رائے چاولہ المعروف دیوان چاولی وہاڑی کے ایک نواحی علاقے پر راج کرنے والی راجپوتوں کی ڈھڈی برادری کا ایک چشم و چراغ تھا، اس کا مذہبی تعلق بدھ مت سے تھا۔ دیوان نام کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مالیات سے بھی تعلق رہا ہو گا۔ وہ راجہ داہر کا عزیز تھا، والد نے تعلیم و تربیت کے لیے اس کے پاس سندھ بھجوا دیا ہوا تھا۔
محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے بعد اسے بطور قیدی عراق بھیجا، جہاں وہ مسلمان ہو گیا۔ اس کے بعد اپنے علاقے میں لوٹا اور وہاں دعوت اسلام کا بیڑہ اٹھایا۔ اس پر بھائی اور برادری کے لوگ مخالف بن گئے۔ جبکہ انتہائی محبت کرنے والی ایک بہن نے اسلام قبول کیا، تو مخالفین کا غصہ اور بھی بڑھ گیا۔ یوں ایک دن عین حالت نماز میں اپنے ہی حقیقی بھائیوں نے اسے شہید کر دیا۔
اسلام قبول کرنے والی بہن محل کی بلندی سے یہ سب دیکھ رہی تھی، وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی، یوں صدمے کی حالت میں اس نے محل کی بلندی سے جائے شہادت پر چھلانگ لگا دی۔ اور بھائی کی میت کے قریب اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ تاہم، حادثے کے بعد اسی برادری کے مخالف لوگ خود بھی مسلمان ہو گئے۔
بعدازاں غزنوی نے ان کے مزار کی تعمیر کی، قریب ایک مسجد بھی تعمیر کی۔ بابا فرید، لال شہباز قلندر، بہاء الدین زکریا، اور گرو نانک جیسے نامور صوفیاء نے ایشیاء کے اس اولین مزار پر چلہ کشی کی، جن کی نشانیاں آج بھی یہاں محفوظ ہیں۔ بعدازاں رنجیت سنگھ کے متعین ملتان کے گورنر دیوان مول راج نے اس روضے کی از سر نو تعمیر کی۔
رائے چاولہ، المعروف دیوان چاولی وفات کے بعد حاجی شیر کے نام سے بھی جانے گئے، تاہم ان سے نسبت رکھنے والے لوگ چاولی مشائخ کہلاتے ہیں۔ انہیں برصغیر پاک و ہند میں بابائے تصوف یا پہلے صوفی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ ابراہیم بن ادھم جیسے معروف صوفی بزرگ کے ہمعصر تھے۔
اہمیت کی حامل اس شخصیت کو منظر عام پر لانے کے لیے، دستیاب مواد کم ہونے کی وجہ سے، چند مضامین پر مشتمل کتابچے سے سے بڑھ کر اسے کتابی صورت دینا ایک چیلنج تھا۔ تبھی اس میں دیگر صوفیاء کا ذکر بھی شامل کیا گیا ہے۔ متفرقات میں تصوف کی مبادیات، اور اس کی اصطلاحات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
تصوف کا لفظ صوف، صفہ یا سوف سے مشتق ہے، پر یہاں سیر حاصل گفتگو ملتی ہے۔ فلسفے کے طالبعلم کے طور پر، راقم البیرونی والی تشریح سے اتفاق کرتا ہے۔ اس کے مطابق تصوف دراصل سوف سے مشتق تھا، جو بعد میں بدل کر صوف بن گیا ہے۔ یاد رہے، یونانی فلسفیوں کے ہاں سوف سے مراد "تھیوریٹیکل وزڈم” یا حکمت و دانش ہے۔
ابن عربی سے پہلے کے ادوار میں صوفیاء کے ہاں فقر و غنا، توکل، عشق الہی، اور بغیر غرض عبادات پر فوکس ہوتا تھا۔ مگر بعد میں وحدت الوجود کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔ اور یوں برصغیر کے صوفیاء میں بھی ابن عربی کے لوازمات زیادہ پائے جاتے ہیں۔
بعض حنفی، تشیع، اور سلفی علماء کے نزدیک تصوف مذہب کے متوازی ایک الگ نظام ہے۔ گو تصوف کی مختلف صورتوں کا ابن عربی سے انکار نہیں مگر ان کے نظریہ وحدت الوجود کو ایک الگ مقام نصیب ہوا ہے، جو اسلام میں تو ضرور نیا ہو سکتا ہے، مگر یونانیوں کے ہاں زمانہ قدیم سے ایک موضوعِ بحث رہا ہے۔
تاہم راقم کی رائے ہے کہ اگر تحقیق کی جائے تو یقیناً نظر آئے گا کہ اب تک اسلامی تصوف اور خانقاہی نظام میں جو یونانی آلائشیں، قباحتیں، اور خرافات سرایت کر چکی ہیں، وہ اولین صوفی ہونے کی حیثیت سے دیوان چاولی کے ہاں نہیں پائی جاتی ہوں گی، اور یوں زیادہ خالص اسلامی روحانیت واگزار ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں بامعنی اور اصلاح کار تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔
نام ور ماہر تعلیم اور شاعر ڈاکٹر محمد امین کی ترتیب دی ہوئی اس خوبصورت کتاب کی قیمت 800 روپے ہے، لیکن گردوپیش سے براہ راست منگوانے والوں کو یہ 400 روپے میں ارسال کی جائے گی۔ آپ بھی اس نمبر پر رابطہ کر کے یہ کتاب حاصل کر سکتے ہیں:
03186780423
فیس بک کمینٹ

