ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

سموگ : یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے۔۔ڈاکٹراخترشمار

دنوں بعد گاﺅں یاترا ہوئی گاﺅں جاﺅں تو یہ ناممکن ہے کہ میں بابا دینا کی کٹیا کا چکر نہ لگاﺅں بابا دینا، سائیں نذیر، چاچا وریام، ماسٹر احمد بخش گاﺅں کی وہ پرانی ”روحیں“ ہیں جواپنی باتوں، چٹکلوں سے حیران کر دیتی ہیں، یہ سبھی عمر رسیدہ بزرگ ہیں ان کے اپنے اپنے ڈیرے اور ٹھکانے ہیں۔
”بابا دینا “ ان میں سے ایسا بابا ہے جس کی گفتگو سے کبھی کوئی ایسی ”بات“ مل جاتی ہے جو پہروں میرے حواس پر چھائی رہتی ہے …. اکیسویں صدی کے انسان کا کرب خود اسے بھی سمجھ نہیں آتا، زمانے کی ترقی کے باوجود انسان اندرسے کھوکھلا اور تنہا ہوتا جا رہا ہے ، میں بابا دینا کے پاس بیٹھوں تو کوئی نہ کوئی سوال ضرور میری زبان پر آ جاتا ہے۔


بابا دینا کی عمر کوئی 90 برس کے لگ بھگ ہے اس کی یادداشت بہت اچھی ہے آج بھی عینک کے بغیر وہ گزارا کر رہا ہے ، جب وہ اپنے زمانے کی باتیں سناتا ہے تو بندہ حیران و پریشان رہ جاتا ہے۔ مثلاً نئی نسل تو یہ سن کر شاید یقین ہی نہ کرے کہ بجلی کے بغیر بھی گاﺅں کے لوگ بڑی اچھی زندگی گزارا کرتے تھے۔ کچے مکانوں میں بن دروازوں کے لوگ کسی خوف اور ڈر کے بغیر سکون سے سویا کرتے تھے۔ گرمیوں میں چھتوں پر چارپائیاں ڈال کر سونا تو ہمیں بھی یاد ہے اپنا شعر یاد آ رہا ہے :
چاندنی اوڑھ کے سوجاتے چھتوں پر ہم لوگ
اور پھر دھوپ سے بیدار ہوا کرتے تھے
تمہید طویل ہو رہی ہے بات بابا دینا کی ہو رہی تھی میں نے جب بابے کو بتایا کہ ہمارے لاہور میں ” سموگ “ کا راج ہے تو کہا انسان جوںجوں ترقی کرتا جا رہا ہے اپنی ہلاکت کے سامان بھی پیدا کر رہا ہے ، شہروں میں سڑکوںپر دھواں دھار ٹریفک، فیکٹریاں، کارخانے، ایئرکنڈیشنڈ، لوہے کی بھٹیاں، علاوہ ازیں اینٹوں کے بھٹے تو ہیں ہی جلسے جلوسوں میں احتجاج کرتے ہوئے ٹائروں کوآگ لگا کر سڑکیں بند کرنے کا عمل، کیا سب خود انسان کی ہلاکت کا سامان نہیں ہے ، بابا دینا بول رہا تھا تو مجھے یوں لگا ماحولیاتی آلودگی کے اسباب پر کوئی بہت بڑا دانشور لیکچر دے رہاہے۔


بابا بولے جا رہا تھا: یہ جو چھوٹا سا آلہ (موبائل) تمہارے ہاتھ میں ہے ناں یہ جدید صدی کی وہ دیمک ہے جو انسان کو تباہ کر رہی ہے مگر ہمیں تو لمحہ لمحہ اپ ڈیٹ رہنا ہے ، تجسس، دوسروںکے بارے میں جاننے کے لئے ہم دوسروں کی زندگیوں میں تانک جھانک کی فطرت سے نجات حاصل کر ہی نہیں سکتے، یوں لمحہ لمحہ خبروں نے ہمیں بے سکون اور ڈپریشن کا مریض بنا دیا ہے۔
انسان ہی انسان کا دشمن ہے بلکہ جنگلی درندے تو عموماًاپنے تحفظ اور خوف کے سبب انسانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں انسان بلا سوچے سمجھے بھی ایک دوسرے کا ”ویری“ ہے۔
بیٹا جی! ہمارے گاﺅں میں جب بارش نہیں ہوتی تھی اور سبھی کسانوں کو بارش کی شدید طلب ہوتی تھی تو گاﺅں کی مسجد میں بچوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا اور یہ کھانا کوئی اک شخص تیار نہیں کراتا تھا بلکہ سارے گاﺅں سے مانگی ہوئی ہر قسم کی روٹی اور لسی پر مشتمل ہوتا تھا، زیادہ تر مکئی اور باجرے کی روٹیاں ہوا کرتی تھیں جس روز بچوں کو کھانا کھلایا جاتا اور بعد میں ہاتھ الٹے کر کے بارش کی دعا کی جاتی تھی۔ شام تک کالی گھٹائیں آسمان پر چھا جایا کرتی تھیں اور پھر خوب بارش ہوتی۔
آج ہماری دعاﺅں میں خلوص نہیں رہا، ہم بچوں سے مزدوری کراتے ہیں بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیائ میں ملاوٹ کرتے ہیں، ہمارا رزق خالص نہیں بندگی خالص کیسے ہو سکتی ہے ؟ علمائے دین، اساتذہ، دانشور، دنیا داری میں ”نکونک“ ڈوبے ہوئے ہیں، ڈھنگ کا کوئی لیڈر میسر نہیں، سیاست پیشہ بن گئی ہے لوگ سیاست میں خدمت کے نام پر پیسہ بنانے آتے ہیں، ان نادانوں کو یہ علم نہیں جب دھرتی پر سانس لینا دشوار ہو جائے گا تو تمہاری دولت طاقت اور اثرورسوخ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔


بات جاری تھی کہ مسجد سے اذان بلند ہوئی تو بابا اٹھ کر کھڑا ہوا…. میں کچھ دیر بعد آتا ہوں ابھی گاﺅں میں ہو ناں ملاقات ہوتی ہے۔
بابا جا چکا تھا میں ابھی سڑکوں پر جلتے ٹائروں اور ٹریفک کے اڑدھام میں پھنسا ہوا تھا، واقعتاً لاہور میں اب سانس لینا دشوار تر ہو گیا سوچتا ہوں سارے ہنگامے چھوڑ کر گاﺅں کی شفاف آب و ہوا میں بس جاﺅں، جہاں اگرچہ شہر کی ساری سہولتیں موجود ہیں مگر ابھی کچھ روایات اقدار اورلوگ باقی ہیں، ہماری حکومت سموگ اور ڈینگی کے سامنے اس لئے بے بس ہے کہ سختی سے عملدرآمد نہیں ہوتا، اب بھی فصلوں کی جڑوں کوجلا کر کھیت دوبارہ فصل کے لئے تیار ہوتے ہیں، نہر پر اچانک نظر آتا ہے کسی نے سوکھے پتوں اور گھاس کو آگ لگا دی ہے ، دھواں اٹھ رہا ہے ، درخت کاٹے جا رہے ہیں، ٹائر اب بھی جلتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹائر جلانے والے خود سب سے پہلے اس کالے دھوئیں کا شکار ہوتے ہیں، ہم جانتے بوجھتے بھی ایسے اعمال سے باز نہیں آتے، جس کا ہمیں خود نقصان ہوتا ہے ، حکومت کے پاس اتنی گہرائی میں سوچنے کے لئے وقت ہی نہیں، اب بھی رشوت کا بازار گرم ہے ، ملاوٹ ہوتی ہے ،ناجائز تجاوزات کرنے والوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں، جن محکموں کو پوچھنے پر مامور کیا گیا ہے انہیں میں مخبر موجود ہیں جو پہلے اطلاع کر دیتے ہیں کہ چھاپہ پڑنے والا ہے ، اور یوں یہ سلسلہ کبھی نہیں رکتا، واقعتاً انسان خود انسان کا دشمن بن گیا، حرص ہوس اور حسد میں وہ خود بھی ہلاک ہو رہا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کر رہا ہے۔ ہے کوئی اس کا سدباب کرنے والا؟؟
(بشکریہ:روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker