ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

سارے مظلوموں سے ناطہ ہے ہمارا بیدل:ڈاکٹراختر شمار

بیدل حیدری جدید تر اردو غزل کے وہ نمائندہ شاعر ہیں جو اپنے لب و لہجے سے ترقی پسندانہ سوچ کے حامل دکھائی دیتے ہیں۔بیدل حیدری ۲۳ اگست ۱۹۲۴ ءمیں بھارت کے شہر غازی آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ان کے آباؤ اجداد کا پیشہ کاشت کاری تھا۔بیدل حیدری کا اصل نام عبدالرحمن تھا۔شاعری کا شوق ہوا تو انہوں نے اپنے زمانے کے استاد شاعر خیام الہند حیدر دہلوی کی شاگردی اختیار کی۔اُن دنوں حیدر دہلوی کی شاعری کا بہت چرچا تھا، وہ مشاعروں کے کامیاب شاعر سمجھے جاتے تھے۔غازی آباد کے ایک مشاعرے ہی میں بیدل حیدری ان کے شاگرد ہوگئے۔بیدل حیدری قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آئے ،کچھ عرصہ مختلف ملازمتیں اختیار کیں مگر بالآخر ڈسپنسری کورس کرنے کے بعد اپنا کلینک بنا لیا۔انہوں نے کینال ڈسپنسری مرید کے میں بھی ،انچارج ڈاکٹر کے طور بھی کچھ وقت گزارامگر جلد ہی ملازمت سے بےزار ہوگئے۔ان کی شادی کبیروالا میں ہوئی توآپ خانیوال کے نزدلک قصبہ کبیروالا منتقل ہو گئے۔بیدل حیدری نے ایف ایس سی کے بعد ادیب فاضل کا امتحان پاس کر رکھا تھا۔شاعری میں آپ علم عرو ض کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔علاوہ ازیں علم جفر اور علم الاعدادپر بھی انہیں دسترس حاصل تھی۔بیدل حیدری نے یوں تو نظمیں بھی کہیں مگر جدید اردو غزل میں وہ اپنی منفرد اور توانا آواز کے سبب نمایاں مقام رکھتے ہیں۔معاشی مسائل کے سبب وہ ادب کے بڑے مراکز سے دور رہے مگر پھر بھی اس دور کے اہم ادبی جرائد ،اوراق فنون ،ماہِ نو،تخلیق اور کئی دیگر اخبارات و رسائل میں بھی ان کا کلام شائع ہوتا رہا۔جنوبی پنجاب کے بڑے مشاعروں میں وہ ”مشاعرہ لوٹ “ شعراءمیں شمار ہوتے تھے۔ ادبی حسد اور منافقانہ ماحول کے سبب وہ ” مین سٹریم “ کے مشاعروں اور ٹی وی سے دُور رہے۔ان کی زندگی میں ان کا چھوٹا سا مجموعہ کلام ” اورق ِا گل “(۱۹۵۶) شائع ہواتھا۔مگر بیدل حیدری کے پاس بھی اس مجموعے کی کوئی کاپی محفوظ نہیں تھی۔بعد ازاں ۱۹۹۴ ءمیں انہوں نے کاروانِ ادب کبیر والہ کے زیرِ اہتمام ”مری نظمیں “ کے عنوان سے نظموں کا مجموعہ شائع کےا پھر جنوری ۲۰۰۴ءمیں سیوا پبلی کیشنز لاہور نے ان کا غزلیہ مجموعہ ”ان کہی “ کے نام سے شائع کیا۔ اس میں بھی ان کے محبوب شاگرد شکیل سروش کا نمایاں ہاتھ تھا۔شکیل سروش کو وہ اپنا ادبی جانشین قرار دیتے تھے۔بیدل حیدری کے فن و شخصیت کے حوالے سے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ہمارے ایف سی کالج کے پروفیسر صفدر نعیم نے میرے زیرِ نگرانی مقالہ تحریر کیا تھا علاوہ رحمت علی شاد نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تحت اس خاکسار ہی کی نگرانی میں ان کے کُل کلام کی تدوین کی ہے ۔ جناب بیدل حیدر ی کی غزل اکیسویں صدی کے انسان کی نوحہ ہے ۔بیدل حیدری کی غزلوں میں زندگی کے دکھوں کو محسوس کیا جا سکتا ہے ،بھوک ننگ ، غربت ،مہنگائی اور معاشرتی ناہموارےوں کے نقوش ان کی غزل کے نمایاں نقش ہیں۔تیور دیکھئے:
گرمی لگی توخود سے الگ ہو کے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
بےدل لباسِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا
اور ہم نے اِس لباس کو الٹا پہن لیا
ویسے میں ان کی غزلوں پر تبصرہ کرنے سے زیادہ اہم یہ سمجھتا ہوں کہ انکے اشعار نذرقارئین کردوں تاکہ آج کے ناقدین اور قارئین خود اندازہ کرلیں کہ وہ کس پائے کے شاعر تھے۔
فاقوں سے تنگ آئے تو یہ پوشاک بیچ دی
عریاں ہوئے تو شب کا اندھیرا پہن لیا
بھونچال میں کفن کی ضرورت نہیں پڑی
ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا
مردہ شاہوں کی مقابرہوں کہ زندوں کے محل
سب کی تعمیر مرے خون پسینے سے ہوئی
میرے ہم عصروں نے شاہوں کے قصیدے لکھے
مرے حصے میں بغاوت کے ترانے ہوئے
میراگھر اپنا ہے بیدل نہ دکاں اپنی ہے
مار ڈالیں گے کسی دن یہ کرائے مجھ کو
چار پائی ہے مرے گھر میں نہ بستر کوئی
وہ کبھی آئے تو اوڑھے کہ بچھائے مجھ کو
میں نے غربت کے سبب اپنی کتابیں بیچ دیں
کوستی رہتی ہے اب کمرے کی الماری مجھے
ریزہ ریزہ ہوکے بکھرا ہے خلاؤں میں بدن
کس قدر مہنگی پڑی ہے چاند سے یاری مجھے
فریاد سے مراد بغاوت نہ لیجئے
اتنا نہ طول دیجئے چھوٹی سی بات کو
برگد پہ محوِ خواب ہیں سو رنگ کے طیور
آہستہ بول! پنکھ نہ لگ جائیں رات کو
کبھی لہریں ترا چہرہ جو بنانے لگ جائیں
میری آنکھیں مجھے دریا میں بہانے لگ جائیں
ان ہواؤں سے تو بارود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے
بیدل نہ ٹافیاں نہ کھلونے ہیں ہاتھ میں
بچے سے شام کرنی پڑی معذرت مجھے
باپ خالی ہاتھ لوٹ آیا ہے گھر
بچے روتے ہیں کہ روزہ کھل گیا
بیدل مجھے جس شخص نے برباد کیا ہے
سادہ ہے وہ اتنا کہ ستم گر نہیں لگتا
اور کیا اس سے زیادہ ہو سعادت مندی
جھڑکیاں کھا کے بھی مجھ سے مرا بچہ خوش ہے
میرے گھر میں تو گملے ہیں نہ انگور کی بیل
اے خزاں ! تجھ کو کسی اور کے گھر جانا تھا
عہد ِ باروڈ ہے کدھر جائے
اے خدا آدمی نہ مر جائے
فٹ پاتھ پر قیام ِ مسلسل کے باوجود
میں کیسے مان لوں کہ مرا گھر کبھی نہ تھا
یہ بُرا حال جو حیات کا ہے
سارا چکر معاشیات کا ہے
کیا بھروسہ ہے سمندر کا خدا خیر کرے
سیپیاں چننے گئے ہیں مرے سارے بچے
بارش اتری تو میں سیلاب کی آغوش میں تھا
پانی اترا تو درختوں سے اتارے بچے
یہ ضروری ہے انہیں کل کی ضمانت دی جائے
ورنی سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچے
سارے مظلوموں سے ناطہ ہے ہمارا بیدل
سارے مظلوموں کے بچے ہیں ہمارے بچے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker