پاکستان میں آن لائن فراڈ اب محض چند سادہ لوح افراد کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسا منظم، خاموش اور تیز رفتار جرم بن چکا ہے جو ریاستی رٹ، عدالتی نظام اور عوامی اعتماد تینوں کو بیک وقت چیلنج کر رہا ہے۔ رواں برس سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں ہونے والی لوٹ مار نے روایتی جرائم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس جرم کے پھیلاؤ کی رفتار کے مقابلے میں قانون، تفتیش اور انصاف کی رفتار کہیں سست نظر آتی ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم سے متعلق ایک لاکھ بیالیس ہزار سے زائد شکایات درج ہوئیں۔ یہ وہ شہری ہیں جنہوں نے ہمت کر کے قانونی فورمز سے رجوع کیا، جبکہ ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ اصل متاثرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ بدنامی، وقت کے ضیاع اور قانونی پیچیدگیوں کے خوف سے شکایت درج ہی نہیں کراتے۔ ان شکایات میں سب سے زیادہ تعداد آن لائن مالی فراڈ، جعلی کال سینٹرز، بینک اور ایزی پیسہ یا موبائل اکاؤنٹس کے نام پر دھوکہ دہی، جعلی سرمایہ کاری اسکیمز اور سوشل میڈیا ہیکنگ کی رہی، جنہوں نے عام شہری کو عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر دیا ہے۔
ان ہزاروں شکایات میں سے تقریباً چھبیس ہزار پر ابتدائی انکوائریاں کی گئیں، مگر قانونی تقاضے پورے نہ ہونے، شواہد کی کمی اور تکنیکی مسائل کے باعث صرف انیس سو پچپن مقدمات ہی باقاعدہ درج ہو سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی نظام کی کمزوری کھل کر سامنے آتی ہے۔ ڈیجیٹل فراڈ میں شواہد کا انحصار جدید فرانزک، ڈیٹا لاگز، آئی پی ایڈریسز اور بین الاقوامی ڈیٹا تک رسائی پر ہوتا ہے، جبکہ ہمارے بیشتر تحقیقاتی یونٹس آج بھی بنیادی سہولیات، جدید سافٹ ویئر اور تربیت یافتہ افرادی قوت سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔
مالی نقصان کے حوالے سے سرکاری اندازوں کے مطابق رواں برس آن لائن فراڈ کے نتیجے میں شہریوں کو دو سے تین ارب روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ رقم کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ پنشنرز، محنت کشوں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اہل خانہ، چھوٹے تاجروں اور متوسط طبقے کی جمع پونجی پر مشتمل ہے۔ کئی کیسز میں متاثرہ افراد اپنی زندگی بھر کی بچت چند منٹ کی فون کال یا ایک جعلی لنک کے ذریعے کھو بیٹھے، مگر انصاف کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے وہ ذہنی، مالی اور جسمانی طور پر اس قدر تھک چکے ہوتے ہیں کہ اکثر کیس کو آگے بڑھانے کی ہمت ہی نہیں کر پاتے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رواں برس مختلف کارروائیوں کے دوران دو ہزار چار سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا، جن میں جعلی کال سینٹرز کے ملازمین، آن لائن فراڈ نیٹ ورکس کے آپریٹرز اور سہولت کار شامل تھے۔ بظاہر یہ تعداد حوصلہ افزا لگتی ہے، مگر اصل سوال گرفتاری نہیں بلکہ انجام کا ہے۔ انہی گرفتار شدہ افراد میں سے صرف 33 کو عدالتوں سے سزا ہو سکی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا عدالتی اور پراسیکیوشن نظام سائبر کرائم جیسے جدید اور تکنیکی جرائم سے نمٹنے کے لیے ابھی تک پوری طرح تیار نہیں۔
پاکستان میں سائبر جرائم کے خلاف بنیادی قانون PECA Act 2016 ہے، جس میں آن لائن فراڈ، ڈیٹا چوری، ہیکنگ اور ڈیجیٹل جعلسازی کے لیے واضح سزائیں موجود ہیں۔ مسئلہ قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ عدالتوں میں تکنیکی شواہد پیش کرنے کے لیے ماہرین کی کمی، تفتیشی افسران کی ناکافی تربیت، ڈیجیٹل فرانزک رپورٹس میں تاخیر اور مقدمات کی غیر ضروری طوالت وہ عوامل ہیں جو مجرم کو فائدہ اور متاثرہ فرد کو مایوسی کی طرف دھکیلتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آن لائن فراڈ کے بیشتر کیسز میں ملزمان ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں اور کئی مرتبہ دوبارہ اسی جرم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ متاثرہ شہری کے لیے یہ صورتحال دوہری سزا کے مترادف ہوتی ہے: ایک طرف مالی نقصان، دوسری طرف انصاف نہ ملنے کا احساس۔ یہی وجہ ہے کہ آن لائن فراڈ اب صرف جرم نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات خاندانی نظام اور معاشی استحکام تک پھیلتے جا رہے ہیں۔
ریاستی ادارے اکثر عوامی آگاہی مہمات کا ذکر کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ جب تک قانون کا خوف اور فوری انصاف موجود نہیں ہوگا، صرف آگاہی کس حد تک کارگر ثابت ہو سکتی ہے؟ ڈیجیٹل دنیا میں مجرم چند سیکنڈ میں روپوش ہو جاتا ہے، جبکہ متاثرہ شخص برسوں فائلیں اٹھائے دفاتر، تھانوں اور عدالتوں کے چکر لگاتا رہتا ہے۔ یہ عدم توازن ہی دراصل آن لائن فراڈ کو فروغ دے رہا ہے اور مجرم کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اس جرم کا انجام زیادہ خطرناک نہیں۔
اگر آن لائن فراڈ کو واقعی روکنا ہے تو ضروری ہے کہ PECA ایکٹ کے تحت مقدمات کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں، ڈیجیٹل فرانزک لیبارٹریز کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کی خصوصی تربیت کی جائے، اور متاثرہ شہری کے لیے انصاف کا راستہ مختصر اور آسان بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکوں، موبائل کمپنیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داری بھی واضح کی جائے تاکہ فراڈ کی صورت میں فوری ردعمل ممکن ہو سکے۔
آن لائن دنیا میں ہونے والا یہ خاموش جرم اب ریاست کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہے۔ اگر یہ امتحان سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اعتماد کا یہ زخم محض ڈیجیٹل نہیں رہے گا بلکہ پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اور پھر نقصان صرف چند ارب روپے کا نہیں بلکہ معاشرتی اعتماد اور ریاستی ساکھ کا ہوگا۔

