کہیں نظر سے گزرا تھا، کہ خوبصورتی ایک قیمتی اور نایاب چیز ہے ۔ خوبصورتی پانا اور سمیٹ کر رکھنا دو مشکل مراحل ہیں ،جبکہ بد صورتی آسانی اور تیزی سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ یہ بات سچ ہے کہ خوبصورتی ظاہری کی بجائے ہمارے ارد گرد بدنمائی، بے ترتیبی تیزی سے اور آسانی سے پھل پھول جاتی ہے ۔۔آج کل پنجاب کے دیگر شہروں کی طرح ہمارے شہر میں بھی ایک سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے کہ شہر کے خدوخال خوبصورت بنانے کے لئے سڑکوں سے بازاروں سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔۔
چند روز قبل تقریباً شام چار پانچ بجے کینٹ بازار جانے کا اتفاق ہوا جلدی جلدی قدم اٹھانا چاہے مگر چکی والی گلی جو کہ چکی کے نام سےمشہور ہے مگر یہاں اب زیادہ تر، جیولری، بٹن لیس، سلے ان سلے کپڑے دوپٹے اور بے شمار چھوٹی بڑی اشیاء کے سامان سے بھری دکانیں ہیں جو دکانیں کم اور ماچس کی ڈبیہ زیادہ ہیں جیسے ماچس کی ڈیبہ کو ذ را سا کھول دیں تو وہ کھل کی بڑی لگتی ہے بالکل ایسے ہی ان ڈبیوں کے باہر اضافی میزیں، پھٹے، ریڑھیاں سٹینڈ وغیرہ لگا کر سامان پھیلا کر کاروبار کیا جا رہا ہے ۔۔ اس نظام کو ہمیشہ سے ہر جگہ تجاوزات کہا جاتا ہے ۔۔ مگر ان تجاوزات کا خاتمہ نہ کبھی ہوا نہ اس کی امید ہے ۔۔ صرف ملتان کینٹ کے مین بازار، چکی والی گلی یا چوڑی والی گلی کی بات نہیں کررہے۔۔ یہ تجاوزات کا نظام تو ایک طرح سے فولادی نظام ہے ۔ پنجاب حکومت نے پیرافورس قائم کرکے پوری فورس لگادی ہے کہ ان تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔۔ مگر جناب! یہ ممکن ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ میں نے دیکھا کہ ایک بھاگ دوڑ کا سماں تھا چکی والی گلی میں صاف کشادہ گلی جہاں پہلے اس قدر برے حالات ہوتے تھے کہ ہمیں ضروری کام کی مجبوری کے سبب بھی وہاں سے گزرنا مشکل لگتا تھا۔۔مگر یہ کیا اتنی صفائی۔۔ماچسیں سب کی سب بند ۔ تاجر حضرات کے چیلےآگے بھاگ رہے تھے اور اعلان کررہے تھےآئی آئی پیرافورس کی گاڑی آئی یہ سن کر سب نے۔۔ تجاوزات ماچسوں میں بھردیں ۔۔ہماری چشم گنہگار نے دیکھا گاڑی میں چند پیرافورس کے اہلکار تھے جو گاڑی کے ذ ریعے دہشت قائم کرتے آگے مین روڈ پر نکل گئے۔۔پھر شور اٹھا پیرا فورس چلی گئی ، چلی گئی۔۔اور پھر ہم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دھڑا دھڑ ماچس کی ڈبیاں کھل گئیں۔
ہم جو بہت خوش تھے کہ سکون سے جس کام آئے ہیں وہ کرسکیں گے۔۔مگر شومئی قسمت کہ سب کچھ پہلے جیسا ہوگیا۔۔بس اتنا سا فرق ہوا کہ تاجر حضرات متحد ہوکر قہقہے لگا رہے تھے اور پیرا فورس کی شان میں قصیدے پڑھ رہے تھے۔۔قصیدے بھی بھانت بھانت کے لب ولہجے والے ہماری خوشی معدوم ہوگئی۔یہ ہی سوچتے ہوئے آگے بڑھے کہ ہمارے ہاں جائز کو ناجائز بنانا آسان اور ناجائز کو جائز بنانا مشکل ہی نہیں شاید ناممکن ہے ۔ بہرکیف! ہم دعا گو ہیں کہ ہماری قوم کو بدصورتی اور بے اصولی کبھی تو ناپسند ہوگی۔ کیونکہ فورسز بڑھانے سے بھی جو مسئلے حل نہیں ہورہے ضلعی ،شہری انتظامیہ کی لاکھ کوششوں کے باوجود ایک بدنما تجاوزات کا مسئلہ ہم حل نہیں کر پارہے۔ ہمارے ہاں صفائی ستھرائی کا مسلہ بھی ازلی ہے ۔ موجودہ صفائی کا نظام بہتر کرنے کا ارادہ تو بہت اچھا ہے مگر عملہ تو پرانا بگڑی عادتوں والا ھے۔ لاکھ کوشش بازپرس کے باوجود کئی کئی روز کوڑا اٹھانے والے خاکروب شکل نہیں دکھاتے۔۔بلکہ آنکھیں دکھاتے ہیں تو ایسی صورتحال میں بس دعا ہی کرسکتے ہیں۔اور اقبال کے ہم خیال ہوجاتے ہیں۔۔کہ۔۔پیوستہ رہ شجر سے،امید بہار رکھ۔۔

