ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

پی ٹی آئی کی بدحواسی۔۔۔:واللہ اعلم / ڈاکٹراخترشمار

ایک دیہاتی نے اپنے پیر صاحب سے اپنے بچے کی پڑھائی اور مرغی کے انڈے دینے کی استعداد بڑھانے کی غرض سے تعویز لکھوائے،گھر آکر بیوی کو دئیے کہ بچے کے گلے میں اور مرغی کے پاؤں میں باندھ دینا۔ کوئی ایک ہفتے بعد دیہاتی دوبارہ پیر صاحب کے روبرو تھا اور اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے بولا: ” پیر جی ! یہ کیسے تعویز دے دئےے ہیں بچہ بھاگ بھاگ کر مرغی کے ” کھڈے “ میں جا بیٹھتا ہے جبکہ مرغی بچے کی تختی اور قاعدے پر بیٹھنے کی کوشش کرتی ہے ہم تو انہیں پکڑ پکڑ کر تھک گئے ہیں ۔۔۔ پیر صاحب نے ارشاد فرمایا : ” نادان تم لوگوں نے تعویز دھیان سے نہیں باندھے اور مرغی کا تعویز بچے کو اور بچے کا مرغی کو باندھ دیا۔۔“
ٓاس لطیفے پر شاید آپ کو ہنسی نہ آئے مگر اس سے ہمیں آج کے دور کی اہم سیاسی جماعت پی ٹی آئی کی حماقتوں پر رونا ضرور آتا ہے کہ وہ کیسے کیسے بلنڈرز کر رہی ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل عمران خان نے اچانک اپنی روحانی رہنما سے شادی کر لی ،شادی کو ئی ایسا فیصلہ نہیں جس پر اعتراض کیا جاسکے مگر ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے اور شادی الیکشن کے بعد بھی کی جاسکتی تھی مگر عمران اس عمل کی حمایت میں کیا کیا دلائل دیتے ہیں ۔اس سے قبل عین دھرنے میں شادی کی اور کچھ عرصہ بعد طلاق دے دی ،لیڈر اپنے محبت کرنے والوں کا آئیڈیل ہوتا ہے اس کی ایک ایک بات ،اور عمل پر عوام کی نظریں ہوتی ہیں ۔ لیڈر کی ایک غلطی قوم کو صدیوں پیچھے دھکیل دیتی ہے ۔ پانچ برس تک کتنے بڑے بڑے احتجاجی جلسے کئے گئے گویا پانچ برس پی ٹی آئی نے عوام کو سڑکوں پر ہی رکھا۔ آج وہ وقت قریب تھا جب الیکشن کا اعلان ہو چکا تھا،اور پی ٹی آئی نگران حکومت کا فیصلہ کر رہی ہے ۔اتنی جدو جہد اور مشاورت کے بعد انہوں نے پنجاب اور مرکز کے لئے قیادت کے لئے حکومت کے ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کیا ۔اس میں جو نام سامنے آئے خاص طور پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے لئے پی ٹی آئی نے نام پیش کیا ،ظاہر ہے اس کے لئے کتنی ہی مشاورت کی گئی ہوگی ۔میاں محمود الرشید نے بڑے دھڑلے سے اعلان کیا اور نگران وزیر اعلیٰ کے لئے ناصر سعید کھوسہ کا نام فائنل ہو گیا ۔اب اس فیصلے کے بعد یہ کہا جارہا ہے کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے ۔یہ بھی خبر ملی کہ طارق کھوسہ کی جگہ ناصر کھوسہ فائنل ہوگیا اس کنفیوژن کے سبب ناصر کھوسہ کانام واپس لیا گیا ہے۔۔۔اصل بات یہ ہے کہ فواد چودھری ہوں ،محمودالرشید،یا کوئی اور کسی کے پاس کوئی مناسب دلیل نہیں تھی ،مختلف ٹی وی چینلز پر وہ اس یو ٹرن کے بارے میں اپنے دلائل دے رہے تھے مگر بات نہ بن سکی۔ چودھری غلام حسین نے تو ناصر الملک کے نام پر بھی پی ٹی آئی والوں پر ان کے منہ پر تنقید کی ۔ فواد چودھری کھسیانی ہنسی کے ساتھ فرما رہے تھے کہ : ” کیا ہوگیا اگر فائنل کرنے کے بعد نام واپس لے لیا ہے کوئی قیامت تو نہیں آگئی۔“ بات قیامت کی نہیں اس سے پارٹی کی ذہنی ناپختگی کا اظہار ہوتا ہے۔آپ فیصلے کے بعد یکسر اسے تبدیل کر لیتے ہیں ،خیبر پختونخواہ میں بھی یہی کچھ کیا گیا۔ یہ کوئی بات ہے کہ آپ پر ساری قوم کی توقعات ہوں ،عوام عمران خان کو آخری امید سمجھ رہے ہوں ، اور آپ بات کر کے مکر جاتے ہیں یا فیصلہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ جو پارٹی سو دنوں کا اپنا پروگرام دے رہی ہو اس سے نگران قیادت کے لئے نام فائنل نہیں ہو رہا۔اور وہ نام دے کر ،اس نام کی تعریفیں کرنے کے بعد اسے واپس لے رہی ہے ،یہ بچگانہ بات نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ کوئی معمولی غلطی نہیں ہے۔اب اس غلطی پر ڈٹ جانا کوئی دانشمندی نہیں ۔ کیا آپ کو یہ خبر پہلے نہیں تھی کہ متعلقہ شخصیت میاں صاحبان کے کس قدر کلوز رہی ہے ، کوئی بھی سابقہ چیف سکریٹری پنجاب جس نے میاں صاحبان کے ساتھ کام کیا ہوا ہے اس کی کچھ ہمدردیاں تو میاں نواز یا شہباز شریف کے ساتھ ہوں گی ۔ عمران خان کی پارٹی کو فیصلے کے بعد کیوں یاد آتا ہے کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہے۔ بندے کو سوچنے میں دیر لگانی چاہئے ،خوب سوچ بچار کے بعد ایک فیصلہ کرنا چاہئے مگر جب ایک بار فیصلہ کر لیا جائے تو اس پر قائم رہنا چاہئے۔بقول شاعر:
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب ِ کردار ہونا چاہئے
فواد چودھری کا یہ کہنا کہ عوام الناس کے دباؤ پر ہمیں یہ فیصلہ تبدیل کرنا پڑا ،کوئی معقول جوا ز نہیں ، کل کلاں آپ کی حکومت کے خلاف اپوزیشن اسی طرح کا کوئی دباؤ ڈالتی ہے تو پھر کیا نت فیصلے تبدیل کرتے رہیں گے ۔ آپ عوام کے دباؤ کی بات کرتے ہیں ،عام آدمی کو آپ کا یہ یو ٹرن پسند نہیں آیا ۔ اس سے تو اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ آپ ابھی میچور ہی نہیں ۔ کیا کریں گے اگر حکومت ملی تو ۔آپ اپنی کور کمیٹی میں کسی ایک نقطے پر آمادہ نہیں ہو سکتے تو بڑے بڑے فیصلے کیسے کریں گے؟ جبکہ دشمن چار طرف سے آپ کے ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ بھارت ، اسرائیل اور امریکہ اس خطے میں دہشت گردی کا بہانہ بنا کر اسے میدان جنگ بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ معاشی طور پر ہمارا حال بھی نہایت ناگفتہ بہ ہے ۔مہنگائی کا نہ تھمنے والا ایک طوفان ہمارے سامنے ہے ۔بجلی کے بل کی رقم میں ٹیکس آدھے سے زیادہ ہے، اس قدر زیادہ بل آنے پر عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں ۔عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ۔ادھر نگران حکومت کے لئے نام تک فائنل نہیں ہورہے ، پی ٹی آئی جس کو عوام ایک چانس دینے کے حق میں ہیں اس کا حال یہ ہے کہ وہ فیصلہ کر کے بچوں کی طرح واپس لے لیتی ہے ۔یہ سب کیا ہورہا ہے۔ عمران خان کو سنجیدگی سے اپنے قریبی ساتھیوں کو سمجھانا چاہئے کہ اب خدا را ملک اور قوم کے لئے ایک دوسرے کو برداشت کریں ۔ اور الیکشن ہونے دیں ۔ لیکن جو کچھ زمینی حقائق سامنے ہیں ،ان حالات میں انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ اور اس میں زیادہ قصور ہمارے سیاست دانوں کا ہے جو ہر کوتاہی کا ملبہ فوج پر ڈال دیتے ہیں ۔انتخابات ملتوی ہونے کا سامان سیاسی جماعتیں پیدا کر رہی ہیں لیکن ملبہ پاک آرمی پر ڈال دیا جائے گا ۔ کچھ ہوش کے ناخن لیں ۔ ایسا نہ ہو ۔تم چڑھو ،تم چڑھو کے چکر میں الیکشن کی گاڑی ہی نکل جائے اور آپ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ جائیں۔بلا تبصرہ ایک شعر سن لیں:
ایسے بد دل ہیں اس نظام سے لوگ
جا رہے ہیں دعا سلام سے لوگ
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker