چلاس : گلگت بلتستان کے علاقے چلاس میں شاہراہ قراقرم پرنامعلوم افراد نے بس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں بس حادثےکا شکار ہوگئی اور 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بس پر فائرنگ کا واقعہ ہڈور کے قریب پیش آیا جس کے نتیجے میں بس ٹرک سے ٹکراگئی اور بس میں آگ لگ گئی۔
ڈپٹی کمشنر دیامر عارف احمد کے مطابق بس میں 26 مسافر سوار تھے، واقعے میں 8 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے ہیں۔پولیس کے مطابق مسافر بس ضلع غذر سے راولپنڈی جا رہی تھی، جائے حادثہ پر امدادی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنرچلاس کا کہنا ہےکہ لاشوں اور زخمیوں کو ریجنل ہیڈکوارٹر اسپتال چلاس منتقل کر دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان کے وزیرداخلہ شمس لون نے معاونین خصوصی کےہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےکہا کہ چلاس کے قریب مسافر بس پر فائرنگ کھلی دہشت گردی ہے۔
شمس لون کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مرتکب حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائےگا، دہشت گردی کے واقعے میں بھارت کے ہاتھ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
بی بی سی کے مطابق
’بس غذر سے راولپنڈی جا رہی تھی۔ کوئی چھ بجے کا وقت ہوگا کہ اچانک اندھا دھند فائرنگ شروع ہو گئی جو دس منٹ تک جاری رہی۔‘
گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں سنیچر کی شام دیامیر سے دو کلو میٹر دور ایک مسافر بس پر فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے عینی شاہد سفیر علی نے اس حملے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔
سفیر کا کہنا تھا کہ ’بس میں اس وقت چیخ و پکار تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہوگا۔‘ دس منٹ کا یہ وقت، جب فائرنگ جاری تھی، مسافروں کے لیے زندگی کے طویل ترین لمحات میں سے تھا۔
’ہمیں ایسا لگا کہ فائرنگ کرنے والے سب لوگوں کو قتل کرکے چھوڑیں گے۔‘
لیکن پھر دس منٹ بعد فائرنگ رک گئی۔ اس کے باوجود بس میں زندہ بچ جانے والے مسافر خوفزدہ تھے۔
گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ شمس لون نے بتایا ہے کہ بس ڈرائیور نے فائرنگ کا آغاز ہوتے ہی کوشش کی کہ وہ بس کو اس مقام سے بھگا کر لے جائیں۔ تاہم یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ سامنے سے آنے والے ایک ٹرک سے مسافر بس ٹکرائی تو آگ لگ گئی۔سفیر علی بتاتے ہیں کہ ’فائرنگ رکنے کے باوجود لوگ اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ وہ باہر سر نہیں نکال رہے تھے۔‘
’فائرنگ کے کافی دیر بعد تک زخمی کراہتے رہے۔ کچھ لوگ بس سے باہر نکلے اور کچھ نے اپنے فون پر پولیس، ریسیکو اور اپنے رشتہ داروں کو کالیں کرنا شروع کردیں تھیں۔ بعد میں پولیس اور امدادی کارکناں پہنچے اور انھوں نے سب کو ہسپتال پہنچایا۔‘
نامعلوم افراد کی جانب سے ایک مسافر بس پر فائرنگ کے اس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 16 زخمی ہیں۔ تاحال اس واقعے کے ملزمان کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا تاہم حکومت پاکستان اور گلگت بلتستان نے مشترکہ طور پر اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم قائم کر دی ہے۔
ڈی سی چلاس کیپٹین (ر) عارف کے مطابق ساڑھے چھ بجے بس پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے بس سامنے سے آنے والے ایک ٹرک سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ بس میں سوار لوگوں کا تعلق پورے پاکستان سے ہے۔ ’ان میں کوہستان، پشاور، غذر، چلاس، مانسہرہ، صوابی کے علاوہ سندھ کے مسافر سوار تھے۔ اس میں پاک فوج کے دو جوان بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘
گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ شمس الحق لون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گلگت بلتستان حکومت کی رائے میں یہ واقعہ درحقیقت شاہراہ قراقرم اور اس سارے علاقے میں میگا پراجیکٹس کو نشانہ بنانے کی سازش ہے۔‘
شمس الحق لون کا دعویٰ تھا کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا جب کہ علاقے میں امن وامان کو مکمل بحال رکھا جائے گا۔

