ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

آٹے چینی کے بحران میں ….قناعت اور صبر۔۔ڈاکٹراختر شمار

دنیا کی سب سے بڑ ی نعمت صحت قرار دی گئی ہے ۔ وہ جو کہتے ہیں جان ہے تو جہان ہے اگر آپ صحت مند اور تندرست ہیں تو ہر دکھ غم اور بھوک پیاس برداشت کر لیں گے ۔ تھوڑے پر صبر و شکر کر لیں گے ، لیکن اگر آپ بیمار ہیں اور کسی شدید تکلیف میں مبتلا ہیں تو دنیا کی کوئی خوشی آ پ کو نہیں بھائے گی ۔
آپ کے پیٹ میں شدید در د ہو اور آپ درد سے تڑپ رہے ہوں ، ایسے میں آپ کو آ پ کی من پسند ڈش پیش کی جائے تو کیا آپ کو وہ اچھی لگے گی ؟ ہر گز نہیں ۔۔۔ اس تکلیف میں آ پ کی پسند یدہ غذا یا ا ور کچھ بھی پسند نہیں آئے گا۔ کیو ں ؟ اس لیے کہ آپ بیمار ہیں ۔ بیماری میں نہ تو کو ئی تفریح اچھی لگتی ہے نہ کسی آرزو کی تکمیل۔ سو ساری باتےں ، ساری خوشیاں ، ساری آرزوئیں ، صحت کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ، اس لیے سب سے بڑی نعمت ” صحت “ ہے ۔
آپ کتنے ہی دولت مند ہوں ، کتنے ہی آرام دہ گھر میں رہائش پذیر ہوں، ارد گرد سینکڑوں نوکر چاکر ہوں ، آس پاس ہر آرزو کی تکمیل کا سامان موجود ہو ۔ پلک جھپکتے آپ جو چاہیں ہو سکتا ہو لیکن آپ کسی شدید جسمانی تکلیف میں کراہ رہے ہوں آپ کو کچھ بھی اچھا نہیں لگے گا ۔ آپ کے سامنے دنیا کے خو بصورت مناظر ہوں ، آپ کی پسند کی تفرےحات ہوں ، لیکن آپ کو بیماری میں کچھ بھی نہ بھائے گا ۔ اس کے بر عکس آپ صحت مند ہوں او ر رہنے کو معمولی سا گھر ہو ، ایک وقت کی روٹی بھی میسر ہو تو بھی آپ سکون کی نیند سو سکتے ہیں ، معمولی سے بستر پر بھی سکون کی نیند آ سکتی ہے اور ویسے بھی بقراط نے کیا خوب کہا ہے کہ :
” ہم دولت سے نرم بستر حاصل کر سکتے ہیں لیکن نیند نہیں“ ۔
آپ صحت مند ہیں تو آپ کہیں بھی ، کسی بھی لمحے کسی معمولی سی بات پر خوش ہو سکتے ہیں ۔ گو یا خوشی کا تعلق ہماری صحت اور تندرستی سے ہے ، تندرست انسان کہیں بھی خوش ہو سکتا ہے لیکن ایک مریض شخص سا ری دنیاکی نعمتوں کے باوجود بھی کم از کم خوش نہیں ہو سکتا ۔
سو انسان کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت ( صحت اور تندرستی ) کے حصول کے لیے ہر پل کو شاں رہنا چاہیے ۔ زندگی میں صرف اپنی صحت اور تندرستی کو مقّدم رکھا جانا چاہےے ، ہمیں بیمار کر دینے والے خیالات ، تفکرات ، اعمال اور غذاؤں سے دور رہنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر خوشی صحت میں ہے تو پھر صحت پر زیادہ فوکس ہونا چاہیے مگر ہم دنیا میں دولت ، پیسے اور آسائشوں کے لیے بھاگتے پھرتے ہیں ایسے میں تندرستی اور صحت کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہے اور جب آسائش دولت اور عزت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ جسم وجان کمزور ، لاچار اور بیمار ہوا چاہتا ہے ۔ کئی روگ خود ہی پال لیے گئے ہیں ۔ صحت تندرستی ،عمدہ کھانوں میں نہیں ہے ، بلکہ بہت سے اہلِ ثروت حضرات تو بہت سی نعمتیں حاصل ہو نے کے باوجود بھی انہیں کھا پی ہی نہیں سکتے ۔ کہ ان کے معالجین اور ڈاکٹروں نے یہ سب اچھی غذائیں انہیں منع کر دی ہیں ، نہ ہی یہ اچھی غذائیں انہیں ہضم ہوتی ہیں؟ کبھی بد پرہیزی سے وہ یہ غذائیں کھا لیں تو لینے کے دےنے پڑ جاتے ہیں ۔ سو ہمیں دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور دولت تندرستی کے لیے سوچنا چاہیے اور ہر حال میں اسے حاصل کرنا چاہیے کہ دنیا صحت اور تندرستی سے ہے ۔ ہر خوشی ، ہر سکھ کا دارومدا ر صحت اور تندرستی سے وابستہ ہے ۔
اسلام میں روزے کی فضیلت واضح ہے ۔ صبر برداشت ، صحت تندرستی ، روحانےت ، باطنی پاکیزگی اور سکون کے لیے روزے سے بڑھ کر کوئی چےز نہیں ۔ حضر ت ابو سلمانؒ فرماتے ہیں :
”بھوک آخرت کی اور ” شکم سیری “دنیا کی کنجی ہے “
شیخ سعدی ؒفرماتے ہیں ۔
” جب پیٹ خالی ہو تا ہے تو جسم روح بن جاتی ہے اور پیٹ بھرا ہو تا ہے تو روح جسم بن جاتی ہے “
ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں :
’ ’ بھو ک اور مسکینی میں دن گزارنا، کسی کمینے کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے بہتر ہے“۔
حضرت بایزیدؒ کے مطابق :
” بھو ک ایسا بادل ہے جس سے رحمت برستی ہے ۔ “
سو صحت و تندرستی اعلیٰ غذائیں کھانے میں نہیں ۔ کم ، سادہ اور صاف ستھری غذائیں کھانے میں ہے ۔ زیادہ کھانے کی حرص سے نجات حاصل کرنی چاہیے اور کھانے کی لالچ سے باز رہنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر اس کے لیے محنت ، جدوجہد اور ریاضت کر نی پڑتی ہے ۔ ویسے بھی زیادہ کھانے والا ذہین نہیں ہو سکتا ۔ ایک صحت مند دماغ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کم کھا یا جائے ، زیادہ کھانے سے صلاحیتےں ماند پڑ جاتی ہیں اورکم کھانے سے سوئی ہوئی قوتےں بھی بیدار ہو جاتی ہیں ، انسان کا باطن مضبوط ہو تا ہے اور دماغ کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے ۔ حضرت ذوالنون مصری ؒ فرماتے ہیں :
” شکم سےر کو حکمت حاصل نہیں ہوتی “
فرینکلن کہتا ہے :
” شکم سیری کند ذہن بنا دیتی ہے کھانا زندہ رہنے کے لیے کھاؤنہ کہ کھانے کے لیے زندہ رہو “
جی فار ڈائیس نے کہا کہ :
” اگر شےر دن میں صر ف ایک بار کھاتا ہے تو پھر ایک مرتبہ کھانا انسان کے لیے بھی کافی ہونا چاہیے “
ہم ساری زندگی بہترین اور مرغن غذاؤں اور آسائشوں کے لیے بھاگتے پھرتے ہیں ، جتنی آسائشیں زیادہ ہوں گی جتنا زیا دہ کھا یا جائے گا اتنا ہی ہلاکت کی طرف جانے کا اندیشہ رہے گا۔ سو قناعت اور صبر کا راستہ اختےار کر نے سے انسان ہلکا پھلکا رہنے کے ساتھ کافی فائدے میں رہتا ہے ۔
(بشکریہ:روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker