ڈاکٹرعفان قیصرکالملکھاری

بڑے شہروں میں رہنے کا خراج : گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

اسلام آباد کی بارشیں، انہی بارشوں کے رومانس میں محو رقص صبح اور اسی میں ڈھلتی شامیں ، اور ہر طرف مکمل خاموشی، یہ وہ منظر ہے جو کسی بھی دل کو پہاڑوں کی اس روشنی کی جھلک دکھا دے جو افق سے نکلتی ہے، سب ایسے منظر،ایسی زندگی کا خواب دیکھتے ہیں، مگر کیا یہ سب سراب ہے؟ نئے پاکستان میں گیس کا بل چالیس ہزار بھرنے کے بعد، گیزر کا تھرما سٹیٹ ٹھیک کیا تو ٹھنڈے پانی نے ایسی ہی ایک سہانی ٹھٹھرتی صبح میں استقبال کیا۔ یہ جڑواں شہر کہلانے والے باسیوں کی زندگی کی صبح کا آغازہے۔ سٹریس ، ٹینشن اور اذیت سے بھری۔ آج پھر بارش، مطلب ایک عذاب کاٹ کر نوکری پر پہنچنا ہوگا۔ میرے سامنے گاڑی کی ونڈ سکرین پر بارش کی بوندیں پڑ رہی تھیں، پیچھے ایک ایمبولینس تھی، جس کا سائرن دماغ ماﺅف کر رہا تھا۔ گاڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ بری طرح پھنس کر کھڑی ہوئی تھیں اور بیچ و بیچ موٹر سائیکل سوار ہر فکر سے آزاد انہی گاڑیوں پر لگ لگا کر اپنی نشانیاں چھوڑتے جارہے تھے۔ ہر منٹ بعد گھڑی پر نظر اور پھر وہی ذہنی کوفت ۔ یہ ہجوم کہاں سے اٹھ آیا تھا؟ یہ روز کا ہجوم۔ گاڑی میں بیٹھا وحشت کا مارا چہرے پڑھنے کی جسارت کرنے لگا، سب افراتفری کا عالم تھا،ہر کسی کو بس اپنی پڑی تھی۔ایسی نفسا نفسی میں کوئی مرے یا جئے ،یہ سب کسی دوڑ میں تھے۔ ایسے میں بارش کا رومانس،اس شہر کی پروین شاکر کو کہیں دفن کرگیا، اور منٹو کے چند تلخ جملے یاد آنے لگے کہ ’ خالی پیٹ کا مذہب صرف روٹی ہوتا ہے‘۔



بارش تیز ہوئی اور گاڑی کی چھت پر پڑنے والا ہر قطرہ ایسی آواز پیدا کرنے لگا کہ وہ سیدھا دماغ میں پیوست ہونے لگا،اوپر سے ایمبولینس کا سائرن، ہر طرف وحشت زدہ چہرے لیے لوگ، یہ سب پاگل کرنے کو کافی تھا۔ آخر یہ سب کیا ہے؟ بڑے شہروں کا خراج یا پھر اپنی ہر حد کو تجاوز کرتی وہ آبادی کہ جس کے بڑھنے کا تناسب اس دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔1998 ءکے بعد سے اب تک پاکستان کی آبادی 57 فیصد بڑھ گئی ۔ بائیس کروڑ آبادی پر مشتمل ملک دنیا کا آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے، اور پیچھے صرف بھارت،انڈونیشنا،امریکا اور چین ہی رہ گئے ہیں۔ 22 ضرب ہزار کا پیدائشی ہجم لیے، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو افریکہ کے بولیویا اور ہیٹی جیسے علاقوں کے بعد سب سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے دیسوں میں شامل ہوتا ہے۔ یہ ہجم 2017ءمیں 1.95 فیصد تھا ، جبکہ بھارت ، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں یہ 1.14 فیصد تھا۔ یعنی پاکستان کی آبادی پوری دنیا میں سب سے تیزی سے بڑی رہی ہے اور اس کو کسی طرح قابو نہیں کیا جارہا۔پاکستان کی ایک تہائی آبادی شدید غربت کا شکار ہے اور صرف شرح خواندگی صرف 58 فیصد ہے۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان افریقہ کے چند ممالک کے ساتھ 61 فیصد ان بچوں کی فہرست میں کھڑا ہے جو سکول نہیں جاتے اور ان کی اکثریت غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔ تعلیم کا جی ڈی پی صرف 2.2 فیصد ہونے کے ساتھ پاکستان دنیا کا تعلیم پر سب سے کم پیسہ خرچ کرنے والے ملک ہے۔ WHO سمیت پوری دنیا میں انسانی فلاح کے لیے کام کرنے والے ادارے پاکستان کو Disaster in making قرار دے چکے ہیں اور یہاں تک لکھا جاچکا ہے کہ آنے والے چند سالوں میں روزگار کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی شدید قحط کا شکار ہوجائے گی۔ یعنی ایک بے ہنگم ہجوم ہوگا،جس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوگا، سوائے ایک دوسرے کے۔ آبادی اتنی بڑھ جائے گی کہ پانی کی ضروریات پوری نہیں ہوں گی اور حالات کنٹرول سے باہر ہوجائیں گے۔ پاکستان میں آبادی کے بم کو قابو کرنے والے ادارے مذہب کی توجیہات بیچ میں لے آتے ہیں اور ان کے لیے آبادی کنٹرول کے لیے تمام طریقوں پر عمل کرانا ناممکن ہے۔ ایران کے پاس بھی مذہب کو بیچ میں لاکر آنے والے وقت میں مکمل خاتمے کی طرف بڑھنے والے ہجوم کو نہ روکنے کے بہانے موجود تھے، مگر ایران نے ایک ایسی پالیسی بنائی کہ آج ایران نے کسی طور آبادی کے بم کو قابو کرلیا ہے۔ ایران کی حکومت شادی کا سرٹیفیکٹ جاری کرنے سے پہلے مکمل فیملی پلاننگ کے لیے بانڈ سائن کرواتی ہے ، اور نکاح نامے کے حصول کے لیے آپ کو فیملی پلاننگ کے کونسلنگ سیشنز کا سرٹیفیکٹ دکھانا ہوتا ہے۔ یعنی جوڑے کو یہ بات تفصیل سے سمجھا دی جاتی ہے ، فلاحی ریاست کا باسی بننے کے لیے انہیں یاجو ج ماجوج کی قوم نہیں بننا اور افرادی قوت میں مقداری نہیں معیاری طور پر اپنا حصہ بٹانا ہے اور جاہلوں پر مشتمل ڈھیر کی بجائے ، پڑھی لکھی معیاری نسل کو پروان چڑھانا ہے ۔ پاکستان میں جہاں اندرونی طور تعلیم کی کمی، جہالت، زیادہ بچے پیدا کرنے کی روش اور تفریح کے کوئی مزید ذرائع نہ ہونے نے اس قدر برے حالات پیدا کیے ہیں، وہیں ڈیورنڈ لائن کے اس پار امریکی مداخلت اور آمروں کی غلط پالیسیوں نے بھی یہاں آبادی کے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ آج افغان مہاجرین اور ان کی مقداری نسل پر مشتمل ہے۔ آبادی ایک طرف، اب آپ شہروں کی پلاننگ اور اس سے ہونے والے نتائج پر نظر ڈالیں تو آپ کو بڑے شہروں میں رہنے کے خراج کی مزید محرکات ملتی دکھائی دیں گے۔ پاکستان میں یوں تو تعلیم، صحت ،روزگار سب ناپید ہے، اور جو ہے، وہ بس پانچ چھ شہروں تک محدود کردیا گیا ہے۔ بہتر سکول، ہسپتال، کالج ،یونیورسٹیاں اور روزگار یہ سب صرف چند بڑے شہروں تک ہی حصار ڈالے ہے اور سب اس کے اندر قید ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ہمیشہ اپنے بڑے شہروں سے یہ چیزیں نکال کر چھوٹے شہروں کی طرف لے جاتے ہیں تاکہ آبادی اس طرف بڑھے اور یوں لوگوں کا لائف سٹائل متاثر نہ ہو،جبکہ یہاں الٹی گنگا بہتی ہے اور نتیجے میں آدھی عمر سڑکوں پر بے مقصد سفر کی نذر ہوجاتی ہے۔ شدید ترین مایوسی اور اداسی کو بڑھانے والی ان بارشوں کو بڑے شہروں میں رہنے کا خراج رومانس کی کیفیات سے نکال کر تاریک زدہ ناختم ہونے والی وحشت میں منتقل کردیتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ کار میں اپنے بچے کے ساتھ بیٹھے ہوں کہ جس نے کوئی امتحان دینا ہو، کار کی بجائے زندگی موت کی کشمکش میں خود مبتلا کسی بھیگتی ایمبولینس میں لیٹے چھت پر پڑتے قطرے اور سائرن کی گونج سن رہے ہوں، کوئی فلائٹ مس ہورہی ہو یا پھر دفتر سے نکالے جانے کے عین قریب ہوں، تو اس خراج کے باہر کا منظر آپ کے جسم کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔ تعلیم سے دور، کئی توجیہات میں پیدا ہوئے،اس ہجوم کی امت ،قوم کی تعریفیں ادھوری دکھائی دیتی ہیں۔ چہروں پر نظر آنے والی وحشت روح میں پیوست ہوجاتی ہے، اور آپ پیسہ ہونے کے باوجود صرف سکون کی تلاش میں اس بے سمت ہجوم کی حیوانگی سے نکل کر یہاں سے بھاگنے کی جہد کرتے ہیں۔ وہ لائف سٹائل کہ جو یہاں آپ کو اپنا آپ بیچ کر بھی نہیں ملتا، وہاں تھوڑی سی محنت سے ملتا نظر آتا ہے اور اسی کی تلاش میں پھر یہاں سے بھاگنے والوں کی لاشیں یا ایران کے بارڈر پر کنٹینرز سے ملتی ہیں ،یا پھر سپین ، اٹلی کے سمندروں میں ڈوبی لانچوں کے قریب نظر آتی ہیں۔ بارش کی تیزی، ایمبولینس کا سائرن اور وحشت سے گھورتی آنکھیں یہ سب روح میں پیوست ہونے لگا،تو جنوبی پنجاب کی جنم بھومی میں اپنا پر سکون شہر یاد آنے لگا۔ گاڑی پر بارش کے پانی ہٹاتے وائپر تیزی سے منظر صاف کرنے لگے، مگراس ہجوم میں سب دھندلایا دکھائی دے رہا تھا۔ تیسری دنیا کے آبادی پسند ملک کے بڑے شہروں میں رہنے کا خراج سرد موسم کی شدید بارش میں سیلاب بن کر آپ کو ڈبونے چلا تھا۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker