اسلام آباد:وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے امداد کی ضرورت ہے تاکہ تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی ہوسکے کیونکہ 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے متاثر ہونے کے زیادہ خطرات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موسم سرما آچکا ہے اور لاکھوں افراد کے پاس روزگار اور خیموں کی سہولیات میسر نہیں، بنیادی ضروریات کے لیے بچے اور خواتین ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، فنڈز ملے بغیر ہم انہیں بہتر مستقبل کی ضمانت نہیں دے سکتے، بڑی جھیلیں وجود میں آچکی ہیں، وہاں کی فصلوں سے لاکھوں افراد کے لیے خوراک کا بندوبست ہو سکتا تھا، مویشی انہیں شدید غربت سے بچا سکتی تھی۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیکڑوں پل اور 8 ہزار کلو میٹر تک سڑکیں تباہ شدہ ہیں، صحت عامہ کے مسائل کے حوالے سے بھی خدشات ہیں، پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں پھیل رہی ہیں، پانی کی نکاسی نہیں ہو رہی۔ان کا کہنا تھا کہ غیر معمولی چیلنج میں سپورٹ کرنے پر ہم اقوام متحدہ کی ایجنسز، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے شکر گزار ہیں، حالیہ تخمینوں کے مطابق 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے تمام تر دستیاب وسائل کا رخ سیلاب متاثرین اور بحالی کی طرف کر دیا ہے لیکن اس کے درمیان فرق بہت زیادہ ہے، اور اسے جلد ہی پورا کرنا ہوگا، اقوام متحدہ کی فلیش اپیل اور سیکریٹری جنرل اور ٹیم نے بھرور کوششیں کی ہیں لیکن لوگوں کو خوراک پہنچانے اور سر چھپانے کی جگہ دینے کے لیے اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ زندگی میں ایسے لمحات ہوتے ہیں جن کو بھولا نہیں جاسکتا، میرا پاکستان کا حالیہ دورہ بھی ایسے ہی لمحات میں سے ایک تھا، پاکستان میں میرے ملک کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ حصہ زیر آب تھا، سیلاب سے تباہی دیکھی، متاثرین کی زندگیوں میں دردناک اثرات دیکھے، اسی موقع پر پاکستانی عوام کی سخاوت، بہادری اور مزاحمت دیکھی، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں اور خواتین نے اپنی زمین، اپنے اثاثے چھوڑ کر دوسرے متاثرین کو ریسکیو کرنے کا فیصلہ کیا، سخاوت کی اس طرح کی مثالوں کی عالمی برادری کو بھی نقل کرنا چاہیے، عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر پاکستان کا تعاون کریں۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر تباہی کے حوالے سے کوئی شک ہے تو پاکستان کا دورہ کریں، وہاں پر نقصانات ہی نقصانات نظر آئیں گے اور اس کے لیے واضح روڈ میپ بنانے کی ضرورت ہے، مجھے امید ہے کہ پاکستان کو اس پیش رفت سے فائدہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ میں جی 20 ممالک سے مطالبہ کروں گا کہ وہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کے حوالے سے میکانزم بنائیں۔
قبل ازیں، وزیر اعظم شہبازشریف نے شرم الشیخ میں کلائمٹ امپلی منٹیشن سمٹ (ایس سی آئی ایس) میں شرکت کی، انہوں نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنا ترقی پذیر ممالک کے بس میں نہیں، عالمی برادری کو مل کر مشترکہ چارٹر بنانا ہوگا۔وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والی بڑی کانفرنس کے دوران شہباز شریف کی کئی حکومتوں کے سربراہوں سے ملاقات ہوئی، شہباز شریف نے ان ممالک کا پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کے جذبے کو سراہا۔

