ڈاکٹر عباس برمانیکالملکھاری

27 دسمبر اور آخری لیڈر۔۔عباس برمانی

27 دسمبر برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے ،2007 سے قبل اس کی اہمیت غالب کے یوم ولادت کی حیثیت سے تھی ، لیکن اس سال نے اسے ثانوی حیثیت دے دی اب یہ روز غالب نہیں یوم بےنظیر بن گیا ،وہ دن جب برصغیر اپنے آخری لیڈر سے محروم ہو گیا، اس دھرتی پر بہت سے لیڈرز نے جنم لیا محمد علی جناح، موہن داس کرم چند گاندھی, جواہر لعل نہرو،ابوالکلام آزاد، حسین شہید سہروردی، اندرا گاندھی، ذوالفقار علی بھٹو ،کرشماتی شخصیت اور تدبر وفراست رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کے اس سلسلے کی آخری کڑی محترمہ بےنظیر بھٹو تھیں ، اب اس دھرتی کے مقدر میں نواز شریف اور نریندر مودی جیسے لیڈر رہ گئے ہیں،
اب نہ آئے گا کوئی آبلہ پا میرے بعد۔۔۔
آج جب ایک باپ بیٹی جمہوری جدوجھد کا گھٹیاڈرامہ سٹیج کر رہے ہیں ،اقتدار میں رہتے ہوئے حزب اختلاف کا ناٹک کھیل رہے ہیں،وفاق ،دو صوبوں ،آزاد کشمیراورگلگت بلتستان میں حکومتوں ، سرکاری پروٹوکول اور لائولشکر کے باوجود مظلومیت کی خودساختہ داستانیں سنا رہے ہیں ،ایسے میں ذرا ان باپ بیٹی کا بھی تصور کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وقت ختم ہو چکا” سپرنٹینڈنٹ پکارتا ہے”وقت ختم ہو چکا”
میں سلاخوں کو پکڑ لیتی ہوں
“برائے مہربانی کوٹھڑی کا دروازہ کھول دیں میں اپنے پاپا کو الوداع کہنا چاہتی ہوں”
سپرنٹینڈنٹ انکار کر دیتا ہے
میں دوبارہ التجا کرتی ہوں “میرے والد پاکستان کے منتخب وزیراعظم ہیں،میں ان کی بیٹی ہوں ،یہ ہماری آخری ملاقات ہے مجھے ان سے مل لینے دو”
سپرنٹینڈنٹ انکار کر دیتا ہے
سلاخوں کے درمیان سے میں اپنے والد کے جسم کو چھونے کی کوشش کرتی ہوں وہ بہت ناتواں ہو چکے ہیں،ملیریا پیچش اور ناکافی خوراک کی وجہ سے جسم بالکل نحیف ہو چکا ہے،لیکن وہ اٹھتے ہیں اور میرے ہاتھ کو چھو لیتے ہیں
“آج شب آلام دنیا سے آزاد ہو جائوں گا، میں اپنی والدہ اور والد کے پاس چلا جائوں گا ، میں لاڑکانہ میں اپنے اجداد کی زمینوں کی طرف واپس جا رہا ہوں تاکہ اس سرزمین،اس کی خوشبو اور اس کی فضا کا حصہ بن جائوں، خلق خدا میرے بارےمیں گیت گائے گی ،میں اس کی کہانیوں کا جاوداں حصہ بن جائوں گا” وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں” لیکن آج کل لاڑکانہ میں گرمی بہت ہے ”
“میں وہاں ایک سائبان تعمیر کر دوں گی” میں بمشکل کہہ پاتی ہوں ،
جیل حکام آگے بڑھتے ہیں
“الوداع پاپا”
میں والد کی طرف دیکھ کر پکار اٹھتی ہوں،میری ممی سلاخوں سے ان کو چھو لیتی ہیں،ہم گردآلود صحن میں سے گزرتے ہیں ,میں مڑ کے پیچھے دیکھنا چاہتی ہوں لیکن حوصلہ نہیں پڑتا مجھے معلوم ہے میں ضبط نہیں کر پائوں گی ” ہم جب پھر ملیں گے اس وقت تک خداحافظ” مجھے ان کی آواز سنائی دیتی ہے، تاہم میں چلتی رہتی ہوں ،مجھے چلنے کا مطلق احساس نہیں ہوتا، میں پتھر بن چکی ہوں ،جیل حکام ہمیں جیل وارڈ کے اندر واپس لے جاتے ہیں،صحن میں فوجیوں کے متعدد خیمے ایستادہ ہیں،میں مدہوشی کے عالم میں چلی جا رہی ہوں ،صرف اپنے سر کی موجودگی کا احساس ہے ، وہ لوگ ہماری طرف متوجہ ہیں سر بلند رہنا چاہیے۔۔۔۔۔
اور 27 دسمبر کو بھی وہ سربلند مقتل میں چلی گئی ،اسے پتہ تھا قاتل گھات میں ہیں ، حاکم اس کی حفاظت کی زمہ داری سے لاتعلق ہو چکا تھا ،اس پہ ایک دہشتناک خونی حملہ ہو چکا تھا لیکن وہ اس بات پہ یقین رکھتی تھی کہ
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئ بات نہیں
۔۔۔۔
اور آج سرکاری پروٹوکول میں جہازی گاڑیوں کے طویل قافلے میں عدالت جانے والے اور ججوں اور فوجیوں کو برابھلا کہنے والے نام نہاد انقلابی لیڈروں تک ذرا یہ منظر بھی پہنچا دیں
“موسم گرما کی حدت ماہ مئی میں سکھر پہنچی ،اس خشک کاٹتی ہوئی تمازت نے میری کوٹھڑی کو تنور میں بدل دیا،گرم صحرائی ہوائیں میری کوٹھڑی کی کھلی اطراف سے متواتر چلتی رہتیں اور درجہء حرارت 43 سے 48 ڈگری تک پہنچ جاتا، ایک جھلسا دینے والا بگولا میری کوٹھڑی میں مسلسل گھومتا رہتا ،پسینے کی چپچپاہٹ سے جسم پر میل کی تہہ جم جاتی۔۔۔ میری جلد پھٹ گئی اور وہ میرے ہاتھوں میں چھلکوں کی مانند اتر آتی تھی، میرے چہرے پر پھنسیاں ابھر آئیں,ان پہ پسینہ لگتا تو تیزاب کی سی جلن ہوتی ،میرے سر کے بال مٹھیاں بھر بھر کے اترنا شروع ہو گئے…. کیڑے مکوڑوں کا ایک لشکر میری کوٹھڑی میں در آتا ،جھینگر مچھر مکھیاں, چھوٹی سرخ چیونٹیاں،بڑے سیاہ چیونٹے لال بیگ مکڑیاں اور بھڑیں ،وہ ہر وقت میرے چہرے پر بھنبھناتے رہتے یا میری ٹانگوں پر رینگتے رہتے ،میں انہیں ہٹانے کے لیے بازو جھٹکتی لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ میری کوششیں بےسود جاتیں،میں رات کو ان کے کاٹنے سے بچنے کے لئے جسم کے گرد چادر لپیٹ لیتی مگر گرمی سے سانس لینا دشوار ہو جاتا تو چادر اتار پھینکتی، میں ٹھنڈے صاف پانی کے خواب دیکھتی ،جیل میں جو پانی پینے کے لئے دیا جاتا وہ گدلا اور پیلا ہوتا ،اس میں سے باسی انڈے کی سی باس اٹھتی ،نہ اس میں پانی کا ذائقہ ہوتا اور نہ ہی اس سے پیاس بجھتی۔۔۔۔
اسے کن کن ہتھکنڈوں سے توڑنے کی کوشش نہیں کی گئی مگر اس نے کوئی معافی نامی نہیں دیا، کوئی دس سالہ معاہدہ کر کے دھن سے بھرے بکس لے کے ملک نہیں چھوڑا بلکہ اپنے حوصلے اور صبر سے توڑنے والوں کو توڑ دیا۔
وہ ایک حقیقی لیڈر تھی ،وہ سر بلند جیتی رہی اور سربلند ہی مقتل کی راہ سے اس دنیا سے چلی گئی۔۔۔
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker