پاکستان میں ممکنہ طور پر پیش ہونے والی ستائیسویں آئینی ترمیم کو ملکی آئینی تاریخ کا ایک نازک موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس ترمیم کا مکمل مسودہ ابھی تک سامنے نہیں آیا، مگر ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ اسے نومبر کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس مجوزہ ترمیم کے بارے میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے، کیونکہ اس کے اثرات عدلیہ کے ڈھانچے، صوبائی خودمختاری، اور عوامی حقوق پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے اختیارات میں بڑی تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت ایک نیا ادارہ ’’وفاقی آئینی عدالت‘‘ (Federal Constitutional Court) تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ عدالت آئینی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرے گی، جب کہ سپریم کورٹ کے عمومی دائرہ اختیار کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہوا تو اعلیٰ عدلیہ کی آزادی کو خطرہ لاحق ہو گا، اور وہ کردار جو اس نے آئین و قانون کے تحفظ میں ادا کیا ہے، بتدریج کمزور پڑ جائے گا۔ عوام کے لیے یہ ایک تشویش ناک صورتحال ہوگی، کیونکہ عدلیہ وہ واحد ادارہ ہے جس سے عام شہری انصاف کی آخری امید باندھتا ہے۔
اس ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری میں بھی کمی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو تعلیم، صحت، زراعت، اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جو اختیارات ملے تھے، ان میں کمی ممکن ہے۔ اگر صوبوں کے اختیارات دوبارہ وفاق کے زیرِ اثر آ گئے تو عوامی سطح پر کئی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ مقامی ضروریات کے مطابق فیصلے کرنے والے ادارے غیر مؤثر ہو جائیں گے، جس سے صحت، تعلیم اور بلدیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں کے عوام کے لیے اس کا اثر سب سے زیادہ محسوس کیا جائے گا۔
قانونی ماہرین اور بار کونسلز کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی اختیارات کو کم کر کے ایک نئے آئینی ادارے کے تحت لایا گیا تو عدلیہ کی خودمختاری متاثر ہو گی، اور حکومت کے فیصلوں پر عدالتی نظرِ ثانی محدود ہو جائے گی۔ اس صورت میں عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے طویل اور پیچیدہ راستوں سے گزرنا پڑے گا۔ کسی سرکاری ادارے کے خلاف شکایت یا ناانصافی کی صورت میں اگر سپریم کورٹ کا راستہ محدود ہوا تو انصاف کے دروازے عوام کے لیے مزید دور ہو جائیں گے۔
یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے عدالتی تقرریوں اور فیصلوں پر بالواسطہ حکومتی اثرات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ریاست کے تین بنیادی ستون — مقننہ، عدلیہ، اور انتظامیہ — کے درمیان موجود توازن بگڑ جائے گا۔ اس توازن کی خرابی قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہے۔
مزید یہ کہ ترمیم میں وفاق کو نئے صوبوں کے قیام یا موجودہ صوبوں کی حدود میں ردوبدل کے اختیارات دینے کی تجویز بھی زیرِ غور بتائی جا رہی ہے۔ یہ بظاہر ایک انتظامی قدم معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے سیاسی اثرات گہرے ہوں گے۔ اگر صوبائی نمائندوں سے مشاورت کے بغیر ایسے فیصلے کیے گئے تو علاقائی شناخت اور سیاسی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔
عوامی سطح پر اس ترمیم کے اثرات معاشی اور سماجی حوالے سے بھی قابلِ غور ہیں۔ جب عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہوتا ہے، تو سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار قانونی استحکام کے بغیر کاروبار نہیں کرتے، اور نتیجتاً ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے یہ صورتِ حال مزید مشکلات پیدا کرے گی کیونکہ انصاف اور سہولت دونوں کا حصول مشکل تر ہو جائے گا۔
یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر عدلیہ کی آزادی محدود کی گئی تو آزادیٔ اظہار اور شہری حقوق پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ میڈیا، وکلا اور سول سوسائٹی کے لیے حکومتی پالیسیوں پر تنقید یا احتساب کا عمل دشوار ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں عوامی آواز دب سکتی ہے، اور حکومت کے خلاف آئینی طور پر کارروائی کے امکانات محدود ہو جائیں گے۔
اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مجوزہ ترمیم پر قومی اسمبلی میں کھلی بحث ہو، عدلیہ اور بار کونسلوں کو اعتماد میں لیا جائے، اور عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ ان کی زندگی پر یہ تبدیلیاں کیسے اثر انداز ہوں گی۔ آئینی ترمیم کا مقصد ہمیشہ عوامی مفاد کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ طاقت کے ارتکاز کا۔ اگر یہ ترمیم واقعی نومبر کے پہلے ہفتے میں پیش کی جاتی ہے، تو اس کے اثرات صرف آئین کے صفحات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عوام کے روزمرہ مسائل، ان کے انصاف کے احساس، اور حکومتی اداروں پر اعتماد تک پھیل جائیں گے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر اسے شفافیت، انصاف اور مؤثریت کے فروغ کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ ایک مثبت سنگِ میل بنے گی، لیکن اگر اس کا مقصد ادارہ جاتی توازن کو کمزور کرنا ہوا، تو یہ عوامی جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن سکتی ہے۔ فیصلہ اب پارلیمان اور عوام دونوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ آئین کے مستقبل کے محافظ بنتے ہیں یا خاموش تماشائی۔
فیس بک کمینٹ

