گزشتہ سے پیوستہ
ملتان آرٹس کونسل میں پروفیسر اسلم انصاری اور ذوالفقار علی بھٹی کے ساتھ میرے تعلقات باہم مل کر ایک دلچسپ اور دلکش contrast کا نقش ابھارتے تھے لیکن پھر یوں ہوا کہ کچھ ہی عرصے میں انصاری صاحب ڈیپوٹیشن سے واپس گورنمنٹ کالج/ایمرسن کالج چلے گئے اور آرٹس کونسل بھٹی کے رنگ میں رنگی گئی جس میں ایک نئی ثقافتی سادگی و بے ساختگی آ گئی جس کی چھاپ ایک عرصہ تک اس ادارے پر قائم رہی اس دور میں بھٹی سے میل ملاپ دوستی کے نئے راستوں کی سبیل بن رہاتھا۔
اس دور کے ماضی کے جھروکوں سے اس یار بے مثال ذوالفقار بھٹی کی زندگی کی فلم کا ایک اور فلیش بیک ۔۔۔! یاد پڑتا ہے کہ میں اور یار عزیز شمیم عارف قریشی (جسے مرحوم لکھتے دل میں ایک ٹیس اٹھتی ہے) ایک روز بعد دوپہر حسب معمول آنکھوں اور دل کی ٹھنڈک کے لئے ملتان چھاونی کے صدر بازار میں خراماں خراماں گھوم رہے ہیں کہ کاروان بک سنٹر کے قریب ذوالفقار بھٹی سے آمنا سامنا ہوتا ہے۔۔۔ اور وہ اپنی روایتی سادگی اور بے تکلفی سے بانہیں کھول کر ہم سے ملتا ہے ۔۔۔ ہم اسے بر بنائے تکلف قریب ہی کیفے عافیہ کے پرسکون ماحول میں چائے کی دعوت دیتے ہیں لیکن وہ ہنس کر کہتا ہے
” نہیں یارو آج چائے میرے دفتر میں ہوگی ۔۔۔ خوب گپ شپ بھی رہے گی !”
مجھے پچھلے کچھ عرصے میں کچھ ایسی مصروفیات رہی تھیں اور بہت کافی وجہ آنجہانی ضیاء الحق کا منحوس مارش لا بھی تھا کہ جس کے آسیب نے یاروں کو یاروں سے ملنے کی لذت تک سے بھی محروم کررکھا تھا اس لئے میرا آرٹس کونسل میں آنا جانا موقوف سا ہو گیا تھا اور اس دوران میں آرٹس کونسل کا دفتر آفیسرز کالونی سے بہاولپور روڈ پر ایک کوٹھی میں منتقل ہو چکا تھا جو ملتان چھاونی کےصدر بازار سے زیادہ دور نہیں ہے ۔۔۔ انصاری صاحب کے علاوہ انور جٹ بھی بوجوہ آرٹس کونسل کی نوکری سے ہاتھ دھو چکا تھا اور اب ذوالفقار بھٹی آرٹس کونسل کا ریذیڈنٹ ڈائریکٹر تھا۔۔۔ بھٹی کی دعوت اتنی پرخلوص و پر اصرار تھی کہ ہم نے حامی بھر لی اور اس کے دفتر جانے کیلئے میں اپنی موٹر سائیکل کی طرف بڑھا لیکن بھٹی نے للکار کر روکا اور کہا
"نہیں یار اپنی پھٹپھٹی کو ابھی ادھر ہی چھوڑو۔۔۔ میں نے کار خرید لی ہے ( اس کار کی بھی عجب داستاں ہے جس کا ذکر ممکن ہے آگے آئے) ۔۔۔آو تمہیں "جھوٹے کھلاوں” کار کے۔۔۔! پھر واپس یہیں چھوڑ دوں گا تم لوگوں کو۔”
عرض کیا "سائیں اپنی تو کل متاع ہی یہی پھٹ پھٹی یے، یہ نہ رہی تو پھر بندہ تو بالکل ہی پیدل۔۔۔!”
"یار اب ایسا بھی اندھیر نہیں مجا ہوا فوجی حکومت ہے۔۔۔!”
بھٹی کی اس بات پر ہم نے ایک بار پھر موٹر سائیکل پاک فوج کی حفاظت میں چھوڑنے کا اعتبار کیا اور اس کی گاڑی میں بیٹھ گئے ۔
اس روز کے بعد ہماری آوارہ گردی کا ایک اہم ترین پڑاو ایک بار پھر ملتان آرٹ کونسل بن گئی۔۔۔ اب سیاں بھیئے کوتوال تھے اور اس ادارے کی نام نہاد پالیسی سازی میں ہم بھی خود کو از خود ہی غیر سرکاری مشیر سمجھنے لگ گئے تھے اسلئے یہاں کی ہر تقریب کے حاضرباش فرد قرار پائے۔
بھٹی کی یہ عجیب عادت ہے کہ وہ ایک بار کوئی کام اپنے ذمے لےلے تو پھر مکمل اسی کا ہی ہو کر رہ جاتا ہے اس لئے ان دنوں بھٹی صبح سے شام تک بلکہ اکثر تو رات گئے تک دفتر ہی میں موجود رہتا اور ہم چھڑے مچھڑے اپنے کاموں سے فارغ ہوکر اکثر اس کے پاس پہنچ جاتے اس دوران ۔ہمیں بعض اوقات صرف اس کی بے انتہا فرض شناسی بلکہ بقول شمیم قریشی مرحوم اس کی
most obedient servant ہونے کی عادت پر بہت تاو بھی آتا کیونکہ ہماری خواہش کہیں باہر گھومنے کی ہوتی لیکن ادھر معاملہ زمین جنبد زماں جنبد، نہ جنبد گل محمد والا ہوتا وہ دفتر چھوڑنے کی بجائے جو کچھ چاہئے وہیں منگوا لینے پر مصر ہوتا تھا۔ اس کے دفتری معاملات میں یہ بھی دیکھا کہ اگر کوئی بات خود اس کے اپنے تصور کردہ میرٹ کے خلاف ہوتی تو پھر وہ کسی کی نہیں سنتا تھا بلکہ بقول حاسد دوستوں کے وہ حسب موقع وضرورت ماتھے پر آنکھیں رکھنے سے بھی باز نہیں آتا تھا اس سے اسے بارہا نقصان بھی اٹھانا پڑا لیکن تاحال تو اس علت سے وہ باز آیا نہیں۔۔۔ اس کی اسی عادت کے باعث اس کا شاید ہیڈ آفس میں کسی سے کسی معاملہ پر اختلاف ہوا تو لاہور ہیڈ آفس سے ملک عمران کو ملتان آرٹ کونسل کا چارج دے کر بھیجا گیا حالانکہ اک قانون دان کے خیال میں یہ اس ادارے کے قواعد میں تھا کہ اس کا انچارج وسیبی کلچر سے شناسا کوئی مقامی دانشور، ادیب یا آرٹسٹ ہو سکتا ہے۔۔۔ اسی دوران یہ بھی ہوا کہ اس کی ملازمت لگ بھگ ختم ہوگئی تھی لیکن اس وقت کے سیکرٹری اطلاعات پنجاب جاوید قریشی کی خصوصی مداخلت پر معاملہ رفع دفع ہوا۔۔۔ لیکن یہ صاحب اپنی” اصول پسندی "سے کبھی باز،نہیں آئے۔۔۔ پھر سید فخرالدین بلے چند برس تک آرٹس کونسل کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر رہے تو ان کا پورا ساتھ دینے کے باوجود جہاں ان سے اختلاف ہوا ڈٹ کر اختلاف کیا۔ اسی دوران میں اس کا ہم جماعت محمد علی واسطی بھی کنٹریکٹ پر بطور پروگرام آفیسر ملتان آرٹس کونسل میں آگیا تو ان کی اچھی جوڑی بن گئی تھی۔۔۔ فخرالدین بلے مرحوم شعبہ اطلاعات سے ادھر آئے تھے وہ بڑے خوش خلق ، وضعدار، وسیع تعلقات رکھنے والے کائیاں انسان تھے (مرحوم بلے صاحب کے ایک فرزند عارف معین بلے میرے مختصر سے دور صحافت میں میرے کولیگ رہے ان سے دوستی کے باعث میرا ان کے گھر بھی آنا جانا تھا) لیکن کچھ عرصے میں بعض معاملات پر ان کا بھٹی سے اختلاف ہو گیا اور دفتری آویزشیں شروع ہوگئیں بلے ، صاحب نے اسے تنگ کرنا شروع کیا تو بھٹی نے ان کی چالوں کا ایسا بھرپور جواب دیا کہ مرحوم بلے صاحب کے پسینے چھوٹ گئے جب دوستوں کی دخل اندازی سے دونوں میں باہم صلح صفائی ہو گئی تو بلے صاحب نے نہ صرف کھلے دل اسے بھٹی کو سینے سے لگایا بلکہ وہ بھٹی کی موثر سازشی چالوں پر وہ اسے داد دیئے بغیر نہ رہ سکے ایک روز اچھے موڈ میں بیٹھے تھے کہنےلگے "میاں ہم خود کو بہت کچھ سمجھتے تھے لیکن ان چھوکروں (بھٹی اور واسطی۔۔۔ اصل کھلاڑی تو بھٹی ہی تھا ) ہمیں واقعی دیوار سے لگادیا تھا۔”
بلے صاحب مرحوم سے بھٹی کی کشاکش کے اس عرصے میں پتہ چلا کہ بھٹی محض سیدھا سادہ آرٹسٹ ہی نہیں بلکہ ضرورت پڑے تو اسے لڑنا اور چالیں چلنا بھی خوب آتاہے۔ اس دور میں ، میں اس کو اکثر یہ کہہ کر چھیڑا کرتا کہ
کوئی سادہ ہی تجھے سادہ کہے
یہ تو ایک جملہءمعترضہ ہی تھا ذوالفقار بھٹی بہر حال ایک دوستدار اور یار باش آدمی کے طور پر ہی جانا جاتا ہےاکثر احباب کا خیال خوش ہے کہ ذوالفقار بھٹی ایک ایسا شخص جس کی کیسی سے دشمنی کا کوئی سوال ہی نہیں اس خیال کی تکذیب کی ہمیں مجال نہیں ۔۔۔
میں نے دیکھا ہے کہ دوستی اور دشمنی کے معیار/ میرٹ کے بارے میں بھٹی کے خود اپنے تصورات ہیں جس کا جواز اس کے دیہاتی راجپوتانہ کلچر میں ہی موجود ہوگا۔۔۔
میں نے اس کے ساتھ دوستی کے اس لمبے دورانیے میں یہ دیکھا اور محسوس کیا کہ وہ اپنے مخصوص جھینپو مزاج کے باعث وہ اپنی محبت اور نفرت کا واضح اظہار کم ہی کر پاتا ہے۔ اس کی یہ بھی عادت ہے کہ وہ اپنے دوستوں سے کبھی براہ راست اپنے لئے کچھ طلب نہیں کرتا (اگرچہ وہ اس کی توقع بہت رکھتا ہے) لیکن اس سے تعلق خاطر کے خود میرے لگ بھگ چوالیس سالہ تجربے کے مطابق اس کو دوستی میں بھی ایک لاڈلے بچے کی طرح بہلا کے رکھنا پڑتا ہے، اس کی کئی باتیں ہنس کر ٹالنا پڑتی ہیں، یہ یقین رکھ کر اس کے ساتھ چلنا پڑتا ہے کہ اس کی ناراضی سے زیادہ عارضی چیز کوئی ہو نہیں سکتی، وہ کسی سے سخت ناراض بھی ہو تو وہ شخص جاکر اسے کچھ جتلائے بغیر،اس سے بات شروع کردے تو چند لمحے بچوں کی طرح منہ بنانے کی کوشش میں ہی اس کی ہنسی نکل جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہےکہ خود اسے کسی روٹھے ہوئے شخص کو ڈھنگ سے منانا کبھی نہیں آیا یہ شکوہ مرحومہ بھابھی فردوس کو بھی زندگی بھر رہا ۔شاید ایسا اس کی زندگی کی اس دلچسپ حقیقت کے باعث ہے کہ وہ اپنے سات آٹھ بھائی بہنوں میں نہ وہ سب سے بڑا ہے نہ سب سے چھوٹا لیکن نجانے کیوں پھر بھی سب سے لاڈلا وہی ہے میرے اس کے چاروں بھائیوں سے بہت اچھے اور مراسم رہے ہیں بڑے بھائی ملک فیض بخش بھٹی اسے اپنے بیٹوں کی طرح چاہتے تھے اور اس کی ہر ضرورت از خود پوری کرنے میں لگے رہتے تھے ۔۔۔ ملک فیض بخش مرحوم ذوالفقار سے میری دوستی کے باعث مجھ سے بھی بہت محبت اور شفقت کا سلوک رکھتا تھے ۔۔۔ تین بھائی اللہ یار بھٹی, حق نواز بھٹی اور سرفراز بھٹی اس سے چھوٹے ہیں لیکن ان سب سے اس کے تعلق کی نوعیت بہت دلچسپ ہے۔ یہ تینوں ہی اس کی عزت تو روایتی دیہاتی ثقافتی انداز میں بڑے بھائی کی طرح کرتے ہیں لیکن اس کا خیال اس طرح رکھتے جس طرح چھوٹے اور لاڈلے بھائی کا خیال رکھا جاتا ہے۔۔۔ یہ تینوں ہی بہت کامیاب کاشتکار ہیں اور اپنے اس لاڈلے بھائی کی روایتی لاپروائی اور کئی عادتوں کے شاکی ہونے کے باوجو حرف شکایت کم ہی اپنی زبان پر لاتے ہیں ان سب کو خوشی ہے کہ ان کا یہ بھائی ایک نامور آرٹسٹ ہے اور شہر کے پڑھے لکھے لوگ اس کی عزت کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شاید سبھی آرٹسٹ ایسے ہی ہوتے ہیں اس لئے اس کا خیال رکھنا ان کی لازمی ذمہ داری ہے۔ سرفراز بھٹی اپنی طالب علمی کے دور میں بعض معاملات میں مجھ سے مشاورت کرتا رہا یہ اس کی وضعداری ہے کہ اس معمولی سے معاملے کو اس نے کبھی بھلایا نہیں اور ہمیشہ ان باتوں کو یاد کرکے، مجھے شرمندہ کرتا رہتا ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ لگ بھگ تیس ایک برس گزرنے کے باوجود سمجھتا مجھے اپنے بڑے بھائی کا ہی دوست ہے اور میری عزت چھوٹے بھائی کی طرح ہی عزت کرتا ہے۔ (ذوالفقاربھٹی سے چھوٹے بھائی ملک اللہ یار کچھ روز،پہلے کووڈ کی موذی وبا کے باعٹ اللہ کو پیارے ہوئے جس پر اس کا اندوہ بے پناہ تھا وہ اپنے پیارے بھائی کے دکھ کو اس لئے بھی شدت سے محسوس کر رہاتھا کہ وہ خود اس مرض کی پہلی لہر میں شدید تکلیف سے دوچار ہوچکا تھا اللہ نے بے شک اسے دوسری زندگی عطاکی بھائی کی جدائی پر اللہ اسے صبر جمیل بھی عطا فرمائے) ۔
یہ بھٹی کی خوش قسمتی ہے کہ بڑوں کی دیکھا دیکھی خود اسکے اپنے بچے بھتیجے بھی حسب،موقع اس کے لاڈ اٹھانے میں لگے رہتے ہیں ۔
بھٹی کے چاروں،بیٹوں خالد،آصف(پومی) محمد علی (مومو) اور عمر سے بھی میرا اچھا دوستانہ رہا ہے وہ جو باتیں اپنے والد محترم سے نہیں کہہ پاتے تھے مجھ سے کہہ سن لیتے تھے ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بھٹی اپنے بچوں سے ایک بے تکلف دوستانہ فضا ہمیشہ قائم رکھتا ہے بزرگانہ رعب کے ساتھ۔۔۔ میں نے دیکھا ہے کہ اس کے سب بچوں کو اپنے لاڈلے لا پروا باپ کی بہت فکر رہتی ہے ۔۔۔ ابا حضور جو کریں جو کہیں یہ چپ چاپ ایک دوسرے کو سمجھانے میں لگے رہتے ہیں۔۔۔ میں شرارتا ان سے ان کے ابا کا گلہ بھی شروع کردوں تو یہ بس ہنس کر رہ جاتے ہیں کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ بھٹی ایک بہت پیار کرنے والا باپ ہے جو اپنے بچوں کی چھوٹی بڑی خطاوں سے ہمیشہ صرف نظر کرتا ہے اور اس نے کبھی ان کے آرام میں کمی نہیں آنے دی ان کی زندگی کے اکثر فیصلوں میں بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے ان کا ساتھ دیا۔ ایسا باپ جتنا بھی لاڈلا اور لاہروا ہو وارے کھاتا ہے۔
(جاری ہے)
فیس بک کمینٹ

