شہر اولیاء ملتان میں تین ارب سے زائد کی لاگت سے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی عمارت تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ چکی ،روا ں ماہ کے اختتام تک ابتدائی طور پر جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمسنٹریشن کے دفاتر متی تل کے علاقے میں قائم سیکرٹریٹ کی نئی عمارت میں منتقل ہو جائیں گے ،یقیناً یہ ایک دلکش منظر سمجھا جاسکتا ہے کہ ملتان میں موجود منتخب سرکاری محکمے بمعہ افسران وسٹاف ایک ًچھت تلے ًمنتقل ہورہے ہیں،لیکن زرا ٹھریئے….تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو جنوبی پنجاب کی برسوں پر محیط احساس محرومی،بے بسی،بے اختیاری اور پسماندگی کی دھندمیں لپٹا ہوا ہے،اگر یہ کہا جائے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی پرشکوہ عمارت میں محکمے اور ان کےباقاعدہ سیکرٹریزبے بسی اور بے اختیاری کے ساتھ داخل ہو ں گے تو غلط نہیں ہوگا، یاد رہے کہ 2020ءمیں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پنجاب گورنمنٹ رولز آف بزنس میں تبدیل کرکے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا،ابتدائی طور پر 43محکموں میں سے 17کو جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں شفٹ کیا گیا،وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان محکموں اضافہ تو کیا ہونا تھاموجودہ پنجاب حکومت نے تو مذکورہ رولز آف بزنس کے تحت جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو حاصل اختیارات سے بھی محروم کرنا شروع کردیا،اس وقت کل 17محکموں میں سے صرف7محکموں میں باقاعدہ سیکرٹری جنوبی پنجاب تعینات ہیں،ان میں سیکرٹری سروسز امجد شعیب خان ترین،سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ آفتاب احمد پیرزادہ ،سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل ،سیکرٹری جنگلات ،وائلڈلائف اینڈ فشریز سرفراز حسین مگسی ،سیکرٹری انہار کنور اعجاز خالق رزاقی اورسیکرٹری سکول ایجوکیشن عبیداللہ کھوکھرشامل ہیں،سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن جنوبی پنجاب محمد افضل ناصر خان کی حالیہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہاں تاحال کوئی سیکرٹری تعینات نہیں کیا گیا،ان کی جگہ پاس گریڈ19کے منصور احمد خان کو اسپیشل سیکرٹری تعینات کیا گیاہےیہ عمل پنجاب حکومت کی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کی اندرون خانہ سوچی سمجھی پالیسی کی غمازی کرتا ہے،آب آئیے آگے چلتے ہیں،جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں باقی رہ جانے والے 9محکموں میں سول سیکرٹریٹ پنجاب لاہور میں تعینات سیکرٹریز کو ہی سیکرٹری جنوبی پنجاب کا اضافی چارج سونپا جاچکا ہے،ان میں سیکرٹری محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ محمد مسعود انور ،سیکرٹری محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس لیفٹیننٹ(ر) سہیل اشرف،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ شکیل احمد میاں،سیکرٹری محکمہ ہائر ایجوکیشن فرخ نوید ،سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرعلی جان خان،سیکرٹری محکمہ ایچ یوڈی اینڈ پی ایچ ای کیپٹن (ر) اسد اللہ خان،سیکرٹری محکمہ فنانس مجاہد شیردل ،سیکرٹری محکمہ داخلہ کیپٹن (ر) نورالامین مینگل اور سیکرٹری محکمہ قانون آصف بلال لودھی شامل ہیں،مذکورہ بالا یہ 9سیکرٹری جو دراصل پنجاب کے محکموں کے سیکرٹری ہیں لیکن ان کے پاس بطور سیکرٹری جنوبی پنجاب اپنے محکمہ کا اضافی چارج بھی موجود ہے،ایک دو کے سوا ان میں سے کسی نے بھی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا رخ نہیں کیا،حقیقت یہ ہے کہ لاہور میں ہی بیٹھ کربطور سیکرٹری جنوبی پنجاب اپنے ًفرائض ً انجام دے رہیے ہیں،کبھی کبھار جب ان کا دل کرتا ہے تو یہ جنوبی پنجاب کے سپیشل سیکرٹری یا کسی ایڈیشنل سیکرٹری کو ریکارڈ سمیت لاہور طلب کرکے ً فرمان شاہی ً جاری کرادیتے ہیں، جو 7باقاعدہ سیکرٹری جنوبی پنجاب تعینات ہیں بدقسمتی سے ان کو رولز آف بزنس کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرنے سے زبانی طور پر روک دیا جاتا ہے،یہ ہے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے ً بااختیار ً ہونے کی اندرونی اور تلخ حقیقت….بعض حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت چاہتی ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں شروع سے باقاعدہ تعینات سیکرٹریز کو عملا ً ہٹا کر وہاں اسپیشل سیکرٹریز سے کام چلایا جائے جو کہ دراصل لاہور میں بیٹھے ہوئے متعلقہ سیکرٹری کو جواب دہ ہوں،اس کے لیے اسپیشل سیکرٹریز کی 10اسامیوں کی منظوری پہلے ہی دے دی گئی ، ،طرفہ تماشا یہ کہ پنجاب گورنمنٹ رولز آف بزنس میں ترمیم کرکے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس میں اسپیشل سیکرٹری کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا،لیکن کیا کیا جائے کہ موجودہ پنجاب حکومت قوائد ضوابط کر پس پشت ڈال کراپنی ضد کے لیے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی خود مختاری کوروندنے پر تلی ہوئی ہے،اس وقت 10میں سےچار اسپیشل سیکرٹری جنوبی پنجاب میں تعینات ہوچکے ہیں ، ان میں سابق ڈپٹی کمشنر ملتان کیپٹن (ر) رضوان قدیر بھی شامل ہیں ،رضوان قدیر سیاسی شخصیات کی آپس کی رسہ کشی کا شکار ہوکر جب ڈپٹی کمشنر ملتان کے عہدے سے فارغ ہوئے تو ان کو پہلے ایڈیشنل سیکرٹری اور بعد ازاں اسپیشل سیکرٹری محکمہ جنگلات،وائلڈ لایف اینڈ فشریز جنوبی پنجاب لگا دیا گیا،دیگر تعینات اسپیشل سیکرٹریز میں محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن منصوراحمد،محکمہ ہائر ایجوکیشن سرفراز احمد ، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے راشد ارشاد اور محکمہ ایچ یو ڈی اینڈ پی ایچ ای کے رانا سلیم احمد خان شامل ہیں،ہم یہاں اسپیشل سیکرٹریز کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھا رہےہیں ان میں سے بیشترکام کرنے کی صلاحیت اور اچھی شہرت رکھتے ہیں،چونکہ رولز آف بزنس میں ان کا ذکر نہیں اور نہ ہی ابھی تک ان کو کوئی اختیارات تفویض کیے گیے ہیں لہذاء وہ ایک طرح سے بے کار بیٹھے ہیں،جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی بے ختیاری پر جنوبی پنجاب کی سیاسی شخصیات خاص طور پر گیلانی خاندان کی خاموشی ذومعنی خیال کی جارہی ہے،اگرچہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزدے ایم پی اے سید علی حیدر گیلانی پنجاب اسمبلی اور ایم این اے سید عبدالقادر گیلانی قومی اسمبلی میں اس حوالے سےایک بارآواز اٹھا چکے ہیں لیکن یہ کافی نہیں عملاً جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے،اس وقت گیلانی خاندان جتنازور ملتان سمیت چند دیگر اضلاع میں اپنی مرضی کے افسران تعینات کرانے پر لگا رہا ہے اتنا زور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو بااختیار بنانے پر لگائے تو یہ وسیب اور اس میں رہنے والے چار کروڑ کے لگ بھگ لوگوں پر احسان ہوگا
فیس بک کمینٹ

