لاہور: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ لاہور نے اے آر وائے کے اینکر پرسن چوہدری غلام حسین کے خلاف جعلی دستاویزات پر بینک سے قرض لینے کے مقدے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔چوہدری غلام حسین کو گزشتہ روز جعلی دستاویزات کے ذریعے بینک سے قرض لینے کے کیس میں لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
چوہدری غلام حسین کو ایف آئی اے نے آج لاہور کی ضلع کچہری میں پیش کیا جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
ایف آئی اے کے وکیل منعم بشیر چوہدری نے مؤقف اپنایا کہ چوہدری غلام حسین نے بنک کا قرضہ واپس نہیں کیا، جعلی دستاویزات پر قرضہ لیا۔
چوہدری غلام حسین کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ 2003 کا وقوعہ ہے اور 2011 میں ان کے خلاف ایف آٸی آر درج ہوٸی ،کیا ایف آٸی اے اب بنکوں کی ریکوری کا کام کرے گا، چوہدری غلام حسین پر کسی قسم کی جعلی دستاویزات کا الزام تک نہیں لگایا گیا ،رات کو چالیس لوگ گرفتار کرنے آٸے کیا کوٸی ذاتی رنجش نکالنے آٸے، یہ پراٸیویٹ کمپلینٹ نکال کر دکھاٸیں جو ایف آٸی اے کو دی گئی ۔
پراسیکیوٹر منعم بشیر نے کہا کہ تحریری شکایت بنکنگ کورٹ میں چالان کے ساتھ ہے ، اظہر صدیق نے مؤقف اپنایا کہ کل گرفتاری کی خاص وجہ ہے، عدالت نے ایف آئی اے وکیل سے استفسار کیا کہ بندہ 2013 سے اشتہاری ہے اور ٹی وی پر بیٹھا رہتا ہے آپ اب تک بیٹھے کیوں رہے، 2013 سے آپ نے کوٸی کاررواٸی کیوں نہیں کی۔
اظہر صدیق نے کہا کہ چوہدری غلام حسین کا پورے مقدمہ میں کیا کردار ہے یہ واضح نہیں ،کیس میں چوہدری غلام حسین صرف ضامن ہیں باقی مرکزی ملزمان بری ہو چکے ہیں کیس سے ، جعلی دستاویزات کا الزام لگاتے ہیں حالانکہ یہ معاملہ سول کورٹ میں ہے، چوہدری غلام حسین نے بطور ضامن 47 فیصد رقم خود واپس کی۔
اظہر صدیق نے کہا کہ چوہدری غلام حسین صحافی ہیں اور عوام کی لڑاٸی لڑ رہے ہیں ، کل سے چوہدری غلام حسین کی کردار کشی کی جا رہی ہے ، ساڑھے چار کروڑ کی جاٸیداد بنک نے لی اور ڈھاٸی کروڑ کیش واپس کیا ،اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔عدالت نے ایف آئی اے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے چوہدری غلام حسین کا شناختی کارڈ کیوں قبضہ میں لیا، اس دوران عدلت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ چوہدری غلام حسین کو شناختی کارڈ واپس کیا جائے۔
اس دوران ایف آئی اے نے چوہدری غلام حسین کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسےعدالت نے مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر 14 روز کے لیے جیل بھیج دیا۔
ایف آئی اے نے 27 اکتوبر کو چوہدری غلام حسین کو جعلی دستاویزات کے ذریعے بینک سے قرض لینے کے کیس میں لاہور سے گرفتار کیا، ترجمان ایف آئی اے مطابق وہ مقدمہ نمبر 94/2011 میں کمرشل بینکنگ سرکل لاہور کو مطلوب تھے۔
ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ چوہدری غلام حسین نے 2003 میں جعلی دستاویزات کے ذریعے بینک سے 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کا قرض لیا تھا اور اس مقدمے میں ان کے دو بیٹے بھی اشتہاری ہیں، مذکورہ مقدمے میں بینکنگ کورٹ ون لاہور نے دائمی وارنٹ (ناقابل ضمانت وارنٹ) جاری کر دیے تھے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

