ایم ایف سے قرض لینے کی ضرورت ہے۔ ’گرین پاکستان انیشیٹو‘ بظاہر زرعی شعبہ کی اس کمزوری کو دور کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت کاشتکاری کے جدید طریقے متعارف ہوں گے، کھاد اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے گا اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین فارمنگ سسٹم متعارف ہوگا۔ قیاس ہے کہ اس طرح ملک خوراک میں خود کفیل ہوسکے گا۔ تاہم یہ سوال بدستور موجود رہے گا کہ اس اہم منصوبہ کی ملکیت فوج کے زیر انتظام ایک ادارے کو کیوں دی گئی ہے۔ یہ کمپنی سول شعبہ میں کیوں قائم نہیں ہوسکی۔ ملکی تجارت و صنعت اور پراپرٹی کے شعبوں میں فوجی ادارے فعال ہیں اور ملکی معیشت کا ایک بڑا حصہ فوج کے براہ راست یا بالوسطہ کنٹرول میں ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان معاشی مفادات کی وجہ سے بھی فوج ملکی سیاسی معاملات میں دلچسپی لینے پر مجبور ہوتی ہے تاکہ اپنے مفادات کا تحفط کرسکے۔ اب زرعی شعبہ میں لاکھوں ایکڑ اراضی فوج کو لیز پر دے کر اس کی معاشی طاقت میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
حیرت انگیز طور پر دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم پر تو بے چینی اور سیاسی احتجاج دیکھنے میں آیا ہے لیکن جولائی 2023 میں قائم کی گئی فوجی کمپنی ’گرین پاکستان انیشیٹو‘ کے کردار اور ملکی سیاست و معیشت پر اس کے اثر و رسوخ کے بارے میں کوئی مباحثہ سننے میں نہیں آیا۔ حالانکہ پانی کی تقسیم کے علاوہ زراعت پر فوج کی اجارہ داری سے بھی پیچیدہ اور گنجلک سیاسی و انتظامی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

