سید مجاہد علیکالملکھاری

منتخب حکومت روانہ ہوئی، چیف جسٹس واپس آ گئے/ سید مجاہد علی

دو ہفتے کے سناٹے کے بعد آج کے اخبارات ایک بار پھر عدالت عظمیٰ کی تمکنت سے جگمگا اٹھے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار دو ہفتے تک غیر ملکی دورے پر کیا رہے کہ یوں لگنے لگا کہ ملک کی عدالتیں ہی چھٹی پر چلی گئی ہیں۔ کہاں روزانہ کی اہم خبرں میں دو سے تین خبریں سپریم کورٹ کے احکامات اور سرگرمیوں کے بارے میں دکھائی دیتی تھیں کہ اچانک یوں خاموشی چھائی کہ لگا کہ ملک سے انصاف ہی روٹھ گیا ہے ۔ شکر خدا کا کہ جسٹس ثاقب نثار وطن لوٹے اور ایوان عدل پر متمکن ہو کر جانے والی حکومت کے وزیروں اور عہدیداروں سے بلٹ پروف اور دوسری قسم کی فالتو گاڑیاں واپس لینے کا حکم جاری کیا۔ رات کے بارہ بجے ادھر عہدہ کی مدت ختم ہوئی، ادھر سپریم کورٹ کے حکم سے ساری سرکاری سہولتیں واپس لے جائیں گی۔ پاکستانی میڈیا پر دو ہفتے تک چھائے سناٹے سے چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ خبر کی بنیاد پر قائم ہونے والی تمکنت اور اتھارٹی کی عمر کس قدر قلیل ہوتی ہے ۔ دو ہفتے کی غیر حاضری سے چیف صاحب خبروں سے غائب رہے تھے تو سال پورا ہونے کے بعد جب وہ اپنے عہدے سے رخصت ہوں گے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی باتوں ، دعوؤں اور احکامات کو کس طرح جانچا اور تولا جائے گا۔
ستم ظریفی یہ کہ ان دو ہفتوں میں بیرون ملک چیف جسٹس کی مصروفیت کے حوالے سے ایک ہی خبر آئی جس میں انہوں نے چین میں کسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان کی زیریں عدالتوں کو ہدایت دے دی گئی ہے کہ وہ سی پیک کے تحت ہونے والی سرمایہ کاری کے حوالے سے امتناعی احکامات جاری نہ کریں۔ یوں چیف جسٹس نے اس سنہرے خطاب میں پاکستانی کے نظام عدل کے بارے میں جو اصول ملک سے باہر جا کر بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ ملک کی عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے کرنے کی بجائے قومی مفاد میں فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس طرح انہوں نے خود ہی یہ الجھن دور کردی ہے جو آئین کی حفاظت کے بارے میں ان کے بیانات سے پیدا ہورہی تھی۔ واضح ہوا کہ ملک کی عدالتیں اب بھی نظریہ ضرورت کے تحت ہی کام کرتی ہیں۔ بس وقت کے تقاضوں کے مطابق انہیں عوامی یا قومی مفاد کا نام دے لیا جاتا ہے۔
اس دوران مسلم لیگ (ن) نے لشٹم پشٹم حکومت کے 5 سال پورے کئے اور نصف شب کو وزیر اعظم اور حکومت کے دیگر عہدیدار حکومت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر عوام کے سامنے پیشی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔ عدالتوں کی مہربانی، سیاسی مخالفین کی مہم جوئی اور سیاسی بساط پر چلی جانے والی چالوں کے سبب مسلم لیگ (ن) کو اگر یہ مشکل درپیش ہے کہ اس کے موسمی الیکٹ ایبلز اب نئے ٹھکانوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں تو یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ اب ووٹروں کا سامنا کرتے ہوئے پارٹی کے امید وارں کو پانچ سال حکومت میں گزار کر اپنی کارکردگی کا حساب نہیں دینا بلکہ ’مجھے کیوں نکالا‘ کے بیانیہ کی تکرار کر کے یہ سوال ہئیت مقتدرہ کی طرف لڑھکا دینا ہے کہ ووٹ کو آخر کب عزت دی جائے گی۔ پاکستان میں یوں بھی احتساب صرف انتقام کے نام سے پہنچانا جاتا ہے اور اس کا جوابدہی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ملک میں ایک کے بعد دوسری منتخب حکومت مدت پوری کرچکی ہے۔ اس لئے یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ حکومت کرنے والی سیاسی جماعتوں سے یہ پوچھا جا سکے گا کہ وہ اپنی کارکردگی کا حساب دیں اور بتائیں کہ کیا وجہ ہے کہ عوام اسی پارٹی کو کیوں دوبارہ ووٹ دے کر اپنے اعتماد کا اظہار کریں۔ لیکن 2013 کے انتخابات کے فوری بعد سے دھاندلی اور کرپشن کے نام سے شروع ہونے والے احتجاج کے نام سے رچائے گئے ڈرامہ کی وجہ سے اس جوابدہی کا ماحول پیدا نہیں ہو سکا۔ منتخب وزیر اعظم نااہل ہو کر بدعنوانی کے الزامات کے مقدمات بھگت رہا ہے اور اپنی حکومت کے خلاف دیدہ و نادیدہ قوتوں کی سازش کا انکشاف کرکے جواب دینے کی بجائے خود سوال کر رہا ہے اور پوچھ رہا ہے کہ یہ صورت حال کب تبدیل ہو گی۔ دوسری طرف شریف خاندان کی حاکمیت سے جان چھڑانے کی کوشش کرنے والے سیاست دان بد عنوانی اور ملک کو لوٹ کر کھا جانے کے مرغوب نعروں سے ووٹروں کا دل لبھانے کی کوششوں میں مصروف ہو چکے ہیں۔ اس سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ انتخاب منشور کے متن پر نہیں، نعروں کے زور پر لڑا جائے گا۔ نتیجہ جو اوپر والا چاہے۔ بندہ اس میں کیا کرسکتا ہے۔
ابھی ملک میں نگران حکومتوں کے قیام کی کارروائی نامکمل ہی تھی کہ بلوچستان کے وزیر داخلہ اور ایم کیو ایم کی طرف سے انتخابات کو مؤخر کرنے کی باتیں بھی سامنے آگئی ہیں۔ اگرچہ صدارتی حکم میں 25 جولائی کی تاریخ طے کردی گئی ہے اور سرفراز بگٹی اور ایم کیو ایم نے انتخابات مؤخر کروانے کے لئے دلائل بھی علیحدہ علحدہ دئیے ہیں لیکن ان سے ایک ہی شبہ کو تقویت ملے گی کہ کیا انتخاب وقت پر ہو سکیں گے۔ یا اسکرپٹ رائٹر کے نوشتہ کے بارے میں خبریں لانے والے قاصدوں کی پیش گوئیاں پوری ہوں گی کہ یہ طے کر لیا گیا ہے کہ نگران یا عبوری حکومت کسی منتخب حکومت کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے قومی مفادات کا تحفظ کرسکتی ہے۔ اگر ملک کا آئین بھی قومی مفاد کی حفاظت کے مقصد سے ہی تحریر کیا گیا ہے اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے جج اس قومی مفاد کو سمجھنے میں اپنی مہارت ثابت بھی کرچکے ہیں تو کوئی بھی ناممکن بات ممکن ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ تو یوں بھی امکانات اور قیاس آرائیوں سے ہی عبارت رہی ہے۔ تاہم اگر اس صورت حال سے دل ڈوبنے لگے تو سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے قومی اسمبلی کے آخری اجلاس میں دئیے گئے اس بیان سے تقویت حاصل کی جاسکتی ہے کہ انتخابات میں ایک دن کی تاخیر بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ بس یہ تشفی دیتے ہوئے یہ اندیشہ ضرور دل کو پریشان کرے گا کہ وزیر اعظم کے طور پر شاہد خاقان عباسی کے احکامات پر پوری طرح عمل نہیں ہوتا تھا اور وہ خاموشی سے اپنے اختیار کی بے توقیری برداشت کرتے رہے تھے تو اب اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد سابقہ اسمبلی کے ایک اجلاس میں کی گئی کی باتوں کی کیا اہمیت باقی رہ جائے گی۔
ملک میں جمہوریت کے حوالے سے جب نئی تاریخ لکھی جارہی تھی تو اس دوران دو ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جو بظاہر کوئی بڑی خبر نہیں ہیں لیکن اس سماج کے تار و پود کے بکھرنے میں یہ رویے بنیادی کردار ادا کررہے ہیں۔ پشاور سے ملنے والی خبروں کے مطابق سکھوں کے ممتا ز لیڈر، انسان دوست ، بین العقیدہ ہم آہنگی کے علمبردار اور کٹر پاکستانی چرن جیت سنگھ کو 29 مئی کو کوہاٹ روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ اب قاتلوں کی تلاش کے لئے تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے لیکن ایسی تحقیقات سے مجرموں کا سراغ ملنا محال ہے کیوں کہ قاتلوں کو اپنے گریبانوں میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے ہم تیار نہیں ہیں۔ عدم برداشت اور اقلیتی عقائد کے حوالے سے پیدا ہونے والی انتہا پسندی پاکستانی معاشرہ کا ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جو اس کے وجود کے لئے دن بدن سنگین خطرہ بن رہا ہے۔ جب تک ریاست کے سب ادارے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے یک زبان نہیں ہوتے اور مل کر اس مزاج کی بیخ کنی کرنے کا اقدام نہیں ہوتا، اس وقت تک ملک میں امن و امان کی بحالی محض خواب ہی رہے گی۔
اس حوالے سامنے آنے والی دوسری خبر میں اگرچہ کسی کی جان تو نہیں لی گئی لیکن اس سے جو صورت حال سامنے آئی ہے وہ اخلاقیات اور صنفی احترام کے دعوے دار اس معاشرہ کی اخلاقی پستی اور گھناؤنے چہرےسے پردہ اٹھاتی ہے۔ بحریہ کالج اسلام آباد کی انٹر میڈیٹ کی درجنوں طالبات نے بیالوجی کے ایک ایسے ممتحن کی اخلاق سوز حرکتوں کے بارے میں معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے عام کی ہیں کہ انہیں پڑھ کر ہی گردن شرم سے جھک جاتی ہے۔ افسوس اور حیرت کا مقام یہ بھی ہے کہ اس موقع پر موجود کالج کی ایک خاتون استاد نے بھی مداخلت کرنے اور اس ممتحن کو اپنی اخلاق سوز حرکتوں سے باز رہنے کی ہدایت کرنے کی بجائے، ان حرکات کے دوران چشم پوشی مناسب سمجھی اور طالبات سے بھی کہا گیا کہ وہ خاموش ہی رہیں ورنہ پریکٹیکل امتحان میں ان کے نمبر متاثر ہوں گے۔ اس طرح طالبات کو بھی ’نقصان‘ ہو گا اور کالج کی شہرت بھی متاثر ہو گی۔ تاہم اب اس بارے میں شکایات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔ لیکن یہ رویہ بھی کسی ایک مرد کو سزا دینے یا ایک وقوعہ پر باتیں کرنے سے تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے قومی سطح پر خواتین کو احترام دینے اور ان کے انسانی حقوق کو تسلیم کرنے کے لئے مہم سازی کی ضرورت ہوگی۔
مذہبی انتہا پسندی ہو یا خواتین کے احترام کے حوالے سے اخلاق باختگی، ان دونوں معاملات پر اسی وقت پیش رفت ہو سکتی ہے جب قومی سطح پر ان مسائل کو اہم اور ضروری خیال کیا جائے گا۔ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بنیادی حقوق اور عوام کے مسائل کے حوالے سے سپریم کورٹ نے سرگرمی سے سو موٹو اختیارات کا استعمال کیا ہے۔ کیا چیف جسٹس دو ہفتے کے غیر ملکی دورہ کے بعد ان خبروں پر غور کرتے ہوئے کوئی حکم جاری کریں گے تاکہ سماج میں ان امور کو اجاگر کرکے ان رویوں کی حوصلہ شکنی کے لئے اقدام کیا جاسکے ۔ یا وہ بھی نئی تازہ بہ تازہ خبروں کے ہجوم میں ایک دن یا ایک ہفتہ پرانی خبروں کو فرسودہ سمجھتے ہوئے انہیں نظر انداز کرنا ہی مناسب خیال کریں گے۔
(بشکریہ: کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker