ڈاکٹرعفان قیصرکالملکھاری

کورونا وائرس ،عید اور ہم۔۔گونج/ڈاکٹر عفان قیصر

میں ہسپتال موجود تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک ایسی خاتون تھیں جن کو جب دیکھتا ،ان میں زندگی کی امید جاگتی محسوس ہوتی۔ میں جوں ہی ا ن کے انتہائی نگہداشت وارڈ کے آئسولیشن کمرے میں داخل ہوتا وہ مجھے دیکھنا شروع کردیتیں کہ شاید میں آج اسے کوئی زندگی کی امید دینے آیا ہوں۔ ڈاکٹروں کی کوشش ہوتی کہ کوئی بات ان کے سامنے نہ کی جائے،وہ خاتون روتی تھیں، محسوس کرتی تھیں ،وہ ابھی جینا چاہتی تھیں اور زندگی تھی کہ ان سے دور بھاگ رہی تھی۔ ساٹھ سال عمر کی یہ مریضہ ملکہ جذبات جیسی تھیں۔ ہر چیز ان کے چہرے پر لکھی ہوتی۔ بطور ڈاکٹر یہ میری زندگی کا پہلا مریض تھا کہ جس کی صحت کا اندازہ میں رپورٹس سے زیادہ اس کے چہرے سے لگا لیا کرتا تھا۔ وہ کبھی بہت خوش ہوتی اور کبھی بہت زیادہ پریشان۔ میں گھنٹو ں ،ان کا چہرہ راﺅنڈ پر پڑھنے کی کوشش کرتا۔وہ کبھی اپنے بیٹوں سے ملنا چاہتی اور کبھی بیٹیوں سے، مگر یہ ملاقات بہت مشکل تھی۔ پہلا سچ تو یہ تھا وہ اندر آنا ہی نہیں چاہتے تھے،وہ گھبراتے تھے،ڈرتے تھے،سہم جاتے تھے اور پھر اتنی تیاری کے بعد ان میں سے کوئی اندر آبھی جاتا تو یہ خاتون جذباتی ہوکر ان کو پیار کرنا چاہتی تھیں جو ان کے لیے خطرناک ہوجاتا۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ،ان خاتون کا چھاتی کا ایکس رے خراب ہوتا گیا اور سچ پوچھیں تو ان کے چہرے کے تاثرات بھی، ایک وقت ایسا آیا کہ ہمیں انہیں مصنوعی سانس کی مشین پر ڈالنا تھا۔ میں پاس گیا ،ان کو میں نے جیسے ہی یہ الفاظ بولے کہ ہم آپ کو بے ہوش کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کو ہم مصنوعی سانس کی مشین پر ڈال سکیں،میں آپ کے ساتھ ہوں،آپ کی اولاد آپ کے ساتھ ہے،تو ان کے چہرے کے تاثرات شاید ایسے تھے کہ جیسے وہ کوئی سزائے موت کی قیدی ہو ،اور و ہ صبح آپہنچی جس کے خوف سے ان کی کئی راتوں کی نیند ،آنکھوں سے اوجھل تھی۔ جیسے میں کوئی تارا مسیح ،جو وینٹیلیٹر مشین پر نہیں،ان کے منہ پر کپڑا ڈال کر ،انہیں پھانسی گھاٹ پر لٹکانے آیا ہوں۔ میں کافی دیر ان کو سمجھاتا رہا ،اور وہ آنسوؤں سے میری بات سنتی رہیں۔ میں ڈاکٹر،یہ بات جانتا تھا کہ شاید جو میں کہہ رہا ہوں،اس میں سچائی بہت کم ہے ،اور جو وہ سمجھ رہی ہیں،وہی حقیقت ہے۔ وہ موت پڑھ چکی تھیں اور میں ان کی زندگی کا آخری جھوٹ بول رہا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا ،جب میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کے بیٹے یا بیٹی کو باہر سے بلوا دوں، انہوں نے ان سے ملنے سے انکار کردیا۔
وہ کچھ دیر میرا چہرا دیکھتی رہیں، پھر ان کی سانس بگڑنے لگی۔اس سے پہلے کہ میں ان کو سانس کی مشین پر منتقل کرتا ،ان کی دل کی لائنیں ای سی جی کی پٹی پر خراب ہونے لگیں،ان کے چہرے پر آنکھیں بند کرتے ہی ایک اطمینان تھا۔وہ تیز تیز سانس لینے لگیں۔میں نے فوری کوڈ کال کیا،مطلب ساتھی ڈاکٹروں کو بلایا کہ ہم سی پی آر کرسکیں،مطلب دل جو جھٹکوں سے واپس لا سکیں تو نرس نے میرے ہاتھ میں ان خاتون کا سائن کیا ہوا، ڈی این آر پکڑا دیا،یعنی مریض کی طرف سے یہ حکم نامہ کہ اگر وہ مرنے لگے تو اس کے لیے زیادہ کوشش نہ کی جائے۔یہ انہوں نے مجھ سے ملاقات سے پندرہ منٹ پہلے سائن کیا تھا۔وہ خاتون خود اپنی سی موت کی تیاری کررہی تھیں اور ہم ڈاکٹر زندگی کی جہد میں تھے۔ وہ مرگئیں،انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحے خود تحریر کیے،وہ وینٹیلیٹر پر جانے سے پہلے مرگئیں۔اس سے پہلے کے کورونا ان کو ہراتا،انہوں نے کورونا کو ہرا دیا۔کورونا شاید سسکیوں بھری موت کی کہانی لکھ رہا تھا،اور وہ زندگی کے انتظار میں اپنی سی موت آپ مر گئیں۔ یہ سب میری آنکھوں کے سامنے تھا۔
چند دن بعد عید تھی،لاک ڈاؤن ختم ہوچکا تھا،اور میں اکثر ٹی وی شوز پر غریب مر رہا ہے،کورونا کچھ نہیں جیسے الفاظ سن رہا تھااور میرے سامنے ان خاتون کے جذبات سے بھرے آخری ایام تھے۔ عید کی شاپنگ میں مشغول لوگ،اگر شاید میرے ساتھ ان خاتون کے آئی سی یو میں پانچ منٹ بھی گزار لیتے تو شاید، وہ عید کا نام بھی بھول جاتے،پانی سے روٹی کھالیتے،مگر غربت کا نام نہ لیتے۔پاکستان میں اس وقت کورونا کے کل کیسز کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ صرف یکم اکیس مئی کو 3300 نئے کیس سامنے آئے ہیں، ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک ہزار سے زائد ہے ۔پاکستان میں کورونا وائرس اپنی شدت کی طرف سفر کررہا ہے اور یہ شدت اٹلی،فرانس ،وہان سے زیادہ بھیانک ہوسکتی ہے۔
ایک ایسا ملک جس کا صحت کا نظام ،آبادی کے تناسب سے پہلے ہی بدترین مشکلات کا شکار ہو،جہاں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے دن بھر محنت مشقت کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہوں،وہاں اگر کورونا وائرس پھیلا تو کیا تباہی آئے گی۔ میرے سامنے ایسے الفاظ گونجنے لگتے کہ کورونا وائرس کچھ نہیں ہے ،یہ سب ڈرامہ تو مجھے آئی سی یو کے بیڈ پر زندگی کو ترستی وہ خاتون یاد آنے لگ جاتیں کہ جو اپنے آخری وقت زندگی کے دو لمحوں کو ترس رہی تھیں۔ پھر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا کہ یہ الفاظ ادا کرنے والے اصل میں ہیں کون، شاید ایک ہجوم کہ آج بھی جھوٹے پیروں کی کرامات پر یقین رکھتا ہے، جو نیم حکیموں،عطائیوں اور پہلوانوں سے پہلے علاج کراتا ہے اور پھر اسے گلی کے کسی کونے پر بیٹھا ڈاکٹر یاد آجاتا ہے،جو کسی سڑک کنارے بیٹھے دندان ساز سے دانت ٹھیک کروا کر خوش ہوجاتا۔وہ ہجوم جو جعلی بابوں، پیسہ ڈبل کرنے والوں اور پرائز بانڈ کے نمبر نکالنے والوں کے پیچھے زندگی نکال دیتا ہے، جو آج بھی کسی دائی سے بچہ ڈیلیور کرانے کو اپنی صحت کی سب سے بڑی عیاشی سمجھتا ہے،جو گوشت کے نام پر گدھے،کتے سب کھا جاتا ہے۔ جو پانی ،آٹا،دودھ سب میں ملاوٹ کو ،معاشرے کی اصل سمجھ لیتا ہے۔وہ ہجوم جو کئی سال وڈیروں، جاگیرداروں،آمروں کے ہاتھوں یرغمال ہوتا آیا ہے۔
اس ہجوم کی نظر میں جو کورونا کی حقیقت ہے،وہ شاید اس آئی سی یو میں پڑی خاتون سے بہت مختلف ہے۔یہ سیانا ہجوم ہے جن کی نظر میں کورونا آج بھی یہودیوں اور گوروں کی اسلام کے خلاف ایک سازش ہے۔اگر تھوڑا سا ان خیالات سے زاویے بدل بھی لیں تو بھی کورونا حقیقت اس لیے نہیں ہے کہ ان کے کسی جاننے والے کو یہ نہیں ہوا،یا مرنا تو ایک دن سب کوہے، جو رات قبر میں لکھی ہے،وہ باہر نہیں آسکتی،ہمیں کچھ نہیں ہوگا جیسی دلیلیں۔ عید قریب تھی اور لوگ گھروں میں لاک ڈاؤن کی شدت سے تنگ آچکے تھے۔ لاک ڈاؤن بھی پاکستان میں اس نوعیت کی شدت کا نہیں ہوا ، مگر جو بھی ہوا،لوگ گھروں میں قید رہے اور تنگ آگئے۔ پھر وہی ہجوم سوچ ،ادھر لاک ڈاؤن میں مکمل نرمی اور ساتھ ہی شاپنگ مالز کا کھل جانا۔ حیرت کی بات تھی کہ ایک طرف جب ملک میں چالیس پچاس کیسز تھے،تو خوف کا عجب عالم تھا، رات دو دو گھنٹے اذانیں دی جارہی تھیں اور اب جب پچاس ہزار کیسز ہیں تو رش ہے کہ قابو میں نہیں آرہا۔ یہ رش فاقے کرتے غریبوں کا نہیں ،بلکہ ان امراءکا ہے کہ جنہوں نے شاید ایک دو ماہ سے نئے کپڑے نہیں پہنے،کسی مہنگے برانڈ کے جوتے ،گھڑی یا موبائیل نہیں خریدا ۔یا پھر ان کا ہے کہ جن کو کسی مہنگے مہنگے ریستوران سے کھانا کھائے،دو تین ماہ گزر گئے۔ اسی رش میں کہیں وہ غریب بھی ہے جو روٹی کے لیے باہر آرہا ہے۔ مگر یہ سب آج کورونا وائرس کے اس خوف یا وحشت کا شکار نہیں ہیں جو اس وائرس کی بدترین اصل حقیقت ہے۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ عید کے بعد یاں تو حکومت کو اپنے رویے میں پھر سے سختی لانا ہوگی یا عوام کو اس وائرس اور اس کی ہولناکی کو سمجھتے ہوئے احتیاط کرنے ہوگی۔
ہم میں ہر کسی نے آئی سی یو والی ان خاتون کا جذبات سے بھرا چہرا نہیں دیکھا،جو میں نے دیکھ رکھا ہے۔کورونا وائرس ایک تلخ حقیقت ہے اور اس سے آئی موت بدترین موت ہے،ہمیں اس وائرس کے ساتھ جینا ہے اور ہمیں احتیاط کرنا ہوگی۔آخر میں اتنا ہی۔
مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی
شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker