ادبڈاکٹر علمدار حسین بخاریلکھاری

ڈاکٹر علمدار حسین بخاری کا خاکہ:ما و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوان عشق !۔۔ذوالفقار علی بھٹی (6)

میر تقی میر نے کہاتھا اور کیا خوب کہا تھا کہ
ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہل
چاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی
لیکن اسی نیم رخ صورت ہی کے تو سبھی دیوانے ہوتے ہیں حتی کی خود محبوبہ کی اداوں کے نقش گر خود خسیناوں کی توجہ کا مرکز بھی بن جایا کرتے ہیں ۔ اسی باعث نقش ہی نہیں خود نقاش کی طرف بھی صاحبان حسن ایک غیر محسوس بے طرح کشش محوس،کرنے لگتے ہیں، اس رمز کا غالب کو خوب پتہ تھا کہ اس نے کہا تھا
سیکھے ہیں مہ رخوں کےلئے ہم مصوری !
ذوالفقار علی بھٹی ایک ایسا نقش گر ہے کہ جس نے مصوری تب سے سیکھنی شروع کردی تھی جب اسے مہ رخوں کی توجہ اور بے رخی سے نہ کوئی جان پہچان تھی اور نہ ہی اس کی تمیز ہی تھی یعنی بچپن میں مٹی کے کھلونوں اور گھگو گھوڑوں سے کھیلتے ہوئے اس نے ماں سے ضد کرکے گھر گھر یہ کھلونے بیچنے والی ایک عورت سے مٹی اور گندم کے آٹے سے یہ کھلونے اور ردی کاغذوں کو رنگ کر پھول پتے اور گھگھو گھوڑے بنانا سیکھنا شروح کردیئے اور کچھ ہی عرصے میں اس فن میں تاک ہوا۔ پھر پرائمری جماعت کے بعد اپنی بستی کے سکول سے پرائمری پاس کر کے ہائی سکول میں پڑھنے کیلئے وہ ملتان پہنچا تو اس کے اس شوق کی تشفی کے کئی اور سامان پیدا ہونے لگے۔ شہر کی دنیا ہی الگ تھی پہلے عام خاص باغ بیرون دولت دروازہ سکول اور پھر گلگشت ماڈل سکول ملتان میں ڈرائنگ /فائن آرٹس کے اساتذہ استاد محمد منیر اور استاد بشیر احمد کی پرشفقت رہنمائی میں ڈرائنگ اور مولڈنگ سیکھی سکیچنگ اور پلاسٹر آف پیرس سے صورت سازی کا جنوں ایک واضح جہت اختیار کرنے لگا۔۔۔۔ اندر کی بے چینی و بےقراری دلی دروازہ سینما پینٹنگ والوں کے پاس لے گئی اور خوشی خوشی بطور جھوٹا کام کرنا قبول کیا، یہاں فریم بنانا فریم پر کینوس فٹ کرنا گراف کھنچتا اور سریش کی مکسنگ سے آکسائیڈ رنگ سازی سیکھی یہ پیشرفت اسے اپنے ہم جماعتوں میں ممتاز کر رہی تھی اس لئے حوصلہ مزید بڑھا۔ گرمی کی دوپہروں میں اس جنوں کے مجبور یہ ننھا آرٹسٹ کولتار کی کالی سڑکوں پر سفید پلاسٹر آف پیرس کے خشک ٹکڑوں سے انسانوں اور جانوروں کے فری ہینڈ سکیچ بنایا کرتا اور کالونی کے لڑکے بالے یہ منظر دیکھنے کو اس کے اردگرد جمع ہو جاتے۔۔۔ اسے یہ تماشاگری کرنے میں بڑا مزا آتا۔
شمسس آباد ماڈل سکول کی ہائی کلاسوں میو سکول آف آرٹس لاہور سے تربیت یافتہ استاد اللہ بخش کی رہنمائی سونے پر سہاگا ثابت ہوئی لیکن انٹرمیڈیٹ میں ولایت حسین کالج میں داخلہ لیا تو وہاں اس میدان میں رہنمائی کا مناسب بندوبست نہ پا کر مرمر کے ایف اے پاس کیا اگر اس کے بعد اس کے ہم جماعت نسیم اللہ کے کزن ڈاکٹر ظفراللہ اور پھر مختار آرٹسٹ سے اس کی ملاقات نہ ہوتی ۔۔۔ (جن کے اصرار پر اس نے نسیم اللہ کے ہمراہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں جا داخلہ لیا۔۔۔۔) تو ذوالفقار بھٹی ملتان کے نواح کا ایک چھوٹا موٹا کاشتکار ہوتا اور بس۔۔۔
این۔سی۔اے میں اس کے پینڈو پن اور فنی جنوں نے اسے یہاں کی بہت سی روایتی قباحتوں سے بچائے رکھا حتی کہ اس کے ہم جماعت دوستوں نسیم اللہ راشد ، محمد علی واسطی، محمد بشیر اقبال حسین وغیرہ کی نو دریافت ترقی پسند دانشوری سے بھی وہ دور ہی رہا ، لیکن اپنی روایتی دیہاتی رجعت پسند سوچ سے اس کی اٹل وابستگی بھی اسے کبھی فن کے لئے ذہنی کشادگی سے دور نہیں رکھ سکی اس لئے اس کا حلقہ احباب زیادہ تر آزاد خیال اور پروگریسو فن کاروں اور ادیبوں ساعروں پر مشتمل ہے۔
این سی اے کی فائن آرٹس کلاس میں ھٹی گولڈ میڈل لے کر پاس ہوا تو لوک ورثہ اسلام آباد میں اسے بہ آسانی نوکری مل گئی جہاں عکسی مفتی کی زیر نگرانی اس نئے ادارے کے میوزیم کے آغاز کے لئے جی لگا کر کام کیا لیکن اس وقت اس بے رونق اور بے مروت شہر میں اس کا جی لگا نہیں اس لئے ایک دن اچانک ملتان کی مونجھ نے ایسا گھیرایا کہ گھبرا کر بوریا بسترباندھ ملتان کی راہ لی بیوی بچے اور کاشتکاری اس کا خیال خام تھا زندگی مزے میں گزرے گی لیکن پھر وہی بے چینی ۔۔۔ اس دوران میں ملتان آرٹس کونسل کا آغاز ہوا اور ملتان کے نامور شاعر اور دانشور اس کے پہلے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوئے ۔ یہاں فائن آرٹس کی کلاسیں شروع ہوئیں تو بھٹی نے اپنی خدمات بطور انسٹرکٹر پیش کردیں کچھ عرصہ بعد وہ یہاں پروگرام آفیسر ہوگیا
لیکن ہم بات اس کے آرٹ کی کررہے تھے اسے این۔سی۔اے کے شعبہ فنون لطیفہ میں اسے اول پوزیشن ہی اس لئے ملی تھی کہ شاکر علی، سعید اختر، خالد اقبال، سلیمہ ہاشمی ، کولن ڈیوڈ اور اعجازالحسن جیسے استادان فن نے اس کی انفرادیت کو تسلیم کیاتھا ۔
واٹر کلر میں لینڈ سکیپ پینٹنگ، پورٹریٹ، اور مجسمہ سازی (sculpture) بھٹی کی دلچسپی کے خاص میدان بن گئے ۔۔۔ یادش بخیر کبھی ایک برقعہ پوش خاتون کا بے حد دلکش قد آدم مجسمہ ملتان آرٹ کونسل کے دفتر کے باہر ایستادہ ہوا کرتا تھا ہر آنے جانے والا اس مجسمہ کو ایک بار رک کر بغور دیکھے بغیر رہ نہیں سکتا تھا یہ این سی اے کے فائنل سال میں بھٹی کا پراجیکٹ تھا اور اسے وہاں بھی خوب داد و تحسین میسر آئی تھی۔۔۔
ملتان کے معروف سرائیکی شاعر اور دانشور رفعت عباس اور نوجوان ادیب الیاس کبیر ذوالفقار بھٹی کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات کے بعد بھٹی کے فن کے بارے میں لکھتے ہیں کہ۔
“۔۔۔ رنگ و ہیئت سے اپنی فطری مناسبت کی بدولت بہت جلد انہوں نے اپنا ایک مصورانہ اسلوب نکال لیا۔
،۔۔۔ ان کی توانائی ڈرائنگ، ریاضیاتی و سائینسی حدوں کو چھوٹا ہوا ان کا تناظر اشیاء ،۔۔۔ یہ وہ زاد فن تھا جس نے انہیں کلاسیکل امپریشن ازم کے بہاو میں بھی منفرد وممتاز کردیا۔لاہور اور ملتان کے نواح میں On site painting کے جنوں نے ان پر واٹر کلر (پینٹنگ) کے دریچے کھول دیئے مسجدوں اور مزاروں کے میناروں گنبد ، پانی،اور پرندے، دریا اور دریا کے کنارے آباد جھگیاں اور گھر ،کھیت کھلیان، خانہ بدوش زندگی ،شہر اور شہر کے گلی کوچے ، پرانی عمارتوں کے دریچے جھروکے، فقیر درویش ، پکھی واس، (بھٹی کی) واٹر کلر (پینٹنگز) کا حصہ بنتے چلے گئے لیکن ان کا اسلوب اشیا کے ظاہر میں (ان کا) باطن دیکھنا ہے۔ واٹر کلر میں واش ٹیکنیک کے ذریعے وہ تصویر بن میں ایک پر اسرار اور علمیت بھرا تاثر لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو ان کے اسلوب کو نمایاں کرتا ہے” (رسالہ النخیل گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج
یہ تو ہوئی تھوڑی بہت مصوری کی بات اب رہ گیا مہ رخوں کا حوالہ جو ہمارے یار کی زندگی تصویر کے رنگ کو مزید دلپذیر بنا دیتا ہے لیکن اس کے ادھ کھلے تذکرے پر وہ میری جان کا دشمن بن سکتا ہے لیکن بچ بچا کر کچھ اشارے تو کرنے ہی پڑیں گے اللہ خیر کرے اور اس کے دل میں عفو و درگذر کا جذبہ پیدا کرے کیوں کہ وہ چاہے تو ایک راجپوت کو بھی انتقام سے باز رکھ سکتا ہے۔ ذولفقار بھٹی کے زیادہ تر دوستوں کا اس کے بارے میں گمان یہ ہے کہ وہ ایک ایسا سیدھا سادہ بندہ ہے کہ جس کی شخصیت میں کوئی گنجل، کوئی پیچ ہے ہی نہیں کیونکہ اسے خود اپنی شخصی کامیابیوں اور اوصاف کے بارے میں ڈینگیں مارنے کی بالکل عادت نہیں اس لئے اس کے زیادہ تر دوست، احباب کے سامنے اس کی زندگی کے کئی پہلو اکثر پوشیدہ ہی رہ جاتے ہیں۔ احباب اکثر اس کے عمومی انداز زیست سے یہ دھوکہ بھی کھا جاتے ہیں کہ یاروں، دوستوں میں گھرا رہنے والے ایک کثیرالاولاد اور گھریلو سے شخص کے اپنے اتنے بکھیڑے ہوتے ہیں کہ وہ کسی قسم کی فضولیات میں پڑنے کا خطرہ مول بھی کیسے لے سکتا ہے ؟
اسی حوالے سے اس کے بارے میں ایک عام گمان یہ بھی ہے کہ آرٹسٹ ہونے کے باوجود یہ رومانس اور رومانوی باتوں سے گریزاں شرمیلا سا بندہ ہے بلکہ بعضوں کے خیال میں تو اس جیسا غیر رومانی شخص بھی کوئی کم ہی ملے گا کیونکہ رومانی اور مرصع انداز کی گفتگو تک سے یہ چڑ جاتا ہے دانشورانہ باتوں سے اس کی جان جاتی ہے، اس لئے ایک مستند پینٹر اور مجسمہ ساز ہونے کے باوجود آپنی عام اور سادہ وضع قطع اور اپنے سیدھے سادے طرز کلام، دہقانی جملہ بازی اور لطیفہ گوئی کے باعث وہ کہیں سے بھی ایسا باقاعدہ اور ماڈرن “فن کار” نہیں لگتا کہ ماڈرن آرٹ لوور خواتین اسکی طرف کھچی چلی آئیں۔۔۔ نہ بڑھے ہوئے گیسو ،نہ پرخمار آنکھیں، نہ میلے کچیلے بغیر استری کے کپڑے اور نہ ہی کہیں کوئی دانشورانہ اور رومان انگیز مکالمہ بازی ۔۔۔! لیکن وہ جو غالب نے کہا تھا کہ
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ، یہ بازی گر کھلا
میں یہ بات بوجوہ دہرا رہا ہوں کہ دو عدد شرعی بیویوں (جن میں بھابی فردوس (مرحومہ) کے ساتھ اس کی شادی محبت کے نتیجے میں ہوئی ) کے شوہر اور سات آٹھ بجوں کے دیہاتی سے والد بزرگوار کی زندگی میں رومانس کی گنجائش کا کوئی سوچ بھی کیسے سکتا ہے لیکن آرٹسٹ کی بہر حال اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں واقفان حال (حاشاوکلا میں یہاں محمد علی واسطی اور نسیم اللہ کی طرف قطعی طور پر کوئی اشارہ نہیں کررہا)کو خبر ہے کہ اس سلسلہ ء سلوک میں موصوف کس قدر خوش قسمت واقع ہوئے ہیں اور کتنی ہی حسینائیں اس کی نظرتوجہ کی منتظر رہا کیں۔ میں نے بارہا دیکھا کہ اچھی بھلی خواتین کو نہ جانے کیوں اس میں کچھ ایسا محسوس ہوتا کہ اس کی طرف بس کھچی چلی آتیں، حیرت ہوتی تھی کہ اس کی کئی بظاہر احمقانہ حرکتیں اور باتیں بھی مہ وشوں کے دل لبھا جاتیں۔۔۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دلکشا خاتون سے اس کا رسمی سا تعارف ہوا چند ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں اور بس۔۔۔۔ چند روز بعد دوپہر کے وقت میں بھی اس کے دفتر میں بیٹھا اس سے گپ شپ کر رہا تھا کہ اسی عفیفہ کا فون آ گیا۔۔۔ اس نے جونہی شیریں آواز اور لہجے میں اپنا نام بتایا ہمارے آرٹسٹ نے چمکتی آواز میں بے ساختہ کہا،” اوہ؛ آپ۔۔۔ میرا جی چاہتا ہے۔۔۔!”
یہ کچھ رکے تو موصوفہ نے ہنس کر پوچھا کیا جی چاہتا ہے بھٹی صاحب۔۔۔؟ ”
“جی چاہتا ہے۔۔۔ جی چاہتا ہے کہ چھلانگ لگا کر ۔۔۔ پنکھے سے لٹک جاوں۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن !”
“لیکن کیا۔۔۔؟” ادھر سے گھنٹیاں سی بجیں۔
“پنکھا کافی اونچا ہے اور ۔۔۔اور۔۔۔بہت تیز بھی چل رہا ہے” موصوف نے بظاہر سادہ معصومیت سے کہا۔۔۔ ادھر سے بے کھٹکھٹایا ہنسی کی بے تحاشا آواز ابھری اور اسی جلترنگ کے سروں میں ہی کہا گیا
“نہیں۔۔۔ نہیں ۔۔۔ ایسا غضب نہ ڈھانا۔۔۔ کوئی رسک وسک نہیں لینا۔۔۔ میں ابھی آئی ۔۔ آپ۔۔۔فون بند کریں،”
“لیکن ۔۔۔ لیکن فون تو آپ نے کیا ہے میں کیسے بند کرسکتا ہوں !” ایک سعادت مند شاگرد کی سی گھٹی گھٹی پرمسرت آواز ابھری۔ بہرحال کچھ ہی دیر میں موصوفہ اپنے تمام تر جمال کے ساتھ اس کے دفتر میں تھیں اور ہم ملتان کی گرمیوں کی تپتی دوپہر میں کولتار کی سیاہ سڑک پر بے سمت رواں ٹھنڈی آہیں بھر رہے تھے ۔ ایسے کتنے ہی واقعات سے اس “خوش قسمت انسان” کی زندگی بھری پڑی ہے اس لئے اگر کہیں میری طرف سے کہیں رشک اور کہیں حسد کے جلاپے کا شائبہ ہو تو مجھے معذور سمجھئے گا ۔ وہ جو منیر نیازی نے کہا تھا کہ
جو گفتنی نہیں وہ بات بھی سنا دوں گا
ایک بار تو مل سب گلے مٹا دوں گا
شاید میری طرح اسے بھی کوئی ایسا ہی مرحلہ درپیش تھا کہ جو گفتنی نہیں اسے تحریر کرنے کی جرات اس میں بھی نہیں تھی لیکن شاید مجھ میں تو بالمشافہ بھی نا گفتنی کی طرف اشارہ کرنے کا حوصلہ نہیں اس لئے ایک داستان دلپذیر ناگفتہ اور نامحررہ ہی رہ جائے گی۔
قدرت کا بھی عجیب نظام ہے اس نے ہم جیسے کم توفیق حاسدوں کی تشفی کے بھی کچھ سامان کر رکھے ہوتے ہیں ، اس معاملے میں اس طرح ہوا ہے کہ جس کو قدرت ایسی قابل رشک قسمت دیتا ہے کبھی کبھی اس کے اندر سے اس حوالے سے “مطلوبہ ہوس” کا عنصر بہت کم کردیتا ہے۔ لگتا ہے یہی کچھ بھٹی کے ساتھ ہوا کیونکہ میں نے یہ دیکھا کہ مہ وشوں میں گھرا یہ شخص ان سے تعلق جوڑنے اور رشتے بنانے کے معاملے میں شاید کسی سخت نفسیاتی اور سماجی بحران کا شکار ہو جاتا تھا اس لئے اچھی خاصی خوش جمال، جاذب نظر و دلکش خواتین کو یہ (خود اپنی جوانی کے دنوں میں ہی) شاید کسی جذباتی ہیجان کی بے جہتی کے باعث پیدا ہونے والی بد حواسی میں کوئی ممنوعہ دشتے کا اعلان کر بیٹھتا جیسے وہ کسے رو میں لگ بھگ اپنی ہم عمر کسی خوش رو لڑکی کو “بیٹی!” کہہ کر مخاطب کرنے لگتا۔۔۔ اور پھر گھامڑ پن دیکھئے کہ ایک بار وہ یہ اظہار کر بیٹھتا تو پھر اسے نبھانے میں لگ جاتا چاہے فریق مخالف پر جو بھی گزرتی رہے۔۔۔ کئی خواتین تو اس واقعے کے بعد ملاقات ہی کم کر دیتیں یا ملنا ہی چھوڑ ہی دیتیں۔ ادھر بھٹی صاحب کا معاملہ یہ ہوتا کہ اس کے بعد کسی ایسی منہ بولی “بیٹی” کے بارے میں کوئی بھی شخص کوئی ناروا بات کہہ بیٹھتا یا اس کی طرف میلی نظر سے دیکھنے کی جسارت کرتا تو ایک دیہاتی راجپوت کی غیرت کے عتاب کی انتہا نہ ہوتی۔ بھٹی کے خلوص اور صدق دل کا کمال ہے ایسی کئی منہ بولی بیٹیوں سے اس نے زندگی بھر بہت سلیقے سے نبھائی بھی ہے اور انہوں نے بھی ہمیشہ اس کی عزت افزائی اور قدر کی ہے۔
( جاری ہے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker