پاکستان خطرناک حد تک قطبیت کا شکار ہے ۔ پاکستانی کسی کرشماتی رہنما کے یا تو جذباتی حامی ہیں یا اندھے مخالف۔ حامی اُس رہنما کو ملک کے ہر دکھ درد کا مسیحا قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے مجسم تباہی دیکھتے ہیں۔ معاشرے میں تقسیم کی اور بھی نازک لکیریں ہیں، خاص طور اُن کے درمیان جو سویلین بالا دستی کی تگ و دو کرتے ہیں، اور وہ جن کیلئے فوج کا وسیع تر کردار قابل قبول ہے ۔
مزید برآں، دیرینہ نظریاتی تقسیم بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔ اس لکیر کے ایک طرف وہ دھڑے ہیں جو ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں۔ وہ نظام جو اُن کے مخصوص مسلک کی تشریحات کے مطابق ہو۔ دوسری طرف وہ ہیں جو ملک کو مسلمانوں کیلئے روادارانہ سوچ کی حامل ایک معمول کی جمہوریہ بنانے کے خواہشمند ہیں۔ برس ہا برس سے پاکستان کے صوبوں کے درمیان اور ان کے اندر بھی فالٹ لائنز موجود ہیں۔ اس طرح امیر اور غریب طبقات کے درمیان بھی خلیج حائل ہے۔ تقسیم کی ان لکیروں کے ہوتے ہوئے پاکستان ان طاقتوں کے سامنے اپنے پہلے سے ہی کمزور جمہوری بھرم کو کس طرح قائم رکھ سکتا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ سیاسی کھیل کے اصول از سرنو تحریر کئے جائیں؟
آخری مرتبہ ملک 1977ء میں اس قسم کی قطبی تقسیم کا شکار ہوا تھا۔ پھر مارچ 1977ء کے عام انتخابات کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین انتخابی دھاندلی پر احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے اور اُن کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہروں میں شدت آگئی اور وہ پر تشدد ہوتے ہوئے اسلامی تحریک میں بدل گئے جس کے نتیجے میں ضیاالحق نے ملک میں مارشل لا لگا دیا۔
اس کے بعد ’’نظام مصطفی‘‘ کے عوامی مطالبے کی آڑ میں ضیا الحق اگلے دس سال تک اقتدار پر براجمان رہے۔ دعویٰ کیا کہ وہ ملک کے سیاسی اور قانونی نظام کو اسلام کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ لیکن اقتدار میں اُن کے شروع کے دو یا تین برسوں میں یہ نکتہ کھل کر سامنے آگیا کہ کس طرح سیاسی عدم موافقت آمریت کی راہ ہموار کرتی ہے۔ پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کے پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے ملک میں کاروبار زندگی کئی ماہ تک جمود کا شکار رہا۔ ضیا کی دلیل تھی کہ پاکستان کو سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے سانس لینے کی گنجائش نکالنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے الفاظ میں فوج ملکی امور کا عارضی بنیادوں پر بندوبست کررہی تھی تاکہ اتنی دیر میں سیاسی پارہ قابل برداشت حد تک نیچے آجائے ۔
بے شک 1977ء کے بعد سے پاکستان میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ افراد یہ دلیل ارزاں کریں کہ جو کچھ چھیالیس سال پہلے ہوا تھا، اب دوبارہ نہیں ہوسکتا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے آج ماحول کو بہت بدل دیا ہے ۔ اسی طرح ملک میں یہ سوچ بھی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے کہ کیا فوج ہی ملک کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی حتمی قوت ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ افراتفری اور قطبیت کے ہوتے ہوئے فوج کو سیاست سے الگ رکھنا ممکن نہیں۔ درحقیقت سویلین اداروں کی کارکردگی دکھانے اور سیاست دانوں میں سمجھوتا کرنے میں ناکامی ہی فوج کے سیاست میں وسیع تر کردار کی راہ ہموار کرتی ہے ۔
یہ کہنا کہ قطبیت سے جمہوریت کو خطرہ ہے، چاہے اس سے کسی ایک سیاستدان کی مقبولیت میں اضافہ ہو، کا مطلب جمہوریت کی مکمل تباہی کی خواہش کرنا نہیں۔ لیکن یہاں اس قدیم دانائی کو یاد رکھنا ضروری ہے جو جمہوریت کو ایک ایسے نظام کے طور پر بیان کرتی ہے جس میں’’ اکثریت کے پاس اپنے راستے پرچلنے، اور اقلیت کے پاس اپنی بات کہنے‘‘ کاحق ہوتا ہے ۔ لیکن اگر اکثریت اقلیت کو بات کرنے کا حق دینے کی روادار نہیں، جیسا کہ پاکستان میں اکثر ہوتا رہا ہے، تو یہ جمہوریت کی نصف روح کی موت کے مترادف ہے ۔ ایک بار جب اقلیت کوئی ایسا طریقہ اپنا لیتی ہے جو اسے اکثریت کے حق سے محروم رکھے جانے پر اپنا ایک راستہ نکال لینے کے قابل بناتا ہے تواس مقام پر جمہوریت دم توڑ جاتی ہے۔ آج پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کے دونوں پہلو دکھائی دے رہے ہیں۔
جمہوریت کو حزبِ اختلاف کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کی۔ فی الحال پاکستان میں ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ عدلیہ تنازعات حل کرنے سے قاصر ہے کیونکہ وہ بھی تقسیم کا شکار ہے اور کئی دہائیوں سے سیاست زدہ ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ حالیہ پیشرفت نے زیادہ سے زیادہ ایک طویل ہائبرڈ حکمرانی یابدترین ماورائے آئین مداخلت کی راہ ہموار کی ہے۔ بہرحال، قطبیت زدہ ماحول کی وجہ سے مکمل جمہوریت کا امکان غیر معینہ مدت کے لیے سرد خانے میں ڈالا جا چکا۔
ایک سیاسی نظام کے طور پر جمہوریت مفاہمت اور باہمی احترام کے ماحول میں بہترین کام کرتی ہے۔ اس کیلئے کھیل کی اخلاقیات کی پاسداری درکار ہے۔ بہت سی جماعتیں اور افراد عوامی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں، جیتنے والے حکومت بناتے ہیں، اور ہارنے والے اپوزیشن میں بیٹھتے ہیں، لیکن صرف ایک مخصوص مدت کیلئے۔ بدقسمتی سے پاکستانی سیاست جنگی اصول کے تحت کام کرتی ہے۔ ایک فریق دوسرے کو فتح کرنےکیلئے میدان میں آتا ہے ۔ اس جنگ میں ہارنے والے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔
اقتدار کیلئے جمہوریت کے کھیل میں عوام کے جذبات بھڑکا کر ووٹ لینے کی بجائے ان کے سامنے پالیسی تصورات رکھے جائیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک فریق امیروں پر زیادہ ٹیکس لگانا چاہتا ہے اور دوسرا معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے طریقے کے طور پر ٹیکسوں میں کمی چاہتا ہے تو سمجھوتے اور گفت و شنید کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ لیکن اگر سیاسی اداکار سیاست کو اچھائی اور برائی کے درمیان جنگ کا رنگ دے دیں، جس میں وہ اچھائی اور فریق مخالف برائی کی نمائندگی کرتا ہے، تو اختلافات ناقابل مصالحت ہو جاتے ہیں۔پاکستان کے سیاسی میدان میں حق و باطل کے درمیان محاذ آرائی کے مذہب سے اخذ کردہ تصور نے مفاہمت کو ناممکن بنا دیا ہے۔ اس تصادم میں جمہوری سمجھوتےکیلئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لیکن تباہی کی طرف موجودہ گراوٹ سے بچاؤ ممکن ہے۔ اس کیلئے وسیع تر سودے بازی درکار ہے جس میں تمام سیاسی قوتیں اور طاقتور فوج شامل ہو، اور یہ مفاہمت آئینی جمہوریت کو مضبوط کر سکتی ہے۔
اس سمجھوتے میں تین اہم شعبوں یعنی معاشیات، خارجہ تعلقات اور قومی سلامتی پر کچھ اتفاق رائے اور کھیل کے سیاسی اصولوں پر معاہدہ شامل ہو۔ سیاست دانوں کو ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے خفیہ سودے بازی تلاش کرنے کے بجائے ایک دوسرے کیساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ دوسری طرف کسی کو جلسوں میں ’’غدار‘‘ ’’بدمعاش‘‘ ’’چور‘‘ یا ’’ڈاکو‘‘ کہنے کی بجائے پارلیمنٹ کے اندر خطاب کا انداز تبدیل ہونا چاہئے۔ محاذ آرائی اورقطبیت کی جگہ تعاون کی راہ نکالنا ہوگی۔ لیکن کیا تباہی کے منڈلاتے ہوئے خطرے سے بچنے کیلئےپاکستانی جمہوریت یہ سب کچھ جلداز جلد کرپائے گی ؟
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

