ہمارے گھر کے عقب میں ایک تنگ گلی ہے، جہاں سے ٹھیلہ نہیں گزر سکتا۔ لہٰذہ وہ ٹھیلے والا ٹھیلہ پیچھے چھوڑ کر پیدل گلی میں آوازے لگاتا ہے کہ آلو لے لو، پیاز لے لو، فلاں لے لو وغیرہ وغیرہ۔ خریدار جو بیشتر ہاؤس وائفس ہیں، اُنہوں نے اندازہ لگا لیا کہ غریب ہے اور لالچی بھی۔ ویسے ہی جیسے ہمارے مقتدر طبقات ہیں جو اقتدار کی تنگ راہداری سے گزر کر بین الاقوامی خریداروں تک پہنچ کر آوازے لگاتے ہیں کہ ہمارے ملک کی فصلیں لے لو، ملیں لے لو، سرکاری ادارے لے لو، پی آئی اے لے لو، سٹیل مِلیں لے لو، تعلیمی ادارے لے لو وغیرہ تو یہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اپنی من مرضی کے بھاؤ پر خرید لیتے ہیں اور بدلے میں اپنی من مرضی کا معاشی نِظام اِن ’’مقتدر ٹھیلے والوں‘‘ کے ذریعے عوام پر مُسلط کر تے ہیں تو کہیں جا کر بیچارے جیسے تیسے اپنا گھر چلا پاتے ہیں۔
بہت مُشکل حالات ہیں بھائی۔ اِتنا بڑا پنجاب ہے اور اِتنا قلیل حصہ اُن کے رہنے کو مُیسٌر ہے۔ دنیا مریخ پر پہنچ گئی اور ان کے بچوں کے پاس آج بھی چھوٹے چھوٹے ذاتی ہیلی کاپٹرز اور پُرانے ذاتی ہوائی جہاز ہیں۔ صرف ان کا کیا اِن کے مقامی آقا بھی بہت بُرے حالات میں ہیں۔ کبھی کشمیر کا مسئلہ، کبھی بلوچستان کے فتنہ الخوارج کا۔نوے فیصد دہشت گردی تو کب کی ختم ہو گئی اور یہ بیچارے بقیہ کی دس فیصد سے آج تک نبرد آزما ہیں۔ اب اگر یہ جو کرتے ہیں نہ کریں تو کیا کریں؟ قوم کو ان کی مدد کرنی چاہیئے۔
اور یہ مدد کیسے ہو گی؟ ارے بھائی موٹر سائیکل یا ماں کی بالیاں بیچ کر بجلی کا بِل ادا کرو، آگے نجکاری کے نام پر واپڈا کو وہ خود بیچ لیں گے بلکہ بیچ چُکے ہیں۔ چوُلہا جلے نہ جلے مگر گیس کا بِل ادا کرو۔ خیر یہ فہرست خاصی طویِل ہے۔
تفنُنِ طبع کے لیئے عرض ہے کہ چند روز قبل ہماری پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہمارے چئیرمین پر اعتراض اُٹھا کہ اِمسال پری بجٹ اور پوسٹ بجٹ اِجلاس کیوں نہ ہوُئے؟ اِس سے پہلے کہ چئیرمین گویا ہوتے ایک صاحب کی آواز آئی کہ ’ساتھی، بغیر اعداد و شُمار کے تجزیہ کیونکر مُمکن تھا کہ واشنگٹن جہاں بجٹ بن رہا تھا، وہاں تک ہماری رسائی ہی نہیں۔ یوں بھی اُس وقت ہمارے چئیرمین سُلگتی دھوُپ میں گندم کی کٹائی کرتے ہوُئے عیش سے کسانوں میں عوامی جمہوُری انقلاب کا پرچار کر رہے تھے‘۔ اب کیا کیجے کہ اِن سندھ کے ہاریوں میں کام کرنے والے، یہ کراچی کی فیکٹریوں میں عوامی حقوْق کے لیئے جلسے کرنے والے، یہ کلرکوں اور نابینا افراد کے ساتھ مال روڈ پر لاٹھیاں سہنے والے فہم و فراست کو کیا جانیں!!! بس عیش کر رہے ہیں۔ یہ نالائق کیا جانیں کہ ’’بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیئے‘‘۔
یہ تو بھلا ہو ایک پڑھے لکھے دانشوراعلیٰ افسر کا جنہوں نے مُجھ نا چیز کو سرکٹ ہاؤس میں ’’عَیشایہ‘‘ پر بُلایا۔ صاحب، جانتا ہوُں کہ درست لفظ عِشایہ ہے۔ اُن بڑے صاحب نے ہمیں بتلایا تو ہماری آنکھیں کھُلیں بلکہ پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اصل الفاظ تو یاد نہیں مگر مفہوم تھا کہ۔۔۔
’’ٹھیکیدار کے نظام سے مراد وہ عمل، ٹولز اور حکمت عملی ہے جو آزاد ٹھیکیداروں کی مصروفیت اور کام کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جنہیں ہنگامی کارکن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک کاروبار کے ساتھ ٹھیکیدار کے تعلقات کے پورے لائف سائیکل کو گھیرے ہوئے ہے، ابتدائی آن بورڈنگ سے لے کر آف بورڈنگ تک۔ ان سسٹمز کا مقصد آپریشنز کو ہموار کرنا، ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانا، اور بیرونی لیبر کے استعمال سے وابستہ خطرات کو کم کرنا ہے‘‘۔ ہمیں حیرت اِس امر پر ہے کہ یہ سکرپٹ نہیں تھا بلکہ وہ ٹھیکیداری کی اِس تعریف پر ایِمانِ کاملہ رکھتے تھے۔
عادت سے مجبوُر ہم نے چند سوالات اُٹھائے۔ مثلاٌ یہ کہ پہلے آپ لوگ، یعنی آپ جِن کے پیامبر ہیں ۔۔۔۔ ہمیں ٹوک کر بولے ہم کسی جن یا بھوُت کے نہیں ۔۔۔ فہم و فراست رکھنے والے قائدین کے لوگ ہیں۔ پھر بے حد حقارت سے سوالات کی اجازت دی تو ہم نے پوُچھا کہ ۔۔۔
ایسا کیوں ہے کہ پہلے پرائیویٹ پبلِک پارٹنر شِپ کی جاتی ہے، پھر نجکاری اور آخری مرحلے پر کوئی سرمایہ دارادارے کا مالِک بن جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے ایجوکیشن فاونڈیشنوں کو پٹے پر دے دیئے جاتے ہیں اور یہ لیِز شیطان کی آنت کی طرح بڑھتی جاتی ہے۔ بڑے نجی تعلیمی اداروں کو چھوُٹ دی جاتی ہے جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں نہ مناسِب نِصاب ہے نہ اساتذہ۔ اسٹیل مِل کا کیا ہوُا، شپ بریکنگ کی صنعت دوبئی کیسے پہنچ گئی، ہیوی مکینکل کامپلیکس ٹیکسلا کِس مرض میں مبتلا ہو گیا، ٹیکسٹائل کیسے دھوُاں ہو گئی، گلی مُحلے کے اسکولوں سے لے کر مہنگے اسکول کھمبیوں کی طرح کِس کھاد سے اُگ آئے؟؟؟؟؟؟ 1980 کی دہائی تک لوگ نل کا یا ہینڈ پمپوں کا پانی پی سکتے تھے۔ یہ Water Contamination کا ذمہ دار کون سا طبقہ ہے؟ کیوں سب کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کا تیٌارکردہ پانی پڑ رہا ہے؟ کیا آپ اِس سرکٹ ہاوس کے نل کا پانی پینا پسند فرمائیں گے؟
سرکاری اداروں میں چند مزدوُر مستقل ہیں باقی یا تو کانٹریکٹ پر یا روزانہ اُجرت پر۔ یعنی مُلازموں کی آخری دو اِقسام کو نہ میڈیکل الاونس، نہ گریجوٹی اور نہ پنشن کا حق ہے۔ایک بھی چھُٹی نہیں۔ خوشی غمی میں ایک چھُٹی ہو جائے تو ٹھیکیدار ایک دِن کی تنخواہ کاٹ لیتے ہیں۔ ایسے میں ریاست کی کیا ضرورت ہے؟
بولے، دیکھو میں باہر سے پڑھ کر آیا ہوں۔ میں بتاتا ہوُں۔۔۔۔۔
’’اول تو ٹھیکیدار کا نظام تمام متعلقہ ٹھیکیدار کی معلومات، جیسے رابطے کی تفصیلات، قابلیت، اور تعمیل کے ریکارڈ کو ایک واحد، قابل رسائی ڈیٹا بیس میں یکجا کرتے ہیں۔ دوئم وہ کاروباروں کو مزدوری کے قوانین، حفاظتی ضوابط، اور ٹھیکیداروں کے استعمال سے متعلق تعمیل کے دیگر تقاضوں پر عمل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ پھِر آن بورڈنگ، ادائیگی کی کارروائی، اور کارکردگی سے باخبر رہنے جیسے کاموں کو خودکار بنا کر، یہ سسٹم انتظامی بوجھ اور ممکنہ طور پر کم لاگت کو مزید کم کر سکتے ہیں۔ وہ کاروبار اور اس کے ٹھیکیداروں کے درمیان مواصلات اور تعاون کو آسان بناتے ہیں، واضح توقعات اور موثر ورک فلو کو یقینی بناتے ہیں۔
فرمایا ۔۔۔ میں لندن سے پڑھ کر آیا ہوُں اور آپ کھیتوں، کھلیانوں اور کارخانوں میں آوارہ گردی کرنے والے کیا جانیں! کہاں سے پڑھے ہیں آپ؟ میں نے اپنی یونیورسٹی کا بتایا تو اُن کی رعونت ذرا کم ہوُئی اور کہا کہ میں بہت سے بااثر لوگوں کو جانتا ہوُں۔ کوئی کام ہو تو بلا جھِجک بتایئے گا۔ یہ میرا کارڈ ہے۔
میں قدرے توقف سے بولا کہ ایک کام تو ہے اور یوُں بھی بااثر لوگوں کی اطاعت اب آپ کا فرض ہی نہیں بلکہ عادت بلکہ سرِشت بن چُکی ہے تو ایک کام کروا دیجیئے۔ یہاں تجاوزات کے نام پر شہر میں جگہ جگہ ٹھیلے والوں کو دھکے مار کر بھگا دیا جاتا ہے۔ اُس سے اُن کو خاصا نُقصان ہوتا ہے۔ اِسے روک دیجیئے۔ باقی رہے وہ ٹھیلے والے جو بین الاقوامی منڈی میں ہماری محنت کش عوام کا خوُن بھی کشید کر کے بیچ آتے ہیں، اُنہیں عوام خود دیکھ لے گی۔ رخصت ہوتے ہوُئے میں اس کا کارڈ دروازے پر پھاڑ کر پھینک آیا اور کالم لکھنے بیٹھ گیا۔
’وہ اپنی خُو نہ بدلیں گے، ہم اپنی وضع کیوں بدلیں‘
فیس بک کمینٹ

