تہران : ایران میں 2025 کے دوران سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد میں 2024 کے مقابلے میں تقریبا دو گنا اضافہ سامنے آیا ہے۔
ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس(آئی ایچ آر) نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دسمبر کے شروع تک رواں سال کم ازکم 1500 افراد کو سزائیں موت دی جا چکی ہے جبکہ اب تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اس تنظیم نے 975 افراد کو سزائے موت کی تصدیق کی تھی اس حوالے سے درست تعداد اس لیے کبھی واضح نہیں ہوپاتی کیونکہ ایرانی حکام سزائے موت کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کرتے۔
حالیہ یہ اعداد و شمار دیگر مانیٹرنگ گروپس کی رپورٹوں سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
ایرانی حکومت اس سے قبل بھی سزائے موت کے استعمال کے دفاع میں یہ دعویٰ کرتی ہے کہ یہ سزا صرف ’انتہائی سنگین جرائم‘ تک محدود ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں سزائے موت پانے والوں کے اعداد و شمار 2022 سے بڑھنا شروع ہوئے جب مہسا امینی کی زیر حراست موت کے بعد ملک بھر میں بڑے مظاہرے شروع ہوئے۔
اُس سال 22 سالہ کرد خاتون کو تہران میں اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر ’غلط طریقے سے حجاب پہننے‘ پر گرفتار کیا تھا۔ یہ احتجاجی تحریک ایران کی مذہبی قیادت کے جواز کے لیے کئی سالوں میں سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔
اس کے بعد حکام نے سزائے موت کی رفتار بڑھا دی جو 2022 میں تقریباً 520 تھی اور اگلے سال بڑھ کر 832 ہو گئی۔ کچھ سزائیں مظاہرین یا مبینہ جاسوسوں کو دی گئیں، لیکن 99 فیصد سزائیں قتل یا منشیات کے جرائم پر دی گئیں۔
سماجی کارکنوں کے مطابق ایران میں سزائے موت کی شرح اس وقت بڑھتی ہے جب حکومت کو خطرہ محسوس ہوتا ہے اور اس کا مقصد عوام میں خوف پیدا کر کے اندرونی مخالفت کو روکنا ہوتا ہے۔
یہ بات اس حقیقت سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور خطے میں ایران کے پراکسی گروپس کو بڑے نقصان کے بعد ایک اور بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
فیس بک کمینٹ

