ملتان ( گردو پیش نیوز ) نیشنل بک فاﺅنڈیشن لاہور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر غلام مرتضیٰ بدھ کی شام لاہور میں ٹریفک حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے ۔ان کی عمر55سال تھی ۔انہیں جمعہ کے روز ان کے آبائی شہر رینالہ خوردمیں سپرد خاک کردیاگیا۔
غلام مرتضیٰ ایک طویل عرصہ تک نیشنل بک فاﺅنڈیشن ملتان کے انچارج کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ،نیشنل بک فاﺅنڈیشن ملتان کی اراضی قابضین سے واگزار کرانے اوروہاں نئی عمارت کی تعمیر میں غلام مرتضیٰ نے بنیادی کردار اداکیا۔انہوں نے تمام عمارت اپنی نگرانی میں تعمیر کرائی تھی ۔ اس عمارت کاافتتاح 25جنوری 2003ءکو نامور شاعر اورنیشنل بک فاﺅنڈیشن کے اس وقت کے سربراہ احمد فراز نے کیاتھا۔احمد فراز جب بھی ملتان آتے تھے غلام مرتضیٰ ان کے میزبان کی حیثیت سے شہر بھرمیں رابطے کرتے اوران کے لئے تقریبات کے اہتمام میں پیش پیش رہتے تھے ۔دوبر س قبل ان کاتبادلہ لاہورکردیاگیاتھا۔غلام مرتضیٰ کے پسماندگان میں ان کی بیوہ اورتین بیٹیاں شامل ہیں ۔
زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی موت پرگہرے دکھ اورصدمے کااظہارکیاہے۔نامور ماہر تعلیم اوردانشور ڈاکٹرانوار احمد نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاہے کہ ان کامسکراتاچہرہ ہمیں ہمیشہ یاد رہے گا،وہ بہت خوش اخلاق اورمحبت کرنے والے انسان تھے ۔شاکر حسین شاکر نے کہاکہ وہ میرے شاندار دوست تھے جوایک عرصے سے اپنے ادارے کے ظلم اورزیادتی کاشکار تھے۔رضی الدین رضی نے کہاکہ میں ایک محبت کرنے والے دوست سے محروم ہوگیا۔غلام مرتضیٰ کادفتر میرے دفتر کے قریب ہی تھااورمیں اکثر ان کے پاس چلاجاتاتھانئی کتابوں کی آمدپربھی وہ مجھے خود مطلع کردیتے تھے ۔ڈاکٹرمختارظفرنے کہاکہ یہ بہت افسوسناک خبرہے ۔مظہرسلیم مجوکہ نے کہاکہ ہم ایک خوبصورت انسان سے محروم ہوگئے ۔محمد آصف نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ وہ ایک بہترین آدمی تھے ۔
فیس بک کمینٹ

