پاکستان میں شاید پہلا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس سے پہلے سے ہی کوئی خوشگوار توقعات وابستہ نہیں تھیں اور عوام و خواص یکساں طور سے سخت معاشی اقدامات کی توقع کر رہے تھے۔ گویا اس بجٹ سے کوئی حیرت وابستہ نہیں تھی۔ نہ عوام کی جیبیں بھری جا سکتی ہیں اور نہ ہی امرا کو مزید ذمہ دار بنانے کی کوئی موثر کوشش دیکھنے میں آئے گی۔
اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے بجٹ سے عین پہلے ناراضی کا اظہار کر کے کچھ ارتعاش اور حیرت کا سامان ضرور پیدا کیا۔ اسی طرح تحریک انصاف نے سابقہ اجلاسوں میں غائب رہنے کے بعد آج وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کی بجٹ تقریر کے دوران میں شور مچا کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ گویا سب کچھ معمول کے مطابق ہو رہا ہے بس غیر معمولی معاشی حالات میں ایک ایسا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس کا واحد مقصد آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا ہے۔
حکومت بجٹ کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہے گی کہ معاشی ڈسپلن کی سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے اور آمدنی میں اضافے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ بجٹ میں اگلے مالی سال کے لیے محاصل و ٹیکسز وصول کرنے کا ہدف تقریباً 130 کھرب رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چالیس فیصد زیادہ ہے۔ اگر چہ بعض معاشی ماہرین اور سیاسی طور سے ناراض عناصر اسے غیر حقیقت پسندانہ اقدام کہہ رہے ہیں لیکن حکومت کے پاس ایسے سخت اہداف مقرر کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ شدید مالی دباؤ کا شکار پاکستانی معیشت کو نئی زندگی درکار ہے اور یہ زندگی جزوی طور سے آئی ایم ایف کو خوش کر کے ہی پوری ہو سکتی ہے۔
حکومت آئی ایم ایف سے 8 ارب ڈالر کا نیا مالی معاہدہ کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اس بارے میں بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے اور عالمی مالیاتی فنڈ نے شرائط سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ کہ آمدنی میں اضافہ کیا جائے اور مختلف شعبوں میں دی جانے والی سبسڈی یا رعایت میں کمی کی جائے۔ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے نام پر سیاست دانوں کے اللے تللے بند کیے جائیں اور ملکی پیداواری صلاحیت کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ معیشت اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو سکے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کے بارے میں سیاسی طور سے متعدد آرا دی جا سکتی ہیں لیکن مالی نقطہ نظر سے موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاملات طے کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔
اس وقت آئی ایم ایف سے 8 ارب ڈالر قرض کا سوال نہیں ہے۔ یہ امدادی پیکیج چھوٹا یا بڑا ہو سکتا ہے لیکن پاکستانی حکومت معاشی نظم و ضبط ثابت کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاہدہ کیے بغیر کسی بھی ملک سے سرمایہ کاری لانے اور معیشت میں تحریک پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔ یعنی اگر آئی ایم ایف سے کم مقدار میں بھی قرض لیا جائے تو بھی اس کی شرائط ویسی ہی سخت ہوں گی جن کا سامنا پاکستان کو اس وقت کرنا پڑ رہا ہے۔ کیوں کہ عالمی مالیاتی فنڈ دنیا کے امیر ممالک کا قائم کردہ ایک ایسا فنڈ ہے جو اسی صورت میں مالی وسائل فراہم کرتا ہے جب کوئی ملک یا اس کی حکومت معاشی ڈسپلن قائم کرنے اور خود انحصاری کی طرف گامزن ہونے کا عندیہ دے۔
پاکستان میں آئی ایم ایف اور اس کے سیاسی پہلوؤں کے بارے میں بہت سے مباحث ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ امریکہ جیسے ممالک جو عالمی مالیاتی فنڈ میں بڑا اسٹیک ہولڈر ہے، بعض اوقات اس فنڈ کے وسائل کو اپنے عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی امریکہ کسی ایسی حکومت کو وسائل فراہم کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے جو سیاسی و سفارتی طور سے اس کے مفادات کی حفاظت کر سکتا ہے یا کسی دوسرے عالمی و علاقائی تناظر میں اس کے لیے معاون ہو سکتا ہے۔ یا یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے آئی ایم ایف کے وسائل دینے میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ تاہم ایسی مثالوں سے عالمی مالیاتی فنڈ کے بنیادی مقاصد متاثر نہیں ہوتے یعنی فنڈ سے، مشکلات کا سامنا کرنے والے ممالک کو صرف اسی صورت میں وسائل فراہم ہوتے ہیں جب کوئی حکومت اپنی آمدنی میں اضافے، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے پر راضی ہوتی ہے۔
جدید معیشت میں یہ مقاصد حاصل کرنے کے چند تیر بہدف طریقے ہیں جنہیں بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اول کہ حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے۔ اس کا سب سے پہلا اثر ترقیاتی فنڈز میں کمی اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے والے شعبوں پر ہوتا ہے۔ صحت، تعلیم یا بہبود کے شعبوں کے مصارف میں یا تو کمی کی جاتی ہے یا ان میں افراط زر کے تناسب سے اضافہ نہیں ہوتا۔ یہ بھی حقیقی معنوں میں کمی ہی کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ رعایتی نرخوں پر سروسز اور اشیا فراہم نہ کی جائیں۔ پاکستان کے حوالے سے اس حوالے سے پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی فراہمی شامل ہے۔ پاکستان یہ دونوں اصناف درآمد کرتا ہے۔ اصولی طور سے حکومت صارفین سے وہی قیمت وصول کرنے کی پابند ہے جس پر اسے خریدا جاتا ہے۔ البتہ غریب آبادی کی اکثریت اور قلیل آمدنی کی وجہ سے بیشتر صورتوں میں ہر حکومت رعایت یا سبسڈی دینے پر مجبور ہوتی ہے۔ بجٹ میں ایسی سبسڈی میں کمی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ حکومت صنعتی شعبہ کو کثیر مراعات دیتی ہے۔ ان میں ٹیکسز میں چھوٹ اور نقد امداد بھی شامل ہے۔ معاشی نقطہ نظر سے تو کسی بھی ملک کی صنعت کو خود کفیل ہونا چاہیے یعنی وہ خود بھی کمائے اور ٹیکسوں کی صورت میں حکومتی آمدنی میں اضافہ کا سبب بھی بنے۔ پاکستان میں البتہ کنٹرول اور قواعد و ضوابط کا ایسا پیچیدہ گورکھ دھندا موجود ہے جس میں سرمایہ آزادانہ نقل و حرکت کے قابل نہیں اور نہ ہی صنعتیں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہیں۔ حکومت محاصل و ٹیکسز میں مراعات دے کر ان صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو سکے اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے رہیں۔ البتہ اس کا مالی بوجھ حکومت کو مزید قرض لے کر اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسی ہی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت ایک دلدل کی صورت اختیار کرچکی ہے جس میں پاؤں نیچے ہی دھنستا چلا جاتا ہے۔
صنعتوں کو ملنے والی مراعات یا مالی فوائد کو عام طور سے یا سیاسی مخالفین کی زبان میں اشرافیہ کو دی جانے والی سہولتیں بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دعویٰ مکمل طور سے درست نہیں ہے۔ کیوں کہ ہر حکومت معیشت کی گاڑی چلانے کے لیے کسی نہ کسی طرح صنعتی شعبہ کی حوصلہ افزائی کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ البتہ ملک کی بیشتر صنعتوں پر سیاسی طور سے طاقت ور گروہوں کا قبضہ ہے اس لیے اس بارے میں عوام میں بے چینی پیدا ہونا لازمی ہے۔ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے نظام کی مکمل اصلاح اور کنٹرول کے طریقوں کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بوجوہ یہ کام ممکن نہیں ہو پاتا لہذا حکومت عبوری حل کے طور پر سبسڈی کا راستہ اختیار کرتی ہے جو اب اس قدر بڑا بوجھ بن چکا ہے جو کسی قومی رضاکارانہ جد و جہد کے بغیر ممکن نہیں۔ سیاسی افتراق و انتشار کی موجودہ صورت حال میں ایسے کسی اصلاحی عزم کا امکان بھی دکھائی نہیں دیتا۔
آئی ایم ایف سے قرض یا معاہدہ یوں بھی ضروری ہوتا ہے کہ دوست ممالک بھی آئی ایم ایف کے معاشی کنٹرول کو ہی حتمی ضمانت مانتے ہیں اور سرمایہ کاری یا معاشی امداد پر راضی ہوتے ہیں۔ پاکستان کے معاملہ میں سعودی عرب یا چین جیسے دوست ممالک سے مالی وسائل حاصل کرنے کی راہ بھی آئی ایم ایف کے ذریعے ہی ہموار ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ سیاسی یا معاشی مباحث غیر ضروری ہیں کہ حکومت امریکی دباؤ میں شرائط مان لیتی ہے یا آئی ایم ایف کے ذریعے عالمی اسٹیبلشمنٹ پاکستانی معیشت کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست بھی مان لیا جائے تو یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ عرب ممالک اور چین بھی اس عالمی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہیں جس کے تمام منفی اثرات کو امریکہ کے نام معنون کر کے بے بنیاد مباحث میں سر کھپایا جاتا ہے۔
کوئی ملک اگر خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا اقدام کر لے تو اسے ایک تو قرض لینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ دوسرے کوئی عالمی ادارہ معاشی کنٹرول کے لیے شرائط بھی سامنے نہیں لائے گا۔ جب حکومتیں یکے بعد دیگرے معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوتی ہیں تب ہی وہ آئی ایم ایف سے رجوع کرتی ہیں اور وسائل حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان میں یہی صورت حال موجود ہے۔ بجٹ پیش کرنے سے پہلے پیش کیے گئے اکنامک سروے میں واضح ہے کہ کیسے گزشتہ کئی حکومتیں مسلسل سبسڈی کے سہارے کام چلانے کی کوشش کرتی رہی ہیں اور انہیں محاصل میں کمی کا سامنا رہا ہے۔
پاکستان 25 کروڑ آبادی کا ملک ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یعنی پیداواری صلاحیت آبادی میں اضافے کی شرح سے زیادہ ہونی چاہیے۔ پاکستان کو یہ اضافہ اس سے بھی زیادہ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس پر بیرونی قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ معاشی ڈسپلن کے لیے متعدد شعبوں میں نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت ہے جن میں آبادی پر کنٹرول اور نوجوان آبادی کو کارآمد بنانے کے منصوبے شامل ہونے چاہئیں۔ البتہ سنگین سیاسی تصادم کی موجودہ فضا میں پاکستان کوئی انقلابی فیصلے کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس کا اندازہ آج اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی طرف سے خفگی کے ڈرامے اور تحریک انصاف کے احتجاجی نعروں سے کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ آبادی و ضرورتوں کے معیار پر دیکھا جائے تو پاکستان کی پیداواری صلاحیت میں پانچ سے سات فیصد سالانہ اضافہ ہونا چاہیے۔
اقتصادی سروے کے مطابق سابقہ مالی سال میں یہ شرح اڑھائی فیصد تھی اور آئندہ سال کے دوران میں ساڑھے تین فیصد تک پہنچے گی۔ یہ ہدف بھی اسی صورت پورا ہو سکے گا اگر ملک میں قائم موجودہ سیاسی انتظام اس مدت میں کامیابی سے کام کرتا رہا۔ کسی بڑی توڑ پھوڑ کی صورت میں سارے اندازے غلط ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں ملک کا ہر شہری، ہر سیاسی پارٹی اور اس کی قیادت اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ سکتی ہے کہ ملک کی تعمیر میں اس کا کتنا حصہ ہے۔
(بشکریہ:ہم سب)
فیس بک کمینٹ

