ویسے تو پاکستانی مزاح تخلیق کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے مگر گزشتہ کچھ عرصے میں تو کمال ہی ہوگیا ہے ۔ ہمارے ہاں جوکروں کی ایسی نئی کھیپ تیار ہوئی ہے جسے ہم ایکسپورٹ کرکے اچھے خاصے ڈالر کما سکتے ہیں۔اِن جوکروں میں ایک جوکر ایسا بھی ہے جو پینٹ قمیض کے ساتھ واسکٹ پہن کر خود کو علامہ دوراں سمجھتا ہے اور اسکول کالجوں میں جا کر مذہب کا چُورن بیچتا ہے ۔ اِس بندے کا خیال ہے کہ وہ جدید دور کا ریفارمسٹ ہے اور امت مسلمہ کو بیدار کرنے کا کام اسے سونپا گیا ہے ۔میں موصوف کا نام اِس لیے نہیں لکھ رہا کہ ’آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے‘ ۔
موصوف کی گفتگو سنیں تو لگتا ہے جیسے دن رات سپائڈر مین اور ایونجرز دیکھتے رہتے ہیں لیکن شکل ایسی بناتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں کہ میرے اندر علم کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے جبکہ باقی پوری قوم جاہل ہے۔ ویسے اِن صاحب کا بھی قصور نہیں ، یہاں ہر دوسرا بندہ خود کو طرم خان ہی سمجھتا ہے تاہم آج اِن صاحب پر لکھنے کی ضرورت اِس لیے محسوس ہوئی (حالانکہ خدا جانتا ہے کہ موصوف اِس قابل نہیںکہ اِن پر پورا کالم ضائع کیا جائے ) کہ گزشتہ دنوں آنجناب نے ایک ٹاک شو میں خواتین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان کی 95 فیصد عورتیں جاہل ہیں ۔ اِس پر مہمانوں میں بیٹھی ہوئی ایک لڑکی نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور ان کی بے معنی اور بے ربط گفتگو سے متاثر ہونے کی بجائے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین کی اِس طرح توہین کرنے پر معافی مانگیں ۔ لیکن موصوف کی لغت میں معافی کا لفظ ہی نہیں ، سو بجائے معافی مانگنے کے وہ مزید اُس لڑکی کے سر ہو گئے کہ چونکہ اسے طاغوت کا مطلب نہیں پتا پس ثابت ہوا کہ وہ جاہل ہے ۔ یہ کلپ سوشل میڈیا پر خاصا وائرل ہوا۔ اِس شو میں وہ بد زبان لکھاری بھی موجود تھا جواپنی تھرڈ کلاس گفتگو کی وجہ سے مشہور ہے ، وہ بھی درمیان میں کود پڑا اور اُس نےلڑکی کو مذہب کی بنیاد پرعلانیہ دھمکانے کی کوشش کی ۔اِس تمام ہنگامے کے نتیجے میں اصولاً تو چینل کو معافی مانگنی چاہیے تھی مگر چینل کو تو ریٹنگ چاہیے، سو چینل نے اِس کا چٹ پٹا سا اشتہار بنا کر یو ٹیوب پر چڑھا دیا ۔
ہم لوگ آئے دن اِس بات پر کڑھتے رہتے ہیں کہ ملک میں مذہبی انتہا پسندی کیوں بڑھ گئی ہے ، ہم پر زوال کیوں آگیا ہے ، معاشرے کی تنزلی کا کیا سبب ہے ، وغیرہ۔ یہ چار منٹ کا کلپ اِن تمام باتوں کا جواب ہے ۔اِس کلپ کو دیکھنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ ہم جن لوگوںکو دانشور سمجھتے ہیں انہیں نہ صرف گفتگو کے بنیادی آداب نہیں معلوم بلکہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ دلیل کیا ہوتی ہے اور اُس کا جواب کیسے دیا جاتا ہے ۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ اگر کوئی اُن پر تنقید کرے تو جواب میں انہیں مذہب کے حوالے دے کر خاموش کروا دیا جائے مگر آفرین ہے اُس لڑکی پر جس نے بے خوفی سے کہا کہ آ پ میرے سوال کا جواب دیں اور مذہبی حوالوں سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔اِس کلپ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے یہ جعلی دانشور مذہب کا سہارا لے کر اپنے کھوکھلے نظریات کا پرچار کر رہے ہیں اور جب انہیں کوئی چیلنج کرتا ہے تو وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اُلٹا اسی کو لتاڑنا شروع کر دیتے ہیں جیسے وہ اُنکی نہیں بلکہ مذہب کی توہین کا مرتکب ہوا ہے ۔اِس کلپ کے اختتام پر اُس بد زبان لکھاری نے یہی کرنے کی کوشش کی ۔وہ تو شکر ہے کہ یہ ریکارڈڈ شو تھا ورنہ یہ لکھاری تو نہ جانے اُس پرکیا الزام لگا دیتا ۔پھر نہ کوئی مقدمہ چلتا بلکہ موقع پر ہی ’انصاف ‘ ہوجاتا۔
ایک خوش آئند بات البتہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نوجوان موجود ہیں ،خاص کر لڑکیاں، جو اِن کھوکھلی باتوں سے متاثر نہیں ہوتے اور سوال کرنے کی اہلیت اور جرات رکھتی ہیں ، یہ بات ہمارے مستقبل کیلئے روشنی کی ایک کرن ہے ورنہ جس معاشرے میں جوکروں کو دانشور سمجھ لیا جائے وہاں بندہ کیا امید رکھ سکتا ہے ۔ ویسے یہ جوکر نما جعلی دانشور اب بہت تیزی سے بے نقاب ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ اِس نوجوان لڑکی کے ہاتھوں یہ موصوف کی پہلی ’بزتی’ نہیں بلکہ اِس سے پہلے کسی یوٹیوب پوڈ کاسٹ میں موصوف نے حسب عادت نہایت سرپرستانہ لہجے میں میزبان کو دو تین مرتبہ بیٹا بیٹا کہہ کر پکارا جس پر میزبان نے جواباً کہا کہ میں عمر میں تم سے بڑا ہوں ، مجھے بیٹا کہنے کی بجائے ابو کہو اور مجھ سے معافی مانگو ۔اس کے بعد میزبان نے جوکر سے معافی منگوا کر دم لیا۔سو ،جہاں یہ جوکر چار دن میں مشہور ہو جاتے ہیں وہاں اتنی ہی جلدی ایکسپوژ بھی ہوجاتے ہیں ۔ میں اکثر معاشرے کی تنزلی دیکھ کر کافی مایوس ہوجاتا ہوں اور دل میں کڑھتا رہتا ہوں مگر اِس کلپ میں لڑکی نے جس طرح جوکر کو بے نقاب کیا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ مٹی ابھی نم ہے۔
کالم کی دُم :سفر ابھی جاری ہے ۔اگلی منزل کیلگری ہے ، باقی روداد
انشاءاللہ وہاں جا کر لکھوں گا۔’’رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے …نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘‘
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

