گزشتہ ماہ 27 نومبر کی رات میں نے امی جان کے سرہانے جاگ کر گزاری تھی اور اسی شب رات گئے وہ ہمیں ہمیشہ کے لیےتنہا چھوڑ کر ابد کے سفر پر روانہ ہو گئیں ۔ تمام دکھوں سے آزاد ہو گئیں ۔ یوں تو ابھی اس زخم کو مندمل ہونے میں بہت وقت لگے گا اور ان کے بعد سے اب تک میں رات گئے تک جاگتا ہوں کہ جاگنا یوں بھی میرے معمولات کا حصہ لیکن آج کی شب مجھےان کی بے نظیر یادوں کے ساتھ جاگنا ہے کہ کل ستائیس دسمبر تھا ۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا دن جب اس بے نظیر لیڈر کو قتل کیا گیاجو ہم سب کے دلوں کی دھڑکن تھی ۔ یہ ’’ خوشبو کی شہادت ‘‘ کا دن تھا ۔ یہ دن تو ہم نے شہید بی بی کی یاد میں گزارا اور اب رات مجھے اپنی ماں کی بے نظیر یادوں کے سنگ گزارنی ہے کہ ہر بچے کے لیے اس کی ماں بے نظیر ہوتی ہے اور ہر ماں کے لیے اس کے بچے سب سے خوبصورت ہوتے ہیں ۔۔
امی جان کی بے نظیر بھٹو کے ساتھ بہت جذباتی وابستگی تھی ۔ صرف بے نظیر ہی نہیں وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بھی گرویدہ تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ 1977 کے عام انتخابات میں میرے دادا اور چچا تو پی این اے کے حامی تھے لیکن امی جان اور چچی جان ( طاہر اوپل کی والدہ ) نے تلوار کو ووٹ دیا تھا جو ان انتخابات میں بھٹو صاحب کا انتخابی نشان تھا ۔
پھر اپوزیشن کی طرف سے دھاندلی کا الزام لگا اور اسلام کے نام پر ’’ تحریک نظام مصطفیٰ شروع کر دی گئی ۔ جلاؤ گھیراؤ اور ہلاکتوں کے بعد پانچ جولائی 1977 کو جنرل ضیاء نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ۔ پہلے بھٹو صاحب کو گرفتارکیا گیا اور پھر پھانسی دے دی گئی ۔۔میں اس وقت ساتویں جماعت کا طالب علم تھا ۔ مجھے یاد ہے بھٹو کی پھانسی پر امی بہت آزردہ ہوئی تھیں ۔۔ آج کی طرح ان دنوں بھی بہت زیادہ سیاسی تقسیم تھی ۔ گھروں میں دھڑے بندی ہو چکی تھی ۔ خاندانوں میں الگ الگ سیاسی وابستگیاں تھیں ۔ بہت سے گھروں میں خواتین اور نوجوانوں کی اکثریت پیپلز پارٹی کی حامی تھی جب کہ مرد حضرات جن میں بزرگوں کی اکثریت تھی بھٹو کے مخالف تھے ۔ جب بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی تو ہمارے گھر میں ایک سناٹا طاری ہو گیا ۔ امی جان اورچچی جان بہت دل گرفتہ تھیں ۔ میرے ننھیال میں سب بھٹو صاحب کے حامی تھے اسی طرح چچی جان کے والدین اور بہن بھائی بھی جیالوں میں شمار ہوتے تھے
پھر ایک طویل دور جنرل ضیاءکاشروع ہوا ۔ ضیاءکو وہ سخت ناپسند کرتی تھیں کہ وہ ان کے لیڈر کا قاتل تھا ۔۔
1983 میں جب میں صحافت کے ساتھ منسلک ہو گیا تو پھر گھر میں اخبارات بھی آنے لگے ۔ اب امی جان کی مصروفیات میں اخبار کا مطالعہ بھی شامل ہو گیا ۔ وہ گھر کے کاموں سے فراغت کے بعد اخبارات کا مطالعہ کرتیں ۔ خبروں کے ساتھ ساتھ وہ کالم بھی بہت شوق سے پڑھتی تھیں ۔روزنامہ ’’ سنگِ میل ‘‘ اور پھر ’’ نوائے وقت اور ’’جنگ ‘‘ میں وہ میرے کالم اور فیچر سب سے پہلے پڑھتی تھیں ۔ اپنی تحریر اخبار میں سے تلاش کر کے ان کے سامنے رکھنا میرے فرائض میں شامل تھا ۔ میرے کسی تند و تیز سیاسی کالم کو پڑھ کر وہ سوچ میں پڑ جاتیں ۔ پھر مجھے اپنے پاس بلاتیں اور کہتیں
’’توں کیوں اینہاں دے خلاف لکھدا ایں ۔ اینہاں دا کجھ نئیں وگڑنا ، پر مینوں تے تیری فکر ای لگی رہندی اے ‘‘
(تم کیوں ان کے خلاف لکھتے ہو ۔ ان کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، لیکن مجھے تمہاری فکر لگی رہتی ہے ) ۔۔
اخبارات کےمطالعےنے انہیں سیاسی سوجھ بوجھ میں بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کےہم پلہ کر دیاتھا ۔ انہوں نے 2002 میں ہی چھوٹے بھائی عامر سے کہہ دیا تھا کہ چین اس خطے میں بہت اہم تبدیلیوں کا باعث بنےگا ۔
1988میں بشری رحمن کے اشاعتی ادارے وطن دوست سے منسلک ہونے کےبعد جب میں لاہور چلا گیا تو ان کے ساتھ خطوط کے ذریعے رابطہ رہا ۔ وہ بہت تفصیل سے مجھے خط لکھتیں اور جلدی جواب کا تقاضا کرتیں ۔ میں لاہور میں ہی تھا جب محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں ۔ بے نظیر بھٹو کے ساتھ جو مظالم روا رکھے گئے امی ان سے بخوبی واقف تھیں ۔ بے نظیر کی نظر بندی ۔ شدید گرمی میں ان کو سکھر جیل میں قید رکھنا ۔ نصرت بھٹو کا لاٹھی چارج میں زخمی ہونا ۔ یہ سب مظالم انہیں بہت دکھی کر دیتے تھے ۔۔ انہوں نے خود بھی بہت دکھ جھیلے تھے سو ان کی بے نظیر اور نصرت بھٹو کے ساتھ دکھ کی سانجھ ہو گئی ۔ وہ اکثر کہتی تھیں کہ ان ظالموں نے انہیں بھٹو کا چہرہ بھی نہیں دیکھنے دیا ۔
امی کا کتاب کے ساتھ بھی بہت مضبوط تعلق تھا ۔ میں اپنی ہر نئی کتاب ان کی خدمت میں پیش کرتا تھا ۔ وہ اسے حرف حرف پڑھتیں اور پھر مجھ سے اس پر بات بھی کرتیں ۔ ’’ رفتگانِ ملتان ‘‘ میں’’ پہلا جنازہ ‘‘ کے عنوان سے میں نےاپنے والد صاحب کی یاد میں جو مضون لکھا وہ اسے بار بار پڑھتیں ، بار بار روتیں اور بار بار میرے ہاتھ چومتی تھیں ۔۔ کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں سرِ ورق پر والد صاحب کی تصویر دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی تھیں ۔ 1983 میں روزنامہ سنگِ میل میں میرا ایک مزاحیہ کالم ’’ آہ رضی الدین رضی ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا ۔ امی نے اس کالم پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ۔ میں نے انہیں بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ امی یہ مزاحیہ کالم ہے ۔۔ آپ نے غلط سمجھا ہے ۔ لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی ۔
گھر میں چونکہ کتابوں کی بڑی بہت بڑی لائبریری ہے اور میں پہلے بتا چکا ہوں کہ امی جان کو مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ پہلے ’’ نوائے وقت کے زمانے میں اور پھر ’’ جنگ ‘‘ کے ساتھ وابستگی کے بعد میں ان کے لیے’’ اخبارِ جہاں‘‘ اور فیملی میگزین لے کر آتا تھا ۔ ’’ اخبارِ جہاں ‘‘ میں تین عورتیں تین کہانیاں ان کا پسندیدہ فیچر تھا ۔محترمہ بشریٰ رحمٰن اور مستنصر حسین تارڑ صاحب کی ناول اور سفر نامے بھی انہیں بہت پسند تھے ۔۔ ’’ شہاب نامہ ‘‘ اس لیے پسند آیا کہ اس کے آخر میں کچھ وظائف شامل تھے ۔ ۔۔ ویسے بھی انہیں ایوب خان کا زمانہ پسند تھا لیکن فاطمہ جناح کی شکست اور قتل پر دکھ کا اظہار کرتیں ۔۔
بے نظیر بھٹو کی خود نوشت Daughter of the East
کا ترجمہ ’’دخترِ مشرق ‘‘ انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھا تھا ۔۔ ہر مرتبہ پڑھ کر آنسو صاف کرتی تھیں ۔۔ اسی طرح بھٹو صاحب کے حوالے سے تمام کتب بھی ان کے زیرِ مطالعہ رہیں ۔بے نظیر کی خود نوشت پڑھنے کے انہوں نے مجھ سے بارہا اس کے مندرجات پر بات کی ۔۔
’’ ظالماں نے دھی نوں پیو دا منہہ وی نہیں ویکھن دتا ۔ بیڑہ غرق ہوئے ایناں دا ‘‘
( ظالموں نے بیٹی کو باپ کا منہہ بھی نہیں دیکھنے دیا ۔۔ بیڑہ غرق ہو ان کا ) ۔۔ بیڑے کا زمانہ تو بیت چکا تھا لیکن جب ظالموں کا طیارہ تباہ ہوا تو ان کا چہرہ بھی کوئی نہ دیکھ سکا تھا ۔۔ میں نے طیارے کی تباہی پر خوشی کا اظہار کیا تو امی نے مجھے روک دیا ۔۔ ’’ پتا نئیں کیہڑے کیہڑے مانواں دے لال اوہدے نال سن ‘‘ ( پتا نہیں ماؤں کے کون کون سے لعل اس کے ساتھ تھے ۔۔
مجھے یاد ہے کہ جب بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تھی میں اس روز لاہور میں تھا ۔ امی اور مامو ں ملتان میں ہی تھے ۔ میں نے فون پر روتے ہوئے امی کو یہ خبر سنائی تو امی ہچکیا ں لے کر رونے لگیں ۔۔ مکا دتا پورا خاندان ای مکا دتا ۔۔ ( ختم کر دیا ۔۔ پورا خاندان ہی ختم کر دیا ) بس یہی ایک جملہ وہ بار بار ادا کرتی تھیں ۔ گھر میں جاوید ماموں موجود تھے ۔۔ انہوں نے بعد میں مجھے بتایا کہ امی اس رات بہت روئی تھیں ۔ آج ان کی وفات کے ایک ماہ بعد بے نظیر بھٹو کی اٹھارویں برس پر اپنی یادیں ترتیب دیتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ امی نے جنت میں بے نظیر کو ضرور اپنے سینے سے لگایا ہو گا ، اور ان کا ماتھا بھی ضرور چوما ہو گا ۔۔
فیس بک کمینٹ

