ڈاکٹرعفان قیصرکالملکھاری

ارطغرل ،جنگجومسلمانوں کی کہانی۔۔گونج/ڈاکٹر عفان قیصر

انسان کا ذہن بہت عجیب چیز ہوتا ہے،اس کو بڑی آسانی سے اغوا کیا جاسکتا ہے۔اس اغوا کی طاقت اس قدر زیادہ ہے کہ کئی سو سالوں میں دنیا نے انسانوں کی سوچوں کو یرغمال بنانے کے لیے سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ یہ کام گزشتہ کئی دہائیوں سے ہالی وڈ، بڑے بڑے نیوز چینلز اور اب سوشل میڈیا کررہا ہے۔آج ہم میں سے اکثریت اڈولف ہٹلر کو برا جانتی ہے۔یہ شخص آج بھی جرمن قوم کا ہیرو ہے۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اڈولف ہٹلر کے برے ہونے کا خیال ہمارے ذہن میں کس نے ڈالا اور کس نے ہمیں اس بات پر قائل کیا کہ ہم اپنی ساری زندگی ہٹلر کو ایک بدترین شخص کے طور پر یاد رکھیں،وہ جس نے دنیا کو بدترین عالمی جنگ سے دوچار کیا اور کئی لاکھ انسانوں کی ہلاکت کا موجب بنا۔ یہ سب کمال ہالی وڈ اور اس کے پیچھے کام کرنے والے ہاتھوں کا تھا۔
یکم رمضان سے پاکستان کے قومی چینل پر دنیا بھر میں مشہورترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کو وزیر اعظم کے کہنے پر اردو زبان میں نشر کیا جانے لگا۔یہ حقیقت پر مبنی ڈرامہ سیریل اس فاتح کی کہانی ہے،جس نے خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد کو جنم دیا اور جس کے زوال سے آج پوری مسلم دنیا اس سنہری دور کو یاد کرتی خون کے آنسو روتی ہے۔ اس ڈرامہ سیریل نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ ہیرو جن کی فلموں میں عیش و عشرت، حسن پرستی،رقص و سرور اور گلیمر یا جنس پرستی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا،انہیں اس ڈرامہ سیریل نے بہت پیچھے چھوڑ دیا ۔ اسلام کی وہ حقیقت جو کسی صورت اس دنیا پر راج کرتی طاقتیں ہمارے ذہنوں میں اترنے نہیں دینا چاہتیں،وہ اس ڈرامے نے ہم پر آشکار کیں ۔یہاں کوئی سپر مین،سپائیڈر مین نہیں ہے۔یہاں ارطغرل غازی ہے ،اور مسلمانوں کا عروج ہے۔یہ ڈرامہ مسلمانوں کو عطا کیے گئے نیک ،جنگجو،بہادر حکمرانوں کی داستان ہے۔
یہ ڈرامہ دسمبر 10،2014ءکے درمیان پہلی بار ترکی میں ریلیز کیا گیا، دیکھتے ہی دیکھتے اس ڈرامے کی مقبولیت ،اس قدر بڑھ گئی کہ دنیا کے 150 ممالک کے اندر اسے ترجمے کے ساتھ پیش کیا جاچکا ہے ۔اس ڈرامے نے یہودی لابی کی اربوں ڈالر انڈسٹری اور 5th جنریشن وار کی ساری حکمت عملی تباہ کردی ہے۔یہودی لابی، ہمیں جس عارضی دنیا میں رکھ کر،ہمیں مسلمانوں کے عروج کی تاریخ بھلا کر،فحش کلچر میں جس خاندانی نظام کی بنیاد ختم کرنا چاہتی تھی،وہ سب اس ڈرامے نے بے نقاب کردیا۔اسی ڈرامے کو نیویارک ٹائمز نے اسی وجوہات کی بنا پر خاموش ایٹم بم قرار دیا ہے۔ یہ ڈرامہ یہ بتاتا ہے کہ کس طرح حق ،ایمانداری اور اسلام کے راستے پر چل کر بلندی،عروج کی داستانیں رقم کی جاسکتی ہیں۔
1291ءسے 1924ءتک مسلمانوں کا سنہری دورِ حکومت اسی ارطغرل غازی کی مرہون منت تھا۔چھ سو سال اسلامی خلافت اسلامی اصولوں پر خلافتِ عثمانیہ کے روپ میں پوری دنیا پر قائم رہی اور اس کو جنم دینے والا شخص ارطغرل غازی تھا۔ آپ کو یہ تاریخ پڑھنا ہوگی۔سلطنتِ عثمانیہ دنیا کے تین برِ اعظم اپنے تسلط میں لیے تھی۔اسی خلافت نے منگولوں،رومیوں اور صلیبیوں کی نیندیں حرام کردی تھیں۔ارطغرل غازی نے دنیا کو یہ بتایا کہ جنگیں طاقت نہیں صرف عقل اور ایمانداری سے لڑی جاتی ہیں۔اس زمانے میں منگولوں کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج تھی،جو ان کو فتوحات دیتی چلی گئی،مگر یہ سلسلہ خلافتِ عثمانیہ کی شکل نہ اختیار کرسکا ،کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسانظا م نہیں تھا،جو اسلام کے روپ میں خلافت ِ عثمانیہ کے پاس تھا،اسی لیے منگولوں نے طاقت کے زور پر دنیا کے بڑے حصے کو تو فتح کیا،مگر ان پر حکمرانی نہ کرسکے اور نہ ہی کوئی نظام چلا سکے۔
یہ شروعات چنگیز خان کے کردستان پر حملے سے ہوتی ہے۔اس حملے کے بعد،یہاں کے کچھ چرواہے اپنے ایک سردار کے زیر نگرانی ترکی کے ایک علاقے اناٹولیا میں پہنچ جاتے ہیں۔اس سردار کا نام تھا ارطغرل غازی۔یہ سو خاندان تھے اور چار سو گھڑ سواروں کا لشکر تھا۔اناٹولیا کے علاقے پر اس وقت سلجوقی خاندان کی حکومت تھی۔یہ حکومت اس وقت کی سپر پاور رومی فوج اور تاتاریوں کے حملوں سے سخت پریشان تھی۔ سلطان ارسلان نے سلجوقی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ارطغرل جب یہاں پہنچے تو یہ جنگ جاری تھی۔اس وقت ارطغرل نے کمزور کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا،اور سلجوقی فوج کے حکمران سلطان علاؤالدین کے ساتھ مل کر رومیوں کو یہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔اس کے بعد سلطان علاؤالدین نے خوش ہو کر اناٹولیا کی مغربی سرحدوں کو ارطغرل اور اس کے خاندان کی حکومت میں دے دیا۔یوں سلطان کو ترکی میں اپنے زیر اطاعت ایک بہترین ،عاقل اور انتہائی وفادار اتحادی مل گیا۔ارطغرل ہر بغاوت میں سلطان کے ساتھ کھڑے رہے۔1258ءمیں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا ،خون کی ندیاں بہا دیں اور مسلمانوں کے صفحہ ہستی سے ختم کرنے کی کوشش کیا۔بغداد میں علم و فنون کی تباہی سب سے بدتر تھی کہ جب دریاؤں کا رنگ نیلا ہوگیا۔1258ءمیں ارطغرل کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا،جس کا نام عثمان رکھا گیا،یہ ذہانت ،اخلاق ،وفاداری میں ارطغرل ہی تھا۔اسی لڑکے نے خلافت عثمانیہ کی اس بنیاد کو مضبوط کیا کہ جس کا موجد ارطغرل تھا۔1300ءمیں تاتاریوں نے سلجوقی سلطنت پر حملہ کردیا کہ جس میں سلطان علاؤ الدین مارے گئے،اور یوں عثمان سلجوقی سلطنت کے بھی سلطان بن گئے۔ترک سرداروں نے رومیوں کے ساتھ مل کر عثمان کی سلجوقی سلطنت پر حملہ کرکے تاریخ کی بدترین غلطی کردی۔اس کے بعد عثمان نے ایک ایک کرکے ان کے تمام علاقے فتح کرلیے ۔یوں فتوحات کا سلسلہ چلتا رہا اور یوں خلافت ِ عثمانیہ تین بر ِ اعظم فتح کرگئی۔خلافتِ عثمانیہ کی خلافت کا مرکز ترکی تھا اور اس میں موجودہ آرمینیا،شام،عراق،اردن،فلسطین،بلغاریہ،یونان،مکہ،مصر جیسے علاقے شامل تھے۔یہ خلافت 1924ءتک قائم رہی،جہاں پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر اس کو زوال آیا۔پہلی جنگِ عظیم میں خلافت عثمانیہ ختم ہوگئی،ترکی کے سلطان مصطفی کمال اتاترک سے 1923ءمیں معاہدہ کیا گیا۔یہ سو سالہ معاہدہ تھا،جسے معاہدہ لوزان کہتے ہیں۔پہلی جنگ ِ عظیم کے بعد برطانیہ ،فرانس نے اپنے ایک جاسوس کو عرب میں خلافتِ عثمانیہ کے خلاف مزید بغاوت کے لیے بھیجا۔اس جاسوس کا نام لارنس آف عریبیہ تھا۔یہ وہی لارنس آف عریبیہ ہے جسے ہالی وڈ ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے، جبکہ آج کے مشرقی وسطی کی تباہی کا اصل موجد یہ شخص ہے۔اس نے عربوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا،انہیں ترکی کے خلاف بھڑکایا۔ عربوں کو کہا گیا کہ تم پر غیر عرب حکومت کرتے ہیں تو کیا تم میں غیرت نہیں ہے۔اسی وجہ سے آل ِ سعود نے بغاوت کردی اور یوں مکہ آل سعود کے حوالے کردیا گیا۔اس کا نام بعد میں سعودی عرب رکھ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ارطغرل غازی ڈرامہ کے مقابلے میں موجودہ سعودی شاہ سلمان نے چالیس ملین لگا کر ایک ڈرامہ مملکت انار بنوا کر ترکوں کو ڈرپوک اور نا اہل دکھانے کی کوشش کی ہے۔ 2023ءمیں معاہدہ لوزان ختم ہورہا ہے۔اب ترکی اپنی سرزمین سے تیل نکال سکے گا،باس پوری کا سمندر جو ایشیاءکو یورپ سے ملاتا ہے،اس پر گزرنے والے جہازوں سے مہنگا ترین ٹیکس لے سکے گا۔خلافت ِ عثمانیہ کے خاتمے پر ترکی مصطفی کمال اتاترک کے دور میں سیکولر ہوگیا۔مگر اب معاہدہ لوزان کے خاتمے پر طیب اردگان یہ پھر سے اسلام کا عروج چاہتے ہیں اور ساتھ ہی حرم کی میزبانی بھی۔
وزیر اعظم عمران خان بھی طیب اردگان جیسی سوچ کے حامل ہیں اور اس ارطغرل کے ڈرامے کو پوری عوام میں مقبول کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پھر سے مسلمانوں کو ایک پرچم کے نیچے اکٹھا کرنے کی جہد کی جائے۔ادھر معاہد ہ لوزان ختم ہوگا،ادھر ترکی کو عروج آئے ۔ مسلمان اگر ارطغرل کی شاندار تاریخ یاد رکھیں گے تو پھر سے متحدہونے کو ترسیں گے اور یہ شاید پھر کسی عظیم خلافت کا جنم ہوگا۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker