گزشتہ سے پیوستہ
دوستیوں اور محنتوں کے معاملات میں بھی ذوالفقار علی بھٹی کو میں نے بہت خوش قسمت پایا ہے کیونکہ اس کی لاپروائیوں کے طولانی سلسلہ وار قصوں کے باوجود اس کے حلقہ احباب میں کبھی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس کا سلسلہء احباب وقت کے ساتھ وسیع تر ہوتا چلا گیا ہے اس کے دور طالبعلمی کے دوست بھی اس سے اب تک نبھاتے چلے جا رہے ہیں اس کے کئی قدیمی دوست تو میرے حلقہءاحباب کا حصہ بھی بن گئے۔۔۔ عمر سیال اس کے سکول کے دور کا دوست اور پھر محمد علی واسطی، نسیم اللہ، غلام مصطفٰی اور نذر عباس کاظمی بھی خود بھٹی کی طرح آرٹ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ این سی اے میں اس کے دیگر ہم جماعت دوستوں میں معروف آرٹسٹ اقبال حسین اور محمد بشیر بھی شامل ہیں میری بھی کم و بیش ان سب سے تعلق داری بعض سے دوستداری رہی ہے یہ سبھی یکسر مختلف المزاج لوگ ہیں لیکن بھٹی سے ان سب کی خوب نبھتی رہی ہے۔ ایک ملاقات کے دوران میں پتہ چلتا کہ بھٹی کسی سے اس قدر ناراض ہے کہ ہمیشہ کےلئ قطع تعلق کئے بیٹھا کیونکہ اس نے کوئی بات اس کے مزاج کے خلاف کردی اگلی بار اسی شخص کی تعریف میں رطب السان ہے اور خود اپنی ہی گزشتہ گفتگو کی طرف اشارہ تک کئے جانے پر آگ بگولہ ہورہا ہے کہ میرا دوست ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ بھٹی کے ان سب دوستوں سے الگ الگ ملیں تو بھٹی سے ان کے تعلق کی استواری اور طوالت پر خوشگوار حیرت ہوتی ہے لیکن یہی تو اس کی شخصیت کا سحر ہے کہ ایسے مختلف المزاج لوگ اپنی اپنی جگہ اس کے پکے اور بے تکلف دوست ہیں۔ملتان میں اس کا حلقہءاحباب بھانت بھانت کے لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ پینٹر ، موسیقار ، گلوکار، سازندے، رقاص، رقاصائیں، عشوہ فروش، دستکار ، ادیب، شاعر, کسان، کاشتکار، باغبان، کاروں موٹرسائیکلوں سے لے کر ریڈیو ٹی وی اور کمپیوٹر وغیرہ کے کاریگر مستری ، بھٹی ہر ایک سے اس طرح بے تکلفی میں ڈوب کر محوکلام نظر آئے گا جیسے وہ خود انہی میں سے ہو انہی کا انداز گفتگو اور روزمرہ و محاورہ۔۔۔ یہی نہیں اس سے بات کرو تو ان سب پیشہ وروں کے بارے میں حقیقی معلومات ان کے احوال و کوائف و لطائف کا ایک طومار اس کی زنبیل سے نکلے گا اور پھر بیاں اس کا۔۔۔۔ لطیفہ بازی میں انور جٹ جیسے محفل ساز تک کو اس کے سامنے کان پکڑتے ہوئے دیکھا ۔
محفل جمی ہو تو بھٹی کی حاضر دماغی اور جملہ سازی دیکھنے لائق ہوتی ہے۔اس حوالے سے ایک واقعہ یاد آیا، ہوا یہ کہ ایک دفعہ ہمارے ایک بہت عزیز اور بے تکلف اور محفل ساز دوست ملک غلام کاظم حسین نے، جو اس وقت محکمہ انکم ٹیکس میں ایک بڑے افسر تھے، ہمیں ملتان کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک دعوت پر بلاہا میرے اور بھٹی کے علاوہ رب نواز خان( جو اس وقت زکریا یونیورسٹی میں خزانہ دار /ٹریژرار تھے) بھی مدعو تھے ۔ ہم تینوں ان دنوں ہر کہیں اکٹھے ہی پائے جاتے تھے ۔۔۔ اس لئے ہم تینوں اکٹھے لیکن کچھ تاخیر سے پہنچے۔۔۔ کئی طویل میزووں کے اردگرد ایک خلقت بیٹھی ہوئی تھی لیکن ہر طرف ایک سکوت کا سا عالم تھا وہاں پر موجود لوگ ایک دوسرے سے بات بھی کرتے تو منہ پر ہاتھ رکھ کر سرگوشیوں میں ( یہ ہمیں بعد میں پتہ چلنے والا تھا کہ وہاں اس وقت ملتان کی سول بیوروکریسی کے لگ بھگ سبھی افسران تہ وبالا موجود تھے اور یہ سب کچھ پروٹوکول کے تقاضوں کے تحت ہو رہا تھا لیکن ہمیں نہ اس کی خبر تھی اور نہ اس کی کوئی پروا ہی تھی) ہمارے لئے چند نوجوان/جونئر افسران نے کرسیاں خالی کردیں اور ہم کاظم کے ہم نے تاخیر پر معذرت کی اور کاظم کے قریب خالی کردہ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ماحول پر چھائے سکوت کو دیکھ کر ذوالفقار بھٹی اپنی نشست سنبھالتے ہی کچھ اونچی آواز میں بولا
"یار ہمیں دیر تو ہو ہی گئی تھی اگر محفل کا بھی پہلے پتہ ہوتا تو تو قریبی مسجد سے وضو بھی کرکے آتے ۔۔۔اور۔۔ تسبیح بھی لے آتے !”
سکوت کے اس ماحول میں بھٹی کی آواز کچھ زیادہ ہی گونجی اور سب حاضرین چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگے کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے۔۔۔
(جاری ہے)
فیس بک کمینٹ

