مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے اپنی ہی پارٹی کے سینیٹر عرفان صدیقی کے ساتھ ملاقات میں قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ درپیش مسائل حل کیا جاسکیں ۔ ایک پریس ریلیز کے مطابق اس ملاقات میں نواز شریف نے بیرون ملک پاکستان کی شہرت کو نقصان کو پہنچانے کے لیے متحرک عناصر کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔
قومی اتحاد کے حوالے سے ملک کے اہم لیڈر اور تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی تشویش بجا ہوسکتی ہے لیکن اس تشویش کو ایک سینیٹر سے ملاقات کے بعد بیان جاری کرکے دور نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ سیاست دان بحران حل کرنے میں کردار ادا کرنے کی بجائے ، حالات سے نظریں چرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقتدار سنبھالے ہوئے سیاست دان قیاس کررہے ہیں کہ تھوڑے عرصے بعد اپوزیشن کرنے والے عناصر تھک جائیں گے اور حالات از خود ٹھیک ہوجائیں گے۔ جبکہ موجودہ حکومت کو جعلی اور مسلط کردہ قرار دینے والی تحریک انصاف کا خیال ہے کہ وہ اگر موجودہ نظام کو مسلسل چوٹ لگاتی رہے تو بالآخر حکومت کو رخصت ہونا پڑے گا۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کی قیادت اسی گمان میں مبتلا ہے کہ جب بھی عسکری قیادت سے سلسلہ جنبانی شروع ہؤا تو عمران خان کا وزیر اعظم ہاؤس تک سفر آسان ہوجائے گا۔ جبکہ شہباز شریف یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ موجودہ حالات اور سانحہ 9 مئی کے تناظر میں فوج اور تحریک انصاف کے درمیان حائل ہونے والی خلیج کم نہیں ہوسکتی اور اس کا فائدہ موجودہ حکومت کو ہوگا۔
ظاہر ہے کہ یہ دونوں متبادل ملک میں جمہوریت یا عوامی بہبود کے نقطہ نظر سے خوشگوار نہیں ہیں۔ تحریک انصاف یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اسے ملک میں سیاسی اصلاح کے لیے مؤثر طور سے کام کرنا چاہئے۔ قومی اسمبلی کے پلیٹ فارم کو مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے ۔ پروپیگنڈے کے زور پر ملک میں بے یقینی اور بے چینی پیدا کرنے کی کوششیں وسیع تر ملکی مفاد میں نہیں ہوسکتیں۔ دوسری طرف حکومت بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک بڑی سیاسی پارٹی کی قیادت کو جیلوں میں بند کرکے اور اس کے سیاسی کردار سے انکار کرکے محض فوج سے پینگیں بڑھا کر حالات کو مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔ شہباز شریف پر واضح ہونا چاہئے کہ انتخابی دھاندلی کا الزام صرف تحریک انصاف کی طرف سے عائد نہیں ہورہا بلکہ ایسی سیاسی جماعتیں جو کل تک پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ایک سیاسی اتحاد کا حصہ تھیں ، ان میں سے بہت سی اب فروری میں ہونے والے انتخابات کو بوگس اور ناقابل اعتبار قرار دے رہےہیں۔ ان میں سب سے مؤثر اور بلند آہنگ آواز مولانا فضل الرحمان کی ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے انتخابات میں دھاندلی کی عدالتی تحقیقات کروانے، قومی اسمبلی میں اس حوالے سے تحریک انصاف کی تجاویز کو قابل غور سمجھنے یا سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی پٹیشن کی حمایت کرنے سے گریز کیا ہے۔ حالانکہ اگر حکومت اٹارنی جنرل کے ذریعے تحریک انصاف کی پٹیشن پر کارروائی کی حمایت کرتی تو چیف جسٹس کو اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے بنچ بنانے پر آمادہ کیا جاسکتا تھا۔ تاکہ موجودہ حکومت پر دھاندلی سے اقتدار سنبھالنے کا جو الزم اعائد ہوتا ہے، اس سے نجات حاصل کی جاسکے۔
ایسے کسی اقدام سے حکومت کو اپنا اقتدار خطرے میں محسوس ہوتا ہے ، اسی لیے قومی سلامتی اور سیاسی تسلسل کے نام پر انتخابات کی صحت کے بارے میں کسی قسم کے مباحثہ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے لیڈر عمران خان کو پانچ سال تک جیل میں بند رکھنے کی باتیں کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ان کا باہر آنا قومی استحکام اور معاشی بحالی کے منصوبے کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ان بیانات کو درحقیقت ملک کے عدالتی نظام پر براہ راست حملہ قررا دیاجاسکتا ہے۔ متعدد الزامات کے تحت جیل میں بند تحریک انصاف کے بانی چئیرمین کے بارے میں سرکاری ترجمانوں کے بیانات کا ایک مقصد تو یہ ہوسکتا ہے کہ عدالتوں کو دباؤ میں لایا جائے اور ان تک پیغام پہنچایا جائے کہ اقتدار پر قابض قوتوں کے لیے عمران خان کی رہائی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ طریقہ درحقیقت ملک میں انصاف کی فراہمی روکنے کی انتہائی شرمناک کوشش ہے۔ حیرت ہے کہ نواز شریف سمیت کسی بھی لیڈر نے اپنی پارٹی کے ترجمانوں کے ان بیانات کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اور نہ ہی توہین عدالت کے معاملہ پر شدید حساسیت کا مظاہرہ کرنے والی سپریم کورٹ نے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو عدالتی خود مختاری کے لیے خطرہ سمجھا اور اس پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ سیاسی ماحول میں تلخیاں بڑھ رہی ہیں اور ہر سیاسی پارٹی اس انتظار میں ہے کہ اسے موقع ملے تو وہ مدمقابل کو سیاسی میدان سے نکال باہر کرے۔ حالانکہ جمہوریت اور عوامی مقبولیت کا دعویٰ کرنے والی سب پارٹیوں کو احساس ہونا چاہئے کہ جمہوری سیاست میں مدمقابل کو پچھاڑنا اصل سیاست نہیں ہے بلکہ باہم احترام اور اختلافات کو مسائل حل کرنے کا ذریعہ بناکر ہی ملکی عوام کی بہتری کا راستہ ہموار کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی سیاست میں سے یہ مزاج ختم کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاست میں صرف ایک ہی پارٹی کی بات مقدم ہوتی ہے۔ مل جل کر ایک دوسرے کی تجاویز کو پرکھ کر ہی کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا مناسب جمہوری طریقہ ہوتا ہے جس میں ذاتیات کی بجائے اصولوں کی بنیاد پر فیصلے کیے جاسکیں۔ اختلاف یا اتفاق سے قطع نظر سب لوگ ان فیصلوںمیں شریک ہوں تاکہ قوم آگے کی طرف بڑھ سکے۔
انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں پاکستان کے دو اہم لیڈر موجودہ سیاسی بحران حل کرنے میں کردار ادا کرسکتے تھے۔ تاہم آصف علی زرادری نے صدر کا عہدہ سنبھال کر اس ذمہ داری سے گریز کا راستہ اختیار کیا۔ نواز شریف وزارت عظمی کی دوڑ میں تو شامل نہیں ہوئے لیکن سیاست میں متحرک بھی دکھائی نہیں دیتے۔ وہ زیادہ وقت اپنے گھر پر گزارتے ہیں حالانکہ جس قومی اتحاد کی وہ بات کررہے ہیں، اس کے حصول کے لیے انہیں بھاگ دوڑ کرنی چاہئے تھی۔ یہ مقصد محض سیاسی بیان دینے یا حالات کی ابتری پر اظہار افسوس کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ اب وہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت بھی سنبھال چکے ہیں۔ اس حیثیت میں انہیں اپنی پارٹی کی سیاست کو حکومتی پالیسیوں سے الگ کرکے وسیع تر قومی اتفاق رائے کے لیے کام کرنے کی ضرورت تھی۔
یہ درست ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاست نے ذاتی سطح پر بے حد تلخیاں پیدا کی ہیں اور اختلافات کو شخصی دشمنی بنالیا گیا ہے۔ لیکن مستقبل کا مبصر جب ان حالات کا جائزہ لے گا تو ضرور یہ سوال کرے گا کہ ایک پارٹی کے انتہاپسندانہ طرز عمل کا توڑ کرنے کے لیے دوسری سیاسی پارٹیوں اور قائدین نے کیا کردار ادا کیا تھا۔ موجودہ حالات میں اس کا جواب تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے حالات کی خرابی کی ذمہ داری صرف عمران خان یا پی ٹی آئی پر عائد نہیں ہوسکے گی بلکہ سیاسی عہدوں پر فائز ان لیڈروں کو بھی جوابدہ ہونا پڑے گا جنہوں نے موقع ملنے کے باوجود عملی کردار ادا کرنے سے گریز کیا۔
نواز شریف انتقام کی سیاست سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ چند ماہ پہلے ایک بیان میں وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’جب وہ جیل میں بند تھے تو عمران خان نے تو ان کے ائیرکنڈیشنر اتارنے کا قصد کیا تھا لیکن وہ ایسی خواہش نہیں رکھتے۔ اگر انہیں ائیرکنڈیشنر ملتا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے‘۔ بدقسمتی سے اس رویہ کو انتقام سے گریز کا طریقہ کہنا ممکن نہیں ہے۔ مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ نواز شریف کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز تحریک انصاف کے دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرچکی ہیں۔ نواز شریف کو یقینی بنانا چاہئے تھا کہ عمران خان کے قد کاٹھ کے لیڈرکو اب جیل میں بند نہ رکھا جائے۔ فوج کے ساتھ اگر تحریک انصاف کی کسی حکمت عملی کی وجہ سے اختلاف کی صورت موجود ہے تو اسے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو قید رکھنے کے لیے عذر نہ بنایا جاتا بلکہ فوجی قیادت کو باور کروایا جاتا کہ ایک مقبول لیڈر کو قید رکھنے اور کمزور و بے بنیاد مقدموں میں سزائیں دلانے سے نہ ماضی میں کوئی مقصد حاصل ہوسکا ہے اور نہ اب اس سے کوئی فائدہ ہوگا۔ اس لیے قید و بند اور جھوٹے اور بے شمار مقدمے بنانے کا طریقہ ترک کیا جائے۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ مرکز یا پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں اپنی بعض مجبوریوں کی وجہ سے نواز شریف کا ایسا مشورہ ماننے سے انکار کرتیں تو نواز شریف پارٹی لیڈر کے طور پر اس سے اختلاف کا حق استعمال کرسکتے تھے۔ اور اگر وہ واقعی ملک میں تصادم اور ضد کی سیاست کو دفن کرنے پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں سیاسی لیڈروں کی ناجائز گرفتاریوں پر احتجاج ریکارڈ کروانا چاہئےتھا اور حکومت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کرنا چاہئے تھا۔ لیکن جیسا کہ آج جاری ہونے والے بیان میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ نواز شریف بہر صورت حکومت کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں اور کسی غلط فیصلے پر احتجاج رجسٹر نہیں کرواتے۔
نواز شریف سیاسی مخالفین کے حق سیاست کے لیے آواز بلند کرکے ملک میں وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کے لئے فضا سازگار بنا سکتے تھے۔ وہ یہ کام اب بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ سرکاری بیانیہ کو آگے بڑھا کر بیرون ملک پاکستان کو بدنام کرنے کی نام نہاد کوششوں کو ہی مسترد کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ حالانکہ اگر ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر ہو، آزادی اظہار کو یقینی بنایا جائے اور سیاسی بات کرنے پر پابندی لگانے کا طریقہ ختم ہوسکے تو امریکہ یا کسی دورے ملک کے دارالحکومت میں بیٹھ کسی ایک پارٹی کے لیے پروپگنڈا کرنے والے عناصر خود ہی ناکام ہوجائیں گے۔
اپنے وسیع سیاسی تجربہ اور قومی لیڈر کے طور پر اپنی پوزیشن کے پیش نظر نواز شریف کو سطحی اور یک طرفہ بیانات سے گریز کرنا چاہئے اور وسیع تر قومی اتحاد و اشتراک کے لیے کام کرنا چاہئے۔ ان کا یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ’ ایسے عناصر جمہوریت میں دلچسپی نہیں رکھتے اور نہ ہی عوامی بہبود ان لوگوں کا مقصد ہے‘۔ یہ الزام تو کوئی بھی سیاسی لیڈر اپنے مخالف پر عائد کرسکتا ہے۔ اس بیان میں ندرت اسی وقت محسوس کی جاسکتی تھی جب نواز شریف یہ کہتے کہ عمران خان سے اختلاف کے باوجود میں ان کے حق سیاست کا دفاع کروں گا۔ ان کی پارٹی کو کام کرنے کی اجازت دی جائے اور اس کے جلسوں پرغیر ضروری پابندیاں لگا کر سیاسی ماحول آلودہ نہ کیا جائے۔
نواز شریف اب بھی ملک میں سیاسی مصالحت کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں تاہم اس مقصد کے لیے انہیں اصولی سیاست کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ یہ خوف دل سے نکالناپڑے گا کہ جمہوریت اور آزادی رائے کی بات کرنے سے مرکز میں بھائی اور پنجاب میں بیٹی کی حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ عمر کے اس حصے میں نواز شریف یا تو سیاست سے کنارہ کش ہوکر پرائیویٹ زندگی گزاریں یا ایک بہادر اور معاملہ فہم لیڈر کا کردار ادا کرنے کے لیے میدان عمل میں اتریں۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

