ادبڈاکٹر علمدار حسین بخاریلکھاری

ڈاکٹرعلمدار حسین بخاری کا خاکہ:ذوالفقار علی بھٹی( 5 )۔۔کون ہے یہ گستاخ؟

شرفا کی اس محفل میں یہ انداز ناقابل تصور تھا اس لئے سب کے حیرت زدہ چہروں پر یہ تحریر لکھی نظر آرہی تھی کہ
“کون ہے یہ گستاخ؟”
لیکن بھٹی حسب عادت خود اپنی ہی دھن میں اور کیفیت کلام میں مگن بول رہا تھا
“۔۔۔ یہ علمدار بخاری ہمیشہ اسی طرح ۔۔۔۔! ”
لیکن اسی دوران میں رب نواز خان بول اٹھا
“وہ ہمارے بلوچوں میں سردار کے دیرے پر لوگ جمع ہوتے ہیں تو جب تک سردار صاحب نہ بولیں تو ہر کوئی چپ رہتا ہے کسی کو جرات نہیں ہوتی آواز نکالنے کی ۔۔۔جب سردار کھنکار کر کہتا ہے ” ہا مارکہ کوئی حال احوال ڈیوو ہا”
تو سب اپنی اپنی سنانے لگتے ہیں ایک بار سردار نے محفل میں بیٹھے ہوئے میراثی سے کہا
“میرو تو آج بالکل چپکا بیٹھا ہے، کچھ سنا بھئی!”
میرو کہنے لگا ” سائیں جیوو کیا سناوں پریشان ہوں، کل رات میں نے خواب دیکھا پتہ نہیں اس کی تعبیر کیا ہو ؟”
” اوئے کیا ایسا دیکھ لیا تو نے کنجرا؟ کچھ مونہوں تو بول!”
میرو نے اور زیادہ مسکین اور مظلوم شکل بنا کر کہا
بختاں والے او کیا بتاؤں؟ میں نے خواب میں دیکھا کہ ۔۔۔کہ میں مر گیا ہوں۔۔۔!”
اس پر محفل میں ہل چل پیدا ہوئی ، کوئی ہنسا کسی نے کوئی خملہ کسا ۔ سردار صاحب نے بھی ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہا۔
” ہلا۔۔۔،تو پھر میرو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟۔۔۔ تو مر ہی جاتا تو کئیوں کی الٹا کئیوں کی پریشانیاں ختم ہو جاتیں! ”
سردار کی اس بات پر سبھی با جماعت ہنسنے لگےے لیکن میرو اسی طر مسکین سی شکل لئے چپ رہا سردار صاحب نے ہنستے ہنستے کہا
“اچھا۔۔۔ تو میرو تو مر گیا تو تیرا کفن دفن۔۔۔!؟”
لیکن میرو درمیان ہی میں بول پڑا “سائیں کفن دفن کا تو پتہ نہیں، ہم مراثیوں کا کیا کفن دفن ۔۔۔؟ میں نے تو بس یہ دیکھا کہ میں،۔۔ جنت میں پہنچ گیا ہوں۔۔۔ اور وہاں خوب رونقیں لگی ہیں ۔۔۔ حوریں پریاں غلمان دودھ اور شہد کی نہریں ۔۔۔۔ میں ادھر ادھر گھومتا پھر رہا ہوں اور جنت کے،میوے کھا رہا ہوں کہ بس نا معلوم کیوں مجھے اپنی بستی یاد آگئی ۔۔۔ !”
اوئے رہا نا میراثی کا میراثی جنت میں بھی یہ بستی یاد آئی تھی تجھے؟”
محفل میں سے کسی نے ہنس کر کہا اس پر بھی ہر،طرف سے قہقہے بلند ہوئے۔۔۔ لیکن میرو نے کچھ رک کر اپنی بات جاری رکھی “بس سائیں اتنے میں نے کیا دیکھا کہ ایک طرف اپنی بستی کے کچھ لوگ جمع ہیں سردار کوڑے خان، سردار مزار خان اور مولوی اللہ وسایا۔۔۔۔”
اسی طرح وہ بستی کے کئے مردہ اور زندہ لوگوں کے نام گنتا چلا گیا ۔۔۔ سردار صاحب سے رہا نہیں گیا اور وہ اسے ٹوک کر بول اٹھے ” اوئے میرو۔۔۔ اوئے ۔۔۔۔ تم نے ہمیں بھی کہیں دیکھا کہ نہیں؟ ”
میرو کو سردار صاحب نے ایک عرصہ پہلے کسی بات پر خوش ہوکر بھینس دینے کا وعدہ کیاتھا لیکن کئی یاد دہانیوں کے باوجود دی بکری بھی نہیں تھی اب اس نے بدلے کا موقع نکال لیا تھا اس لئے بے ساختہ جواب دیا۔
“واہ سائیں واہ آپ وہاں ۔۔۔؟ سائیں وہ۔۔جنت ہے کوئی خچ خانہ نہیں۔۔۔ کہ ہرکوئی۔۔۔!”
میرو کے اس برچستہ جواب پر کئی طرف سے دبی دبی ہنسی کی آوازیں ابھریں لیکن پھر اسی طرح سکوت چھا گیا” رب نواز نے مسکرا کر چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا”جیسے اس محفل کا حال ہے”
لیکن اس محفل کا سکوت ختم ہو چکا تھا اور سینئر ز میں سے کچھ لوگ کھل کر ہنس رہے تھے اور کچھ کے چہروں پر محض ایک بیوروکریٹ مسکراہٹ ا کر رہ گئی تھی اگرچہ جونیئر کھانسی کے بہانے اپنی نشستوں سے اٹھ اٹھ کر کچھ دور جاکر اور دوسری طرف منہ کئے ہوئے تھے اور اپنی ہنسی کو بلند تر ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے رھےتھے،۔
اس ماحول کی مناسبت سے مجھے ایک لطیفہ یاد آیا اور پھر بھٹی کی ظریفانہ یادداشت میں کوئی آمد ہوئی۔۔۔ اور پھر کسی اور کی زنبیل سے کچھ نکلا۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس محفل افسران تہ بالا کی وہ ناروا سنجیدگی اور سکوت تہ و بالا ہوا ۔ سینئر جونئر کی ناروا دوری کو خود سینئرز نے ہی دل کھول کر قہقہے لگاتے ہوئے دور کردیا تھا اس لئے سب برابری کی سطح پر آکر شاداں ہو فرحاں ہوئے۔۔۔اتنے میں کھانا لگ گیا اور سبھی بے تکلف ماحول میں گپ شپ کرتے ہوئے کھانا کھانے لگے اس دوران میں کاظم اور کئی دیگر سینئر افسران نے ہمارے پاس آ آ کر ہمارا شکریہ ادا کیا کہ ہماری وجہ سے یہ محفل روایتی بوریت سے بچ گئی جونیئر افسران خاص طور پر بہت خوش تھے اور ہمارا کا شکریہ ادا کررہے تھے۔ بھٹی کا تعارف ہوا تو خود اس کے آرٹسٹ اور ملتان آرٹس کونسل کا ریذیڈنٹ ڈائریکٹر ہونے کی اطلاع نے اس کی اہمیت کو اور بڑھادیا۔ یہ اہم تھا کہ بھٹی کے پہلی بال پر اس کے چھکے نے کھیل کے انداز بدل دیئے تھے۔
بھٹی کو اپنی اس زندہ دلی بارہا عملی فائدہ حاصل ہوا۔ ٹرینوں پر سفر کے رواج کا دور تھا بھٹی لاہور جانے کیلئے ملتان سے ٹرین پر سوار ہوا، سیکنڈ کلاس کے ڈبے میں بہت رش تھا کھوے سے کھوا چھل رہا تھا اتنے میں ایک شخص کی پاوں کسی اور کک پاوں تلے آکر کچلا گیا اس نے چیخ کر دوسرے شخص کو دکھا دیا ، قریب تھا کہ دھینگا مشتی شروع ہو جاتے کہ ان کے قریب ہی کھڑے ذوالفقار بھٹی کو کوئی برمحل لطیفہ یاد آگیا اور اس نے بہ آواز بلند دونوں کو مخاطب کرکے وہ لطیفہ سنادیا۔۔۔ پورے ڈبے میں قہقہے گونج اٹھے۔ اب آرٹسٹ کو موقع ہی پر داد مل جائے تو اس کی طبع اور رواں ہوتی ہے اس لئے ہمارے اس آرٹسٹ کو مزید لطائف دلچسپ یاد آتے چلے گئے ایک محفل سی جم گئی اور چند ہی لمحوں میں یارلوگوں نے گنجائش نکال کر اس کے بیٹھنے کی جگہ بنادی اور یوں اس کا سفر بہت آرام سے کٹ گیا۔ اس کی اسی زندہ دلی کے سبب اس کےاکثر افسران (کمشنر اور ڈپٹی کمشنر بھی ) کا بھی اس سے دوستانہ ہو جاتا تھا۔۔۔ سابق پرنسپل سیکریٹری وزیراعظم پاکستان شہزاد قیصر (جو ایک عرصہ ملتان میں ڈپٹی کمشنر اور اے ڈی سی جی رہے) سے اس کی دوستی کی ایک اہم وجہ ان دونوں زندہ دلی اور لطیفہ بازی کی یہی قدر مشترک بھی تھی یہی صفت اسے نامور شاعر امجد اسلام امجد(جو اس کی ملتان آرٹس کونسل ملازمت کے آغاز کے دنوں میں پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹوڈائریکٹر اور اس کے باس تھے) اور عکسی مفتی کے حلقہ احباب میں شامل کرنے کا باعٹ بنی۔ بھٹی نے این سی اے لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد تھوڑا عرصہ لوک ورثہ کا قومی ادارہ اسلام آباد کے آغاز کے دنوں میں عکسی مفتی کے ساتھ کام کیا لیکن ملتان کی مونجھ کے باعث اسے چھوڑ آیا۔ لوک ورثہ کا گھگو گھوڑے والا نشاں(insignia) بھٹی کا ہی بنایا
ہوا ہے۔
(جاری ہے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker