میں نے کہا، "میرے ساتھ ظلم کیا گیا، مجھے ناجائز طور پر نوکریوں سے نکال دیا گیا اور میری ایک نہ سنی گئی، میں نے جہاں بھی نوکری کی درخواست دی، مجھے وہاں سے جواب دے دیا گیا، مجھے معاشی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، مجھے میرے اپنے گھر سے بےدخل کر دیا گیا، ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ میرے بیوی بچوں نے مجھ سے منہ پھیر لیا، مجھ پر جھوٹے فتوے لگا دیے گئے، میں نے ٹی وی چینلز پر آواز اٹھائی تو میری آواز دبا دی گئی، میری شرافت کا سارا زمانہ گواہ ہے لیکن مجھے ایک ولن اور شیطان صفت درندہ بنا کر پیش کیا گیا، پھر آخرکار مجھے خودساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی اور مجھے میرے بوڑھے ماں، باپ، بہنوں اور بھائی سے بھی الگ کر دیا گیا، میرا قصور کیا تھا؟ یہی کہ میں پوری ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کرتا تھا، محنت کرتا تھا، لوگوں کے دکھ درد بانٹتا تھا، اپنے مریض بچوں سے محبت کرتا تھا، سچ بولتا تھا، مظلوم قوموں کی حمایت کرتا تھا، معصوم اور بےگناہ لاپتا افراد کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا تھا، اشتراکیت کا پرچار کرتا تھا، جدوجہد کرتا تھا، مزاحمت کرتا تھا، ملاملٹری ریاست پر تنقید کرتا تھا اور اس کے ناجائز وجود کو مسترد کرتا تھا.”
وہ بولی،” تو سارا قصور آپ ہی کا ہے، آپ یہ سب نہ کرتے، آپ ہی کے مطابق یہ سارا کیا دھرا آپ کا اپنا ہے، اس میں دوسروں کا کیا قصور، انہیں کیوں مورد الزام ٹھہراتے ہیں، آخر اس ملک میں اور لوگ بھی تو رہتے ہیں، انہیں تو کوئی پریشانی نہیں ہے، مسئلہ آپ ہی کے ساتھ ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ سب غلط ہوں اور آپ صحیح.”
وہ بھی بولا، "آپ کی اوقات ہی کیا ہے، نہ آپ کی نوکری ہے، نہ آپ کے پاس پیسے ہیں، لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں، آپ کے بیوی بچے آپ سے ناخوش ہیں، آپ ایک بدتمیز انسان ہیں، شاؤٹ کرتے ہیں، آپ اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو (جو ہمارے بہت پیارے ہیں) گندی گالیاں دیتے ہیں، آپ کا غصہ دیکھ کر لوگ اور ہم سب سہم جاتے ہیں، آپ خود کو اشتراکی کہتے ہیں اور اس دن آپ نے ڈرائیور کو زور زور سے برا بھلا کہا، کیا یہ آپ کی اشتراکیت ہے، وہ ڈرائیور ایک معمولی ورکر تھا اس لیے آپ نے اس پر چڑھائی کر دی، آپ کے قول و فعل میں تضاد ہے، آپ نے ہمارا اور سب لوگوں کا سکھ اور چین چھین لیا ہے، آپ ایک نفسیاتی مریض ہیں، ایک سائیکوپیتھ، آپ کا معالج آپ کا علاج کرنے میں ناکام ہو گیا ہے، آپ لاعلاج ہو چکے ہیں، آپ ایک ناکام انسان ہیں، آپ ایک لوزر ہیں.”
اس پر میں کچھ دیر چپ رہا، پھر میں نے کچھ کہنا چاہا تو وہ بولی، "آپ میری بات کیوں نہیں سنتے؟ آپ اپنی ہی بات کیوں کرتے رہتے ہیں؟ چپ ہو جائیں، میں کہتی ہوں چپ ہو جائیں، میری بات سنیں، آپ کی وجہ سے میں کسی سے نظریں نہیں ملا سکتی، میں لوگوں کو باتیں کرتے دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ میری اور آپ کی بات کر رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ لوگ ہم پر ہنستے ہیں، آپ نارمل انسان نہیں ہیں، آپ ویسے کیوں نہیں بنتے جیسے ہم سب ہیں، خدا کے لیے آپ ٹھیک ہو جائیں.”
میں کہتا ہوں، "اچھا….. یعنی میں ہی مجرم ہوں، لوگوں کا حق کھانے والے، منافقت کرنے والے اور بدعنوانی اور دھوکہ دہی کرنے والے پارسا ہیں اور نیک لوگ ہیں.”
وہ بولی،” آپ کسی سے بات بھی تو نہیں کرتے، آپ کو مکالمہ ہی کرنا نہیں آتا، آپ اپنی ہی دنیا میں رہتے ہیں، آپ اینٹی سوشل ہیں، آپ جان بوجھ کر خود کو ہم سے الگ تھلگ رکھتے ہیں، آپ خود اپنی تنہائیوں کے ذمہ دار ہیں.”
میں نے جواب دیا، "میں بولتا ہے، لیکن تم بہرے ہو، میں مکالمہ کرتا ہوں لیکن تم مجھے سننا نہیں چاہتے، تم مجھے ریڈیو کی طرح استعمال کرنا چاہتے ہو تاکہ مجھے ٹیون کر کے مجھ سے اپنی مرضی کا فرمائشی پروگرام سن سکو، ایسا ممکن نہیں ہے، اس لیے تم اپنا الزام مجھ پر تھوپ دیتے ہو.”
وہ بولی، "آپ سب چیزوں کو مکس کر دیتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتا آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں، مجھے آپ میں ایک سادہ اور نارمل انسان چاہیے، آپ اتنے پیچیدہ کیوں ہیں. آپ جو باتیں کرتے ہیں، ہمیں ان سے غرض نہیں ہے، ہمیں غرض ہے تو اس سے کہ آپ ہمارے ساتھ کیسے ہیں، آپ کا ہمارے ساتھ رویہ کیسا ہے.”
میں نے کہا، "اور آپ کا میرے ساتھ کیا رویہ ہے؟ کیا آپ مجھے کافر نہیں کہتے؟ دین کے نام پر فتوے لے کر مجھ سے رشتے نہیں توڑتے؟ میں آپ کو ان سب سےالگ کر کے کیسے دیکھوں جنہوں نے مجھے ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا ہے، آپ سب اور ملا ملٹری سرمایہ دار مقتدرہ ملے ہوئے ہیں، آپ الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہیں، آپ سب میرے خلاف متحد ہیں، آپ مجھ سے سہولت مانگ رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ میں آپ سب جیسا ہو جاؤں، آپ کے رنگ میں رنگ جاؤں، جھوٹ کو سچ اور رات کو دن مان لوں، ظلم کو حق اور جبر کو جہاد تسلیم کر لوں، ایسا ممکن نہیں ہے، اگر تم مجھے اپنا مجرم سمجھتے ہو، گنہگار سمجھتے ہو، خطاکار سمجھتے ہو، تو سمجھتے رہو، میں اپنی روش نہیں بدلوں گا، میں ایسا ہی رہوں گا کیونکہ اگر میں نے خود کو بدل دیا تو میں زندہ نہیں رہوں گا، میں اپنا وجود کھو دوں گا، میں نے اپنا وجود کھو دیا تو یہ بہت بڑا اجتماعی نقصان ہو گا، ایک ایسا اشتراکی نقصان جس کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہو گا.”
فیس بک کمینٹ

