”ملتان ، شہرِ طلسمات“ پروف کی بے اندازہ غلطیوں کے باوجود ایک ایسی کتاب ہے جس کے بارے میں اتنا کہنا ہی بہت ہے کہ اسے لکھا ہے اسلم انصاری نے جو ایک شاعرِ بے بدل ہی نہیں افسانہ نگار ، سماجی مورخ ، ممتاز دانش ور ، معلم ،محقق اور نقاد بھی ہیں۔اقبال، غالب، میر ، بیدل ، خواجہ فرید پر ان کا لکھا سند کی حیثیت رکھتا ہے۔اپنی مادری زبان سرائیکی کے علاوہ اردو ، انگریزی، عربی اور فارسی پر ان کی دسترس اور تصانیف ایک جہانِ حیرت کو پیدا کرتی ہیں۔فارسی زبان میں لکھی گئی مثنویاں، دیوانِ کامل اور فارسی شاعری کا کلیات ”گل بانگِ آرزو “ موجودہ دور میں انہیں شاعری کی کلاسیکی روایت کا آخری بڑا شاعر ثابت کرتے ہیں۔وہ بلاشبہ امیر خسرو ، بے دل ، میر، غالب ا ور اقبال کی اردو اور فارسی شعری روایت کے آخری بڑے شاعر ہیں۔خدا انہیں عمرِ طویل دے اور ہم اپنے عہد کے اس ” زندہ رود “ کو تادیر دیکھتے ، سنتے اور پڑھتے رہیں۔
” ملتان، شہرِ طلسمات “ تاریخ بھی ہے ، روایت بھی اور خود نوشت بھی جس میں مصنف ہی نہیں ” ملتانِ ما“ کی ہزاروں سال پر محیط ”جنتِ اعلٰی“ بھی سانس لیتی ہوئی ، دھڑکنیں سناتی ہوئی اور یادوں کی صورت دل کی گہرائی میں اُترتی ہوئی یوں محسوس ہوتی ہے کہ اصفہان ہی نہیں ملتان بھی نصف جہان نظر آتا ہے۔کتاب کیا ہے خلاقی اور صناعی کا حسین امتزاج ہے۔
شاہ جہان کے عہد میں اورنگ زیب کا کابل کی مہم کے دوران دو سال تک ملتان کا قیام ہو(جس میں اس کی نظر ملتان کے مالیہ پر رہی ہو گی)، شہزادہ مراد کی تعمیر کردہ ملتان کی شہر پناہ(النگ) ہو ، اورنگ زیب کی بنائی ہوئی لاہور کی بادشاہی مسجد کی تعمیر میں ملتان کے کئی سالوں کے مالیے کا صرفہ ہو (شاید ہی کسی کو اس تاریخی حقیقت کا علم ہو)، شاہ رکنِ عالم اور بہاالدین زکریا کے مزارات کی تعمیر کی حقیقت ہو ، ملتان کے آثار و مقامات (کُپ بازار ، چہلیک، باؤلیاں ،النگ ) ہوں ، ملتان میں حسنِ نگارش کی روایت (نقاشی ، کاشی گری ،مرقع نگاری، تصویرچہ سازی ، کتبہ سازی ، خوش نویسی، خطاطی کے اسالیب) ہو ، ملتان کے فنِ تعمیر کی تفصیل (بہاالدین زکریا اور شاہ رکنِ عالم کی ہشت پہلو عمارات ، کاشی کے نمونوں، خطِ ثلث اور خطِ کوفی کی وضاحت، شاہ شمس سبزواری کے مقبرے کی مکعب نما عمارت ، مسجد پھول ہٹ ، پرانی کوتوالی کی عمارت ، مسجد ولی محمد ، مغلیہ طرزِ. تعمیر میں سنگِ مر مر اور سنگِ سرخ کا جمالیاتی پہلو ، ملتانی فنِ تعمیر میں چوبی کندہ کاری) ہو ، شیخ فخرالدین عراقی کا قیامِ ملتان ہو یا ملتان کی جدائی میں نالہِ فراق ہو ، ملتان میں خیال ، ٹھمری، غزل ، کافی کی گائیکی (اسلم انصاری کی موسیقی اور راگوں سے واقفیت) کی روایت ہو،انیس سو پچاس کی دہائی میں قلعہ کہنہ پر منعقد ہونے والے یادگار مشاعرے کی تفصیل ہو جس میں جگر مراد آبادی نے اپنی وہ غزل سنائی جو اس وقت پوری اردو دنیا میں گونج رہی تھی:
جہلِ خرد نے یہ دن دکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
ایمرسن کالج میں فارسی کے بے مثل استاد پروفیسر تاج محمد خاں کا تذکرہ ہو ، چونکا دینے والا مضمون ”خطوطِ غالب میں ذکرِ ملتان اور ایک ثقافتی اشارہ “ (پہلی مرتبہ یہ ذکر ملتا ہے)ہو ، ملتان میں لکھی گئی نادر تحریریں(خاص طور پر اسلم انصاری کی مثنوی ”چراغِ لالہ” پر این میری شمل کا پیش لفظ) ہوں ،ملتان کی تاریخ پر مشتمل نادر و نایاب تصاویر ہوں، علامہ عتیق فکری سے نسبتِ خاص اور ان کے فکری ، علمی و تحقیقی کمالات کا تذکرہ ہو ، پاک دروازے کا کپتان ہوٹل ہو ، 1922 کا ملتان میں ہونے والا شدید بلوہ اور خون خرابہ ہو ، اسلم انصاری کے شاعرانہ اظہار کا اولین زمانہ ہو ، شاہانِ دہلی کے عہد میں ملتان کی اہمیت ہو ، امیر خسرو کے قیامِ ملتان کے دوران منگولوں کے ملتان پر حملےکے نتیجے میں ملتان کی تباہی و بربادی پر لکھا گیا ان کا پر سوز مرثیہ ہو ، ملتان میں ”مکالماتِ افلاطون “ کے مترجم کا تذکرہ ہو ، ”علی منزل“ (شاکر حسین شاکر کی سوانحی کتاب) کا حوالہ ہو ، کتاب کے تمام ہی موضوعات نیم تاریخی ، نیم سماجی ، نیم روایتی اور نیم سوانحی حیثیت کے حامل ہیں۔
” ملتان ، شہرِ طلسمات “ کا آخری حصہ ”ایسی وفا ، ایسی جفا“ (ایک روایت ، ایک کہانی) اور ”سقوطِ ملتان“ پر مبنی ہے۔”ایسی وفا،ایسی جفا“ میں ملتان میں بغاوت کے بعد حکمِ حاکم(روایت کے مطابق حاکم محمد بن تغلق تھا) کے برعکس کہ کوئی شخص اپنے گھر میں چراغ روشن نہ کرے ، ملتان کی مغنیہ”موراں“ پردیس سے لوٹنے والے محبوب کو اپنی گلی کا راستہ دکھانے اور اس سے کئے گئے وعدے کی تکمیل میں سارا دن چراغوں میں بتیاں ڈال کر انہیں گھر کی منڈیر پر رکھ کر چراغاں کر دیتی ہےاور نتیجے میں موت کی سزا کو قبول کرتی ہے۔کہانی ملتان کی مٹی میں وفاداری اور ایفائے عہد جیسی قدروں کا اعادہ کرتی ہے۔
”سقوطِ ملتان”“ کتاب کا سب سے اہم مضمون ہے جس میں ملتان پر انگریزوں کے حملے اور ملتان کے صوبیدار مولراج کی شکست(1848-1849) کی مکمل دستاویزی روداد بیان کی گئی ہے۔مضمون ملتان کے عاشق ، فدائی اور ٹریجڈی ہیرو مولراج کی انگریزوں کے خلاف بغاوت ، مزاحمت اور مقاومت کا احوال بیان کرتا ہے۔اس قصے کو سنایا بھی ایسے ہی گیا ہے جیسے ٹریجڈی ہیرو ارسطو کے خیال کے مطابق اپنے فیصلے کی غلطی سے بہترین حالت سے تباہی کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔یہ ایک قدرے طویل باب ہے جس میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے عین زمانے میں ملتان کی سیاسی تاریخ کے زوال کا کامل منظرنامہ پیش کیا گیا ہے۔مضمون میں مولراج کی صوبے داری میں صوبہ ملتان (آج ملتان کے صوبے پر اعتراض کرنے والوں کی یہ مضمون ملتان کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے شاید تشفی کر سکے) کی حدود ، قلعہِ ملتان کی تفصیل، انگریز وقائع نگاروں کی آرا ، مولانا سے استعفے لینے کی کوششیں، دو انگریز افسروں کے قتل کی حقیقت ،مولراج کی مزاحمت،قلعے کی تباہی، خونی برج کی جانب سے شہر کی فصیل میں دراڑ ، توپوں کی کئی دن تک شب و روز کی گئی گولہ باری ، دست بدست لڑائی ، قتلِ عام ، بڑے پیمانے پر خون خرابہ اور آخر میں ٹریجڈی ہیرو کا مزید خون خرابہ کو روکنے کے لیے قلعے سے باہر آنے کی جو تصویر بنائی گئی ہے وہی اس کتاب کا کلائمکس بھی ہے بقول میر:
کہ اک عالم رکھے ہے علمِ تصویر بھی آخر
دیکھیے؛
”وہ سرخ یا گلابی سلک کے لباس میں ملبوس تھا۔ اس کا چوغہ بھی اسی رنگ کا تھا اور اس پر سنہری کام کیا ہوا تھا۔اس کے گلے میں سنہری زنجیر تھی اور کلائیوں میں سونے کے کنگن تھے۔انگلیوں میں دوسری انگوٹھیوں کے علاوہ ایک ہیرے کی انگوٹھی بھی تھی ، وہ ایک بھلا آدمی لگتا تھا۔درمیانے قد کا نرم خدوخال کا آدمی ، تاہم اس کی آنکھوں میں غضب کی چمک اور چہرے پر بلا کا عزم تھا۔مجھےاسے دیکھ کر افسوس ہوا لیکن میں کیا کر سکتا تھا۔جب ہم نے کیمپ تک کا آدھا راستہ طے کر لیا تو اس نے گھوڑے پر سے پیچھے مڑ کر قلعے کو دیکھا اور اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔وہ جی بھر کر رویا “(انگریز وقائع نگار رائیڈر)
( کتاب ”ملتان،شہرِ طلسمات “ کو شاکر حسین شاکر کے ادارے کتاب نگر ، خاور سنٹر ، ملتان کینٹ نے شائع کیا ہے )
فیس بک کمینٹ

