حجام دنیا کی وہ مخلوق ہے جس کے سامنے سبھی سرجھکا کر بیٹھتے ہیں آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ حجام کی دکان واحد جگہ ہے جہاں دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات زیربحث آتے ہیں۔
حالیہ دنوں آنے والی وباءکے پیش نظرجہاں دوسرے کاروبار بند کردیئے گئے وہیں پرحجاموں کے سیلون اور بیوٹی پارلر بھی بند کردیئے گئے جس کی وجہ سے مردوں اور عورتوں کو یکساں طوپر کوفت کا شکارہوناپڑا۔بیوٹی پارلر بند ہونے کی وجہ سے گھربیٹھی خواتین کی داڑھی اورمونچھیں نکلنا شروع ہوگئیں وہ بچے جوچند دن پہلے تک مما،آنٹی کیا کرتے تھے اب اس شش وپنج میں مبتلا ہیں کہ وہ انہیں انکل کہیں یا صوفی صاحب اسی تذبذب میں بچے بے دھیانی میں کسی مردانہ رشتہ سے پکارتےبھی نظرآئے ۔
آج کئی روز بعد جب آئینہ دیکھا تو لگا کہ سر پر عجیب جھاڑیاں سی اگی ہوئی ہیں ۔لاک ڈاﺅن میں چونکہ حجام کی دکانیں بند تھی سوگھرپر ہی آڑھی ترچھی شیو بنا کر گزارا کررہے تھے آج سوچا کہ حجام کی دکانیں کھل گئی ہیں وہاں جا کر ذرا زلفیں سنوارلی جائیں اور حجام کی دکان پہ جا پہنچا تودیکھا کہ وہاں پہلے ہی کافی رش تھاہرایک وہاں کورونا پربحث کررہاتھا ۔ہرکسی کے پاس اپنی اپنی دلیلیں تھیں ہرایک اپنے آپ کو سائنسدان ثابت کرنے پرتلا ہواتھا ۔
خیرمیری باری آئی تومیں چپ چاپ گردن جھکا کہ حجام کی اونچی کرسی پر بڑی شان سے بیٹھ گیا جیسے کوئی وزیراعظم کی کرسی ہو ۔میں آنکھیں بند کیے اسی سپنے میں کھو گیا کہ میں واقعی وزیراعظم بن گیا ہوں مگرمجھے جیسے ہی یاد آیا کہ ایک بارکسی نے کہا تھا کہ انٹرنیٹ گوگل پر ” Bhikari“لکھواور دیکھو کیا آتا ہے میں نے لکھا تو میرے اوسان خطا ہوگئے وہاں تو میرے ملک کے وزیراعظم کا نام تحریر تھا میں نے سوچا کہ اگر اس طرح میرانا م ایسے آئے تو کیا بات ہے۔”جو بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا “ کے مصداق اسی سوچ میں ڈوبے اپنے اس خیال کودماغ سے جھٹک دیا۔اسی دوران افضل حجام نے مجھے پکارا اورکہا کہ یہ کورونا تو چین سے آیا ہے اور آپ کوپتہ ہے چین والے ہرجانور کھاجاتے ہیں ۔اس پر اس نے ایک اوربات کی کہ یہ چین والے یاجوج ماجوج کی نسل میں سے ہیں ۔ اس نے مجھ سے پوچھا یہ کورونا کہاں ملے گا اگر مجھے کورونا مل گیا تو اس کی ایسی حجامت بناﺅں گا کہ ساری زندگی یادرکھے گا اورپھرکبھی آدنیا میں۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

