بیٹا، آرام کرسی کو اتنا نہ کھولو، پیچھے دیوار کے ساتھ نہ لگے۔
اوہ! داخلی دروازے سے اندر آتے ہی فرش پر یہ کالے نشان کس چیز کے؟
پتا نہیں۔
خاتون خانہ جلدی سے بڑا پہیے والا سفری بستہ ایک طرف کرتی ہے اور صاحب خانہ بھاگ کر پوچا لاتے اور رگڑنے لگتے ہیں۔
آٹھ سالہ بچہ باورچی خانے کی سلیب پر چڑھ کر بیٹھنے لگتا ہے اور گھر کی مالکہ کی اپنے کمرے سے نظر پڑتے ہی اس جانب دوڑ اور ساتھ خبردار کرنے کی آوازیں۔
اتنا پانی کسے پسند ہے؟ واش بیسن اور کموڈ والی ساری جگہ گیلی ہوئی پڑی ہے۔ ایک اور تنبیہ۔
نہانے کے لیے صابن کی بجائے جیل استعمال کریں۔ ایک اور نسخہ۔
ناں ناں۔ دیوار پر لگی ایک تصویر پر مہمان کا ہاتھ پڑتے ہی میزبان کی پکار۔
اٹھا کر لے جاؤ۔ کمرے کی طرف صوفہ گھسیٹتے ہوئے ایک قریبی دوست کی نصیحت۔
مرکزی نشست گاہ میں بیٹھے دو بہن بھائی گیند پکڑنے کا کھیل، کھیل رہے ہیں۔ اتنے میں گیند ہاتھ سے چھو ٹ کر دیوار سے ٹکراتی ہے اور ساتھ ہی کسی کے دل پر ہاتھ پڑتا ہے۔ دیواروں کو کچھ بھی سخت نہیں ٹکرانا۔ نہ گیند، نہ فٹ بال، نہ ٹانگ، نہ سر۔ آپ کی بڑی مہربانی۔
ڈرل مشین اور کیل ہیں تو ابھی یہ لٹکا دیتے ہیں۔ نہیں دوست، ایسی غلطی بھول کر بھی نہیں کرنی۔ سہیلی کا مفت مشورہ۔
یہ اور ایسی کئی آوازیں، باتیں، شکایتیں، احتیاطیں اور مشورے ان سب کو سننے پڑتے ہیں جو پاکستان سے نئے نئے یورپ، برطانیہ، آسٹریلیا رہنے آتے ہیں کہ وطن عزیز میں اینٹوں، سیمنٹ کے پکے گھروں اور نو، نو انچ والی دیواروں کے عادی ہوتے ہیں۔ اور یہاں سب کچھ گتے کا بنا۔ جس کو ہاتھ سے بجا کے ٹھونکو تو آوازیں آتی ہیں۔ دکھنے میں کسی کو شائبہ تک نہ ہو کہ عموماً سفید رنگ سے رنگے خوبصورت، صاف ستھرے۔ لیکن ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور۔
ان کی نرگسیت اور نزاکت کی انتہا ہے۔ نہ پردوں کے لیے ہتھوڑی سے ٹھک ٹھک کر کے کیل لگ سکتا ہے نہ زور۔ جناب کیل ایک دیوار سے دوسری میں نکل آتے ہیں اور پردے بے چارے منہ لٹکائے وہیں کے وہیں۔ اسی لیے ان پر آویزاں ہر چیز بھی اتنی ہی حساس ہے کہ کسی نہ کسی ٹیپ یا ہلکے پھلکے سہارے سے لٹکی ہوتی ہے۔ غسل خانے کی اینٹیں صابن لگنے سے خراب ہوتی ہیں اور کموڈ اور واش بیسن کی، گیلا ہونا سہ ہی نہیں سکتیں۔ کجا کہ روز کی بالٹی بھر بھر دھلائیاں۔
نعمت کدے کی گرینائٹ یا ماربل کی وہ سلیب جہاں گھر کے بچے، بڑے اوپر چڑھے، پاؤں لٹکائے آدھے سے زیادہ وقت پائے جاتے ہیں، وہ بھی اکثر و بیشتر معلوم ہوتا ہے کہ پتھر نہیں۔ براہ راست گرم ہانڈی رکھنا بھی نہیں جھیل سکتے۔ کجا کہ دودھ پیتے بچے ہمہ وقت وہاں بیٹھے، ماؤں کے ساتھ چپکے رہیں اور بڑوں کا بیٹھنا تو سوچیے بھی مت۔ پورا گناہ ہے۔
وہ جو ہالی ووڈ فلموں میں دکھاتے ہیں کہ لڑائی کے دوران سر دیوار پر لگتے ہی، یا گاڑی دیوار سے ٹکراتے ہی اگلی کئی دیواریں زمین بوس یا شہید تو وہ بالکل حقیقت ہے۔ طلبا کے اقامت خانے ہوں یا سرائے، ان میں بھی ’ڈورمز‘ کے نام پر یہی گتے کے کمرے ملتے ہیں۔ مجھے بھی پاکستان میں اپنی جامعہ کے ہاسٹل کی پہلی رات یاد آئی جو ان میں گزری تھی۔ لیکن وہ نہ تو اتنے آنکھوں کو حسین لگتے تھے نہ نفیس۔ بس بھورے رنگ کا بدصورت گتا ہی تھا۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بھلے گتے کے یہ گھر نازک ہوتے ہیں لیکن خوبصورتی سے بنے ہوتے ہیں۔ ترتیب، نفاست، ڈیزائن، رنگ روپ دیدہ زیب، پر کشش۔ عام طور پر گھر ہوں تو مخروطی برطانوی طرز کی لال چھتیں، باقی دروازے، دیواریں، سفید دودھیا۔ فرش یا لکڑی کے یا ٹائل نما۔ جن پر کسی چیز کو کھینچنے کے نشان نہیں پڑنے چاہیے۔ غسل خانے کے فرش اور دیواریں بالترتیب ٹائل نما کالی اور سفید۔ جس میں واش بیسن اور کموڈ والا حصہ خشک ہی رہے۔ ٹائل کی خاصیت نہیں کہ بہت پانی برداشت یا جذب کرے ورنہ دو ٹائلوں کے درمیان جڑا جوڑ پھٹے گا۔ بیرونی دیواریں یا ٹین یعنی لوہے کی چادر سے بنی ہوتی ہیں یا کسی بھی قسم کی سبز باڑیں۔ گھر کے تعمیر شدہ حصے کی باہر والی دیواریں شیشے کی، جو دروازے بھی ہیں اور کھڑکیاں بھی۔ ہاں فلیٹ ہوں تو چھتیں جدید طرز پر افقی اور سادہ بھی ملتی ہیں۔ دیواروں کے درمیان موصلیت یعنی انسولیشن موجود اور موٹائی ساڑھے چار انچ والی۔ نو انچ والی دیواریں بھول جائیں۔
اب اس سب کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ نہ گھر میں دھکم پیل، مار کٹائی کر کے دیوار کے ساتھ کسی کا سر پھوڑ سکتے ہیں نہ ٹکریں مار سکتے ہیں۔ نہ غصے میں بیلن اٹھا کر کسی پر پھینک سکتے ہیں نہ باورچی خانے کی سلیب پر ضرب لگا سکتے ہیں۔ نہ دل ہلکا کرنے کو کسی بھی جگہ ٹھکائی کر کے وقت گزار سکتے ہیں۔ نہ گھنٹوں پانی کی ٹونٹی چلا کر پورا غسل خانہ پانی پانی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ کسی حسینہ کا دل نہیں جو کسی بات پر رنجیدہ ہوا۔ خفگی کے بادلوں نے ڈھانپا یا دل آزاری کی ہوا لگی تو معذرت کے دو بولوں سے مان جائے۔ ایک لمس کی حرارت سے پگھل جائے۔ شرمندگی کی ایک تاثر سے زائل ہو جائے۔ یا بہت ہی ہوا تو کسی تحفے سے سب بھول جائے۔ یہ تو جناب آسٹریلیا کے گھر ہیں، ان کی نازکی کو ٹھیس پہنچانے کی قیمت آپ کی جیب پر کافی بھاری پڑے گی۔ اور آپ کے بطور رہائشی رہنے کے ریکارڈ پر بھی۔ اسی لیے عادت بدلیے، دل کی حسینہ کا خیال رکھئے تاکہ آسٹریلیا کے گھروں کے نخرے بھی اٹھا سکیں۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

