پہاڑوں میں رہنے والوں کے دل بھی شاید ان پتھروں جیسے ہو گئے ہیں جن پر ان کے گھر بنے ہیں۔ بلوچستان میں ایک بھائی نے اپنی بہن اور بہنوئی کو قتل کر دیا۔ الزام؟ بہن نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔ دلیل؟ غیرت!
افسوس، یہ غیرت نہیں، بے غیرتی کی وہ بدترین مثال ہے جو ہر روز ہمارے معاشرے کی قبر پر تازہ مٹی ڈالتی ہے۔ ہر بار جب کوئی بھائی اپنی بہن کو مار دیتا ہے، ہم تھوڑا اور مر جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قاتل بے خوف ہے، معاشرہ بے حس ہے، اور ریاست؟ وہ تو ایسے واقعات پر آنکھیں بند کر کے جیسے کسی عذاب کے گزرنے کا انتظار کر رہی ہو۔
گزشتہ برس صرف پاکستان میں 891 افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، جن میں سے 638 خواتین تھیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔ اور یہ صرف وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے۔ اصل تعداد؟ شاید ہم کبھی نہ جان سکیں۔ کیونکہ بہت سے کیس تو جرگے میں دب جاتے ہیں، کئی دیہی علاقوں میں پولیس تک پہنچ ہی نہیں پاتے، اور کئی رپورٹس بننے سے پہلے ہی قبر کی مٹی اوڑھ لیتے ہیں۔
بلوچستان کے اس بھائی نے اپنی بہن کو مارا، بہنوئی کو مارا، اور گرفتاری دینے کی بجائے فرار ہو گیا۔ اب یہ کیس بھی شاید باقی ہزاروں کی طرح "نامکمل انصاف” کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔ عدالتی نظام کی سست روی اور "معاف کر دیا گیا” کی روایت نے غیرت کے نام پر قتل کو ایسا قانونی تحفظ دیا ہے جو دنیا کے کسی مہذب ملک میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
حیرانی ہوتی ہے جب سننے کو ملتا ہے کہ صرف 12 فیصد کیس عدالت تک پہنچتے ہیں، اور ان میں بھی اکثر یا تو صلح کی نذر ہو جاتے ہیں یا ناکافی ثبوت کی بنیاد پر خارج۔ عدالتی نظام کی یہ کمزوریاں قاتل کے ہاتھ مضبوط کرتی ہیں، اور مقتول کی قبر پر جملہ لکھا جاتا ہے:
"قاتل آزاد ہے، مقتول بدنام”۔
اسلام کی تعلیمات کیا کہتی ہیں؟ کیا اسلام میں بہن، بیٹی یا عورت کو شک کی بنیاد پر قتل کرنے کی اجازت ہے؟ نہیں! قرآن سورۃ النور کی آیت نمبر 4 میں واضح الفاظ میں چار گواہوں کی شرط رکھی گئی ہے اور جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے 80 کوڑوں کی سزا۔ مگر یہاں تو صرف "غصہ” ہی کافی ہے، صرف "غیرت” کا لفظ بول دینا کافی ہے۔
اور ریاست؟ وہ ہر بار کاندھے اچکا کر خاموشی سے اپنے وجود پر کوڑے کھاتی ہے۔
2016 میں منظور کیے گئے قانون کے تحت غیرت کے نام پر قتل کو ناقابلِ راضی نامہ جرم قرار دیا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2016 سے 2023 تک غیرت کے نام پر قتل کے 304 مقدمات عدالتوں میں گئے اور صرف 14 مجرموں کو سزا ہوئی۔ یعنی باقی سب نے یا تو "صلح” کر لی، یا "ثبوت نہ ہونے” کا فائدہ اٹھا لیا۔ کیا یہ قانون کا مذاق نہیں؟ کیا یہ مقتول کی توہین نہیں؟
میڈیا کا کردار بھی کچھ کم مجرمانہ نہیں۔ دو دن یہ واقعہ "بریکنگ نیوز” کے طور پر چلتا ہے، پھر ایک اور دل دہلا دینے والی خبر اسے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ ٹرینڈز بنتے ہیں، چند آنسو بہتے ہیں، کچھ افسوس بھرے جملے لکھے جاتے ہیں، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔
قاتل آزاد، نظام بے بس، اور معاشرہ… مردہ۔
یہ سب کچھ صرف بلوچستان میں نہیں ہو رہا۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، اور بلوچستان – ہر صوبے میں، ہر سال سینکڑوں خواتین اپنی زندگی کی قیمت صرف اس لیے ادا کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی کی۔ یعنی اپنے وجود پر اختیار استعمال کیا۔
کیا یہی ہے ہمارا انصاف؟ کیا یہی ہے ہمارا قانون؟ کیا اسی ریاست کا وعدہ کیا تھا قائداعظم نے، جہاں ایک عورت کی زندگی اس کے بھائی، باپ، یا چچا کے "مزاج” پر منحصر ہو؟
اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے؟
سب سے پہلے، ہمیں اس رویے کو "غیرت” کہنا بند کرنا ہو گا۔ یہ قتل ہے۔ سیدھا، سچا، ننگا قتل! پھر قانون کو حرکت میں آنا ہوگا۔ ایسے کیسز کے لیے فوری سماعت کی عدالتیں بنائی جائیں۔ پولیس کی تربیت کی جائے کہ وہ ان کیسز کی سنجیدہ تفتیش کرے۔ اور سب سے بڑھ کر، قاتل کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، تاکہ کوئی اور بھائی، اپنی بہن کی سانس نہ چھینے۔ورنہ کل کسی اور شہر میں، کسی اور گھر میں، کوئی اور بہن قتل ہو گی۔ اور ہم پھر بھی کہیں گے: "غیرت کا معاملہ ہے، خاموش رہو”۔
نہیں! اب خاموشی نہیں، چیخ اٹھو!
فیس بک کمینٹ
#غیرت_کے_نام_پر_قتل #بلوچستان_خون_میں_ڈوبا #ریاست_کہاں_ہے #خواتین_کا_تحفظ #ریاستی_خاموشی #انصاف_دو #بلوچستان_کے_مظلوم #غیرت_کا_قتل_نہیں_ظلم_ہے #روایتی_انصاف_یا_ریاست #انسانی_حقوق_کی_خلاف_ورزی HonourKilling #BalochistanBleeds #JusticeForVictims #EndHonourKillings #StateSilent #WhereIsTheState #HumanRightsCrisis #ProtectOurWomen #TribalJusticeOrStateJustice #BalochistanInPain

