Browsing: وسعت اللہ خان

میرے بچپن میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ سے منظور شدہ دوسری جماعت کے قاعدے میں حکمرانِ وقت کے بارے میں بھی یہ ڈیڑھ سطر شامل تھی۔ ‘فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں۔ انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’
انیس سو ستر میں وقت بدلا تو اسی قاعدے میں صرف نام بدلا۔ ‘جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں، انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’ انیس سو بہتر میں شائع ہونے والے اسی قاعدے میں صدر ذوالفقار علی بھٹو کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہنے لگا۔ تب سے اب تک اس نصابی پل کے نیچے سے ویسا ہی پانی رنگ بدل بدل کے بہے چلا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر محلے داروں کی عمومی عادات و طبی مسائل سے بھی واقف تھا۔ معائنہ کرتا، خود ہی دوا پیس کے پڑیاں بناتا اور ایک بوتل میں کوئی شربت نما شے بھر کے اس پر کاغذ کو قینچی سے کاٹ کر خوراک کی مقدار کے نشان کے طور پر چپکا دیتا۔ جس نے جتنے پیسے دیے بغیر گنے دراز میں رکھ لیے۔ آمدنی کم اور احترام بے شمار۔

یہ ایسی سہہ طرفہ جنگ ہے جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق سے لڑی جا رہی ہے۔ خدا جانے کیا نتیجہ نکلے گا۔
جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے
میں دیکھنے لگتا ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے
(سید مبارک شاہ)