ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

انقلابِ فرانس: 50 سال بعد: جدوجہد/ ڈاکٹرلال خان

پچاس سال قبل31 مئی 1968ء کو فرانس میں بیسوی صدی کے سب سے عظیم انقلاب کا عروج اور پھر اس کے زوال کا آغاز ہوا۔ یہ پوری دنیا میں انقلابی اتھل پتھل کا دور تھا جس نے مختلف ممالک کو مختلف انداز میں متاثر کیا۔ خزاں1968ء میں یہ انقلابی طوفان پاکستان بھی پہنچ گیا‘ اور پاکستان کے نام نہاد قدامت پسند سماج میں نوزائیدہ پرولتاریہ نے ایک انقلابی صورت حال کو جنم دیا۔
فرانس میں مئی 1968ء کی انقلابی صورت حال کے دوران پورے ملک میں مظاہرے، وسیع عام ہڑتالیں اور یونیورسٹیوں اور فیکٹریوں پر قبضے ہو رہے تھے۔ اپنے عروج کے وقت میں اس عوامی بغاوت نے پوری فرانسیسی معیشت اور سماج کو جام کر دیا تھا۔ بغاوت کا آغاز طلبہ کے احتجاجوں سے ہوا جس کے بعد یہ فیکٹریوں تک پھیل گئی۔ دو ہفتوں تک جاری رہنے والی فرانس اور یورپ کی تاریخ کی ان سب سے بڑی ہڑتالوں میں11 ملین مزدور شامل تھے جو اس وقت فرانس کی آبادی کا 22 فیصد تھا۔ ڈی گال انتظامیہ کی جانب سے ان ہڑتالوں کو وحشیانہ انداز میں کچلنے کی کوشش نے صورتحال کو مزید بھڑکا دیا اور پیرس میں پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں جس سے ہڑتالیں اور فیکٹریوں پر قبضے پورے ملک میں پھیل گئے۔
فروری1968ء میں فرانسیسی کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیوں نے ایک انتخابی اتحاد تشکیل دیا تھا۔22 مارچ کو بائیں بازو کے طلبہ، شعرا، آرٹسٹوں اور موسیقاروں نے نانتر میں پیرس یونیورسٹی کے انتظامی بلڈنگ پر قبضہ کر لیا اور فرانسیسی سماج اور یونیورسٹیوں میں طبقاتی تفریق کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ طلبہ اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد انتظامیہ نے 2 مئی 1968ء کو یونیورسٹی بند کر دی۔ 3 مئی کو یونیورسٹی کی بندش اور طلبہ کی بے دخلی کی دھمکیوں کے خلاف احتجاج کے لیے طلبہ پیرس یونیورسٹی کے سوربون کیمپس میں جمع ہوئے۔ منگل 6 مئی کو فرانس کی نیشنل سٹوڈنٹس یونین (UNEF) اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی یونین نے سوربون پر پولیس کے چھاپوں کے خلاف مارچ کی کال دی۔ اس بیس ہزار سے زائد کے احتجاجی مارچ پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ جس سے کچھ لوگ منتشر ہو گئے جبکہ کچھ نے سڑکوں پر رکاوٹیں (Barricades) کھڑی کرنا شروع کر دیں۔ دوسروں نے پتھراؤ شروع کیا اور پولیس کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں پولیس کی مزید نفری کے ذریعے آنسو گیس سے حملہ کیاگیا اور وحشیانہ طریقے سے لاٹھی چارج ہوا۔ سینکڑوں طلبہ زخمی اور گرفتار ہوئے۔ اسی دن ہائی سکول طلبہ یونین بھی اس جدوجہد میں شامل ہوئی۔ اگلے دن طلبہ کی زیادہ بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے مزید طاقتور ہوئے۔ جمعہ 10 مئی کو ریف گوش میں جب ایلیٹ فورسز نے مظاہر ین کو ندی عبور کرنے سے روکا تو مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ پولیس نے رات 2:15 پر وحشیانہ طریقے سے حملہ کرکے سینکڑوں کو گرفتار اور زخمی کیا۔ سارا دن جھڑپیں جاری رہیں۔ ان واقعات کو ریڈیو پر نشر کیا گیا اور یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ پولیس نے اپنے جاسوسوں کے ذریعے مداخلت کی تھی جو گاڑیاں جلا رہے تھے اور پیٹرول بم پھینک رہے تھے۔
اس حکومتی اقدام سے سماج میں ہڑتالیوں کے لیے ہمدردیاں پیدا ہو گئیں، ملک کے زیادہ نامور موسیقار اور شعرا میدان میں آ گئے۔ بائیں بازو کی یونین فیڈریشن (CGT-FO) کی قیادت کو مجبوراً 13 مئی کو ایک دن کی عام ہڑتال کی کال دینی پڑی جس میں ایک ملین سے زیادہ لوگوں نے پیرس میں مارچ کیا۔ وزیر اعظم جارج پومپیڈو نے ذاتی طور پر قیدیوں کی رہائی اور سوربون کو کھولنے کا اعلان کیا۔ تاہم ہڑتالوں کی لہر نہیں رکی۔ اس کے برعکس مظاہرین مزید دلیر اور پراعتماد ہو گئے۔ مزدوروں نے فیکٹریوں پر قبضے شروع کر دیے جس کا آغاز سڈ ایوی ایشن پلانٹ میں ہڑتال سے ہوا۔ پھر رون کے قریب رینالٹ پارٹس پلانٹ میں ہڑتال ہوئی جو سائن ویلی اور پیرس کے مضافات میں بولون بلان کورٹ میں رینالٹ مینوفیکچرنگ کمپلیکس تک پھیل گئی۔ 16 مئی تک مزدوروں نے تقریباً پچاس فیکٹریوں پر قبضہ کر لیا تھا اور 17 مئی تک دو لاکھ مزدور ہڑتال پر تھے۔ اگلے دن یہ تعداد 20 لاکھ اور پھر ایک کروڑ تک پہنچ گئی یعنی فرانس کی ورک فورس کا تقریباً دو تہائی ہڑتال پر تھا۔
یونین قیادتیں اس انقلابی ابھار کو محض معاشی مطالبات تک محدود کرنا چاہتی تھیں جبکہ مزدور‘ صدر ڈی گال کی حکومت کے خاتمے اور فیکٹریوں پر مزدوروں کا انتظام اور کنٹرول کی بات کر رہے تھے۔ حکومت اور ٹریڈ یونین قیادت کے مذاکرات سے اجرتوں میں وسیع اضافے اور دیگر مراعات حاصل ہونے کے باوجود مزدوروں نے فیکٹریوں پر قبضہ جاری رکھا اور اپنی مصلحت پسند قیادت کا تمسخر اڑایا۔ CGT اور CFDT کی قیادت ریاست اور نظام کو اکھاڑنے کی بجائے حکام کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بالکل تیار تھی جبکہ مزدور نظام اور ریاست کو کچلناچاہتے تھے۔ انہوں نے مراعات کو مسترد کرتے ہوئے ہڑتال جاری رکھی۔ بہت سے اعلیٰ پائے کے دانشور بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ 27 مئی کو پچاس ہزار مزدور اور عام لوگ سٹاڈ سبیسشین شارلیٹی میں جمع ہوئے۔ اس مجمع میں دھواں دھار تقریریں ہوئیں اور حکومت کے خاتمے اور مزدور حکومت کے لیے انتخابات کے مطالبے کیے گئے۔ 28 مئی کو سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر فرانسو مٹرنڈ نے قبول کیا کہ ”فرانس میں اب ریاست نہیں رہی۔‘‘ 29 مئی کو فرانس کے ‘مرد آہن‘ صدر چارلس ڈی گال نے خاموشی سے اپنی ذاتی دستاویزات محل سے ہٹوا لیں اور اپنے داماد ایلن بوسیو سے کہا، ”میں انہیں محل پر حملہ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتا۔ میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ خالی محل پر کوئی حملہ نہیں کرتا‘‘۔ صبح گیارہ بجے اس نے اپنے وزیر اعظم سے کہا، ”میں ماضی بن چکا ہوں۔ تم مستقبل ہو۔‘‘
حکومت نے اعلان کیا کہ ڈی گال اپنے آبائی علاقے میں جا رہا ہے جہاں وہ اپنے استعفیٰ کی تقریر تیار کرے گا‘ لیکن صدارتی ہیلی کاپٹر اس کے کولمبے مینشن میں کبھی نہیں پہنچا۔ چھ گھنٹوں تک دنیا کو پتہ نہیں تھا کہ فرانس کا ‘مرد آہن‘ کہاں ہے؟ ریاستی افسر شاہی میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ ایک سرکاری اہلکار نے اپنے ماتحت سے پوچھا کہ اگر انقلابیوں نے فیول سپلائی پر قبضہ کر لیا تو صدر کا قافلہ کہاں تک جائے گا۔ عوام معاشی مراکز پر قبضہ کر رہے تھے۔ بینکوں سے پیسہ نکالنا مشکل ہو گیا تھا، نجی گاڑیوں کے لیے ایندھن دستیاب نہیں تھا اور کچھ بورژوا خاندانوں نے نجی طیارے یا جعلی دستاویزات کے ذریعے ملک سے بھاگنے کی کوششیں بھی کیں۔ وزیر اعظم کو جلد ہی پتہ چلا کہ ڈی گال جرمنی میں واقع فرانسیسی فوج کے ہیڈکوارٹر میں جنرل ژاک میسو سے ملنے گیا ہے جس نے پست ہمت ڈی گال کو فرانس واپس جانے کا مشورہ دیا۔ اسے فوج کی حمایت کا ابھی تک یقین نہیں تھا۔ ڈی گال کی بیوی نے خاندانی زیورات جرمنی میں اپنے داماد اور بہو کو دے دیے جہاں وہ ممکنہ طور پر جانے والے تھے۔
30 مئی کو پیرس میں پانچ لاکھ سے زائد لوگوں نے مارچ کرتے ہوئے ”الوداع ڈی گال‘‘ کے نعرے لگائے۔ یہ تاریخی ستم ظریفی ہے کہ فرانس کی کمیونسٹ پارٹی نے انقلاب کی مخالفت اس بنیاد پر کی کہ پارٹی کو مسلح سرکشی کی بجائے انتخابی طریقے سے اقتدار میں آنا چاہیے۔ اگر کمیونسٹ پارٹی کی قیادت واقعی کمیونسٹ ہوتی تو وہ ایک انقلابی راستے کا انتخاب کرتے ہوئے تحریک کی قیادت کرتی۔ معیشت کے کلیدی حصوں اور حکومتی عمارات پر قبضہ کرتی۔ فوج ناگزیر طور پر طبقاتی بنیادوں پر ٹوٹ جانی تھی کیونکہ یہ1871ء کے پیرس کمیون کے وقت کا فرانس نہیں تھا بلکہ 1968ء میں اگر فوج کو صوبوں سے لا کر پیرس میں سرکشی کو کچلنے کی کوشش کی جاتی تو فوج میں بغاوت ہو جانی تھی۔
کمیونسٹ پارٹی اورUNEF نے جب مزدوروں اور طلبہ کی ہڑتالوں کے خاتمے کا اعلان کیا تو انقلابی طلبہ اور مزدور مایوس ہو گئے۔ تحریک کا زور ٹوٹا اور مزدور آہستہ آہستہ کام کی طرف واپس آنا شروع ہوئے یا لوپیس نے انہیں فیکٹریوں سے نکال دیا۔حکومت نے بائیں بازو کی ریڈیکل طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا دی۔ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت انتخابات کے لیے راضی ہو گئی اور انقلاب کو کچل دیا گیا۔ یورپ اور پوری دنیا کا مقدر بدلنے کا ایک تاریخی موقع ضائع ہو گیا۔ لیکن پچاس سال بعد بھی مزدوروں اور طلبہ کی نئی نسل فرانس میں دوبارہ ابھر رہی ہے۔ نوجوانوں اور انقلابیوںکے لیے فرانس کے1968ء کے انقلاب سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے تاکہ ایک فتح یاب سوشلسٹ انقلاب کو یقینی بنایا جا سکے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker