میاں چنوں : میا ں چنوں کے نواحی علاقے تلمبہ میں 17موڑ کے نزدیک مشتعل ہجوم نے نامعلوم شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اس کی لاش درخت کے ساتھ لٹکا دی ۔ مقتول پر الزام ہے کہ اس نے قرآن پاک کے اوراق کو آگ لگائی تھی ۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ شخص دن بھر شہر میں بھیک مانگتا تھا ۔ مغرب کے وقت لوگ نماز پڑھنے مسجد آئے تو جلنے کی بو آ رہی تھی لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔ ڈی ایس پی میاں چنوں ناصر ثاقب کے مطابق مشتعل افراد نےنعش کو درخت سے لٹکا دیا درخت پر لٹکی لاش کو بھی پتھر مارتے رہے ۔ مشتعل ہجوم کا نعش پولیس کے حوالے کرنے سے انکار پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ گئی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایس پی ناصر ثاقب کا کہنا تھا کہ قبل از وقت کچھ بھی کہنا مناسب نہیں کہ یہ شخص کون تھا ،دماغی توازن ٹھیک تھا یا کہ نہیں یہ بات کنفرم ہے کہ مرنے والا شخص تلمبہ کا رہائشی نہیں مشتعل افراد میں لاش کو تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں جلد اصل حقائق سامنے لے آئیں گے ۔
دریں اثنا حافظ محمد طاهر محمود اشرفى نے تلمبه ميں ہونے والا افسوسناک واقعه کوقابل مذمت اور درندگى قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ كسى بھى شخص كو غير قانونى طور پر قتل كرنا قابل قبول نہیں ہو سكتا۔
ایس ایچ او تھانہ تلمبہ منور حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تلمبہ کے نواحی گاؤں ایٹ بی آر میں شام کے وقت پولیس کو اطلاع ملی کہ مشتعل ہجوم نے ایک شخص کو درخت سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ موقعے پر دم توڑ گیا۔
واقعے کے ایک عینی شاہد بابا رمضان نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ انہوں نے ایک مسجد اور مدرسہ بنا رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کام سے تھانے گئے تو ان کے بیٹے نے فون کیا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور سپاروں کو آگ لگا دی۔
’میں جب وہاں پہنچا تو دھواں ہی دھواں تھا۔ میں نے پولیس کے ساتھ مل کر اس شخص کو اندر بند کردیا تاکہ لوگ تشدد نہ کریں۔’تاہم دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے اور دروازے توڑ کر اس شخص کو باہر نکال کر لے گئے اور درخت سے باندھ کا تشدد کانشانہ بنانا شروع کر دیا جس سے وہ موقعے پر ہی دم توڑ گیا۔‘
بابا رمضان کے بقول ایس ایچ او اور پولیس اہلکار بھی ان کے ساتھ موجود تھے جب ہجوم نے اس شخص پر تشدد کیا۔’ہمارے روکنے پر بھی وہ باز نہ آئے اس شخص کا تعلق اس علاقے سے نہیں نہ ہم اسے جانتے ہیں۔‘
ایس ایچ او منور حسین کے بقول جب پولیس موقعے پر پہنچی تو تشدد کرنے والے تمام افراد وہاں سے فرار ہوگئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ عینی شاہدین کے مطابق اس شخص کو قرآنی آیات کی بے حرمتی کے الزام میں تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔
انہوں نے کہا کہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی گئی ہے تاکہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ایس ایچ او کے مطابق شکل اور حلیے سے مقتول ذہنی معذور دکھائی دیتا ہے اور اس کی عمر 50 سال سے زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس تشدد کرنے والوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے، جس کے لیے واقعے کی وقت بنائی گئی ویڈیو حاصل کر لی گئی۔منور حسین نے کہا کہ مقدمہ درج کر لیا جائے گا لیکن ’ہماری کوشش ہے ملزموں کو پکڑنے کے بعد نامزد ایف آئی آر درج کی جائے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ مقتول کے لواحقین کی تلاش جاری ہے تاکہ انہیں مقدمے کا مدعی بنایا جائے، اگر کوئی نہ ملا تو پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لے کر آئی جی پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی۔انہوں نے واقعے میں ملوث ملزموں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔
آئی جی پنجاب آفس کے مطابق مقتول کی شناخت کے لیے معلومات جمع کی جارہی ہیں اور جلد ہی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔واضع رہے کہ گذشتہ دسمبر میں سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مقامی فیکٹری کے ملازم پریانتھا کمارا پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے تشدد کر کے قتل اور ان کی لاش نذرِ آتش کردی تھی۔

