اعزاز سیدکالملکھاری

اعزاز سید کا کالم : اپوزیشن کی کنفیوژن

آصف علی زرداری بولے، ’’میں نے فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے نکالا اور اختیارات صدر سے لے کر پارلیمنٹ کو دیے، ’ان کی‘ مخالفت کے باوجود اٹھارہویں ترمیم منظور کروائی، میرے خیال میں اب ہمیں مرکز میں عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا چاہئے۔ میں اس سلسلے میں جوڑ توڑ کر سکتا ہوں‘‘۔ جب آصف علی زرداری نے جمعرات 4 فروری کو مسلم لیگ ن سیکرٹریٹ میں اپوزیشن جماعتّوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اجلاس میں وڈیو لنک کے ذریعے یہ باتیں کیں تو اجلاس کی صدارت کرتے مولانا فضل الرحمٰن سمیت اکثر شرکا کے چہروں پر مایوسی کے بادل چھا گئے۔
وڈیولنک پر نظر آتے نواز شریف کا چہرہ بھی اتر گیا۔ اجلاس میں مریم نواز، بلاول بھٹو سمیت دو سابق وزرائے اعظم شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ رہنما شریک تھے۔
آصف علی زرداری کی گفتگو پر ردعمل میں مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی بولے، اگر ہم لانگ مارچ کی تاریخ بھی نہ دے سکے اور ماضی کے ناکام تجربے کی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد پیش کرنے جارہے ہیں تو پھر ہمیں اس حکومت کے خلاف تحریک پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لینا چاہئے۔ نوازشریف نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ ماضی کے تجربات کی روشنی میں بولے، تحریک عدم اعتماد میں کم اعداد ہوں یا اس تحریک کی حمایت اسٹیبلشمنٹ کرے مجھے دونوں قبول نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے سینیٹ انتخابات، قومی و صوبائی اسمبلیوں سمیت کسی میں کوئی دلچسپی نہیں، میں تو سمجھتا ہوں ہمیں سب فورمز سے استعفیٰ دینا چاہئے۔ تاہم میرے کچھ لوگوں کے خیال میں ہمیں سینیٹ میں حصہ لینا چاہئے اس لئے میں راضی ہوا ہوں۔حیران کن طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی نے بھی اجلاس میں جناب آصف علی زرداری کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کی۔
جمعیت علمائے پاکستان کے شاہ اویس نورانی نے بھی خوب گرہ لگائی پیپلز پارٹی کا نام لئے بغیر بولے کہ جن لوگوں کو گلگت بلتستان کے انتخابات میں آس لگوائی گئی تھی ان کا کیا بنا؟ آخر میں انہیں ناشتے کے لئے دو ابلے ہوئے انڈے بھی نہ ملے۔ اپوزیشن اجلاس میں کسی نے کچھ کہا تو نہیں مگر کم و بیش تمام جماعتیں پیپلزپارٹی کو شک کی نظر سے دیکھتی رہیں۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں تین باتیں طے ہوگئیں۔
اول: اپوزیشن جماعتیں ملکر سینیٹ انتخابات میں حصہ لیں گی لہذا سینیٹ کی حد تک کوئی آئینی بحران پیدا نہیں ہوگا۔ اعداد و شمار کی روشنی میں فی الحال حکمران جماعت تحریک انصاف کو سینیٹ انتخابات میں باقی جماعتوں پر عددی اکثریت حاصل ہوجائے گی لہذا حکومت کو سینیٹ میں قانون سازی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔
دوئم: اپوزیشن جماعتیں 26 مارچ کو اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گی مگر وہ اس بات پر کنفیوژ ہیں کہ انہیں دارالحکومت میں دھرنا دینا چاہئے بھی یا نہیں۔ تحریک انصاف کے دھرنے کا تجربہ موجود ہے کہ اگر حکومت کے اعصاب مضبوط ہوں تو اسٹیبلشمنٹ کی دھرنے کو حمایت کے باوجود بھی دھرنا کامیاب نہیں ہوسکتا۔ لہذا اپوزیشن کا لانگ مارچ قافلوں کے دو تین یوم میں اسلام آباد پہنچ کر ایک بڑا جلسہ کرنے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ حکومت گھر جائے گی نہ مرکز یا صوبوں میں کوئی تبدیلی آئے گی۔
سوئم: اپوزیشن جماعتیں ابھی تک یہ بنیادی فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں کہ ان کا اصل ہدف کون ہے۔ غیر جمہوری اسٹیبلشمنٹ یا تحریک انصاف کی عمران خان حکومت۔ مسلم لیگ ن کی قیادت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے تو پیپلزپارٹی کی قیادت عمران حکومت کے خلاف۔ مولانا فضل الرحمٰن عمران حکومت کو اسٹیبلشمنٹ سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں تو مریم نواز دونوں کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا معاملہ قرار دیتی ہیں۔ سمت مگر کسی کو معلوم نہیں اور اگر معلوم ہے بھی تو کوئی منزل پر متحد ہوکر چلنے کیلئے تیار نہیں۔
پاکستانی سیاست بھی عجب ہے یہاں جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں۔ اپوزیشن اتحاد کے مشترکہ فیصلے اپنی جگہ ہر جماعت کی طرف سے طاقتور حلقوں سے مک مکا یا ڈیل کرنے کی کوششیں بھی اپنی جگہ جاری ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہر جماعت اپنے مفادات کو ہاتھ میں لے کر اپنا بھاؤ تاؤ کرنے پر تیار ہے۔ مسلم لیگ ن کے بانی نوازشریف جلاوطن ہیں اور صدر میاں شہباز شریف گرفتار۔ شہباز شریف کی رہائی اور لیگی قیادت کی مقدمات سے جان خلاصی کے لئے راولپنڈی میں بیٹھے چوہدری نثار خاموشی سے کوششیں کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب شہبازشریف کی ایما پر ہو رہا ہے۔
اگر مسلم لیگ ن کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ایسی ڈیل ہوجائے جس میں مریم نواز کا مستقبل میں کوئی کردار نکل آئے تو ڈیل کروانے والے چوہدری نثار کی پارٹی میں باعزت واپسی بھی ممکن ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں کہیں کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے مگر پیشرفت ابھی کوئی نہیں ہوئی۔ ن لیگ کی طرح پیپلز پارٹی بھی فوری طور پر اپنے مقدمات سے جان چھڑانے کے لئے بھاؤ تاؤ کررہی ہے۔ کہیں پر کچھ انڈراسٹینڈنگ ہوچکی ہے۔ جسکا اشارہ قومی احتساب بیورو کی پیپلزپارٹی پر ہتھ ہولا رکھو کی پالیسی سے نظر آرہا ہے۔ پارٹی چاہتی ہے کہ ان کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس اسلام آباد سے سندھ میں انکے ہوم گراؤنڈ پر منتقل کر دئیے جائیں۔ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور نیب نے اس معاملے پر جو قانونی جواب تیار کیا ہے اس میں پیپلزپارٹی کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا گیا۔ جواب جب سپریم کورٹ میں جمع کرایا جائیگا تو سب کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے خلاف حکمت عملی پر کنفیوژن کی حکمرانی ہے۔ اپوزیشن جب تک جمہوریت اور آئین کی حتمی بالادستی کیلئے اپنے اہداف واضح نہیں کرے گی ناکام و نامراد ہوتی رہے گی اور طاقت کے اصل کھلاڑی اقتدار پر مسلسل قابض رہیں گے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker