ملتان : مہنگائی اور بجلی کے زائد بلوں کے خلاف تاجروں کی جانب سے آج ملتان سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔اور شہرکے تمام کاروباری مراکز بند رہے ۔
کراچی میں جماعت اسلامی کی اپیل پر ہڑتال اور احتجاج کے سبب مختلف علاقوں میں اہم سڑکیں بند ہیں، شہر کی مختلف سڑکوں پر مشتعل مظاہرین نے ٹائر جلا کا اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔نیشنل ہائی وے، گلشن حدید، قائد آباد، پٹیل پاڑہ کے قریب جلاؤ گھیرائو کے سبب سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی جبکہ گلشن حدید سے چلنے والی ریڈ بس سروس بھی معطل رہی، قائد آباد اور نیشنل ہائی وے پر موجود دکانیں اور ہوٹل بند کردیے گئے۔
شیرشاہ چوک پر ڈنڈا بردار مظاہرین نے شدید احتجاج کیا گیا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود رہی جبکہ ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب روانہ کردیا گیا، چوک پر ٹائر اور دیگر اشیا جلا کر سڑک بند کی گئی۔
لیاری اور چاکیواڑہ روڈ پر بھی احتجاج کیا گیا، پولیس حکام نے بتایا کہ شاہ لطیف ٹاؤن عبداللہ گوٹھ میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراو میں ملوث ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس حکام نے مزید بتایا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اضافی نفری طلب کرلی ہے، 400 سے زائد مظاہرین موجود ہیں، جن کا تعلق مختلف گروپس سے ہے۔
دکانداروں، ٹرانسپورٹرز نے رضاکارانہ طور پر ہڑتال کی حمایت کی، جماعت اسلامی
ترجمان جماعت اسلامی زاہد عسکری نے بتایا کہ کراچی اور صوبہ سندھ کے دیگر حصوں میں پرامن شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی جارہی ہے۔
انہوں نے ان دعووں کی تردید کی کہ ان کے کارکنوں نے غنڈہ گردی کا سہارا لیا یا ٹرانسپورٹرز اور دکانداروں کو کاروبار بند کرنے پر مجبور کیا، انہوں نے کہا کہ یہ پرامن ہڑتال ہے اور دکانداروں اور ٹرانسپورٹرز نے اضافی بلوں اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنا کاروبار بند کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی تمام بڑی مارکیٹیں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی کم ہے، صوبہ سندھ کے دیگر اضلاع میں بازار صبح کے وقت کھلتے ہیں لیکن اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ وہاں بھی بازار بند ہیں۔
آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر نے بتایا کہ ان کی تاجروں کی مرکزی تنظیم نے بجلی کے مہنگے بلوں کے خلاف جمعہ اور ہفتہ (آج) شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور وہ کراچی میں ہڑتال کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے جماعت اسلامی کی ہڑتال کی کال کی مخالفت نہیں کی۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے دکانداروں سے کہا ہے کہ یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ ہڑتال کا حصہ بنیں یا نہیں کیونکہ یہ دکانداروں کے لیے معاشی لحاظ سے کافی مشکل وقت ہے جنہیں نئے ماہ کے آغاز میں تنخواہیں اور دیگر اخراجات کی ادائیگی بھی کرنی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال ان کی اطلاعات کے مطابق چھوٹی اور بڑی مارکیٹیں بند ہیں لیکن کراچی شہر کے کلچر کے مطابق بازار دوپہر 12 بجے کے بعد ہی کھلتے ہیں اس لیے ہڑتال کی کامیابی کا اندازہ دوپہر کو ہی ہوگا۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

