میں اس وقت ایک کافی ہاؤس میں بیٹھا کافی پی رہا ہوں اور ادھر میرا ملک جل رہا ہے لیکن میں نیرو نہیں ایک عام پاکستانی ہوں جو اپنے گھر کی تباہی پر سخت ملول ہے۔ کچھ دن پہلے میں اور میرے دوست کامریڈ علی اوسط پریس کلب کراچی میں پروفیسر توصیف احمد کے ساتھ بیٹھے تھے۔ توصیف صاحب کے ساتھ وقت گزارنا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ وہ صحافت کی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سینکڑوں مایہ ناز صحافی اور ترقی پسند سیاسی کارکن ان کے شاگرد ہیں۔ وہ ترقی پسند قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن تمام بزرگ ترقی پسندوں کی طرح اس وقت کسی بھی انقلاب سے ناامید ہیں۔ کسی نے پی ٹی آئی کی موجودہ سیاست کے بارے میں ان سے سوال کیا تو انہوں نے بےساختہ کہا کہ ہمیں عمران خان کا ساتھ دینا چاہیے، یہی سائنس ہے۔ میں حیران رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا دور میڈیا کے لیے ایک سخت ترین دور تھا لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے ان کا تختہ الٹا اور بعد ازاں ان کا عدالتی قتل کیا تو ہم ترقی پسندوں نے ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف ان کا ساتھ دیا اور ان کے حق میں صدائے احتجاج بلند کی۔ آج بھی اسٹیبلشمنٹ عمران اور ان کی جماعت پر جبر کر رہی ہے جس پر ہمیں اس وقت ان کا ساتھ دینا چاہیے۔
آج میں نے فیس بک پر بلوچستان کے نوجوان ترقی پسند کارکن کامریڈ فیصل بسارکی کی پوسٹ پڑھی جس میں انہوں نے لکھا کہ "عمران خان ہماری مرضی و منشاء کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آج ایک حقیقت ہے، اس پر بات کرنے سے آج بڑے بڑے دانشگرد اور رٹہ مار سیاسی مرید بھی ہچکچا رہے ہیں۔ ایک ریڑھی بان اور محنت کش سے لے کر مڈل کلاس تک لاکھوں لوگ ان سے اپنے جذبات اور احساسات جوڑ چکے ہیں۔ یہ بحث الگ کہ ان کی امید ٹھیک جگہ لگی ہے یا غلط، وہ کس طبقے کی نمائندگی کر رہا ہے کس کی نہیں، بلکہ وہ اور اسکے کارکن اس وقت ریاست کے شدید جبر اور نفرت کا شکار ہیں۔ ان کے ساتھ ہر جبر ظلم اور بربریت کی شدید مخالفت اور مذمت کرنی چاہیے۔ اندھی تقلید اور چوہا دماغ لیکر چیزوں کو مخصوص پیمانوں میں ڈالنے کی جاہلانہ روش ریاست اور جرنیلوں کے ہاتھ مضبوط کرنے میں ہی مددگار ثابت ہو گی۔”
میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ عمران خان عوام کی طاقت پر بالکل بھی یقین نہیں رکھتے۔ وہ کئی بار ڈھکے چھپے الفاظ میں اس کا اظہار کر چکے ہیں۔ وہ اقتدار جانے کے بعد بھی فوج میں اپنے مبینہ طور پر حامی دھڑے سے امیدیں وابستہ کیے رہے اور شاید اب بھی کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی ان کی جماعت کی رہنما زرتاج گل ڈیرہ غازی خان میں پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتی نظر آ رہی ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے لاکھوں باشعور غریب عوام فوج سے تنگ ہیں. یہی وہ طبقہ ہے جو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کہلاتا ہے اور فوجی اشرافیہ سے نفرت کرتا ہے۔ صرف اور صرف اسی بنیاد پر پاکستان کا یہ اکثریتی طبقہ اس وقت شاید عمران خان کے ساتھ ہے.
الیکشن 2024 سے کچھ ہی دن پہلے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کو دو مختلف کیسوں میں دس اور چودہ، چودہ سال قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ عمران خان پر جو الزام ہے وہ مضحکہ خیز ہے۔ قومی راز افشا کرنے کا الزام۔ پاکستان میں قومی راز بھی عجیب ہوتے ہیں جیسے ہندوستان سے چار مسلسل جنگیں ہارنا اور عالمی دہشت گرد اسامہ بن لادن کو کئی سال تک ایبٹ آباد میں پناہ دیے رکھنا اہم قومی راز تھے لیکن بدقسمتی سے یہ خودبخود افشا ہو گئے۔ خیر بات عمران تک ہی رکھتے ہیں.
میں عمران کا سخت ترین مخالف ہوں، وہ ایک ظالم حکمران تھے لیکن اس وقت وہ اور ان کی اہلیہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لیے ہوئے ہیں۔ میں اور پاکستان کے اکثریتی محکوم طبقات جانتے ہیں کہ پچھتر سالوں سے درپیش اس ملک کے تمام تر مسائل کی ذمہ دار پاکستان کی سرمایہ دار فوجی اشرافیہ ہے۔ ہمیں سائنسی بنیادوں پر اپنی رائے بدلنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔میں عمران خان اور ان کی جماعت پر فوجی، سیاسی اور عدالتی جبر کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور پی ٹی آئی کے محنت کش کارکنوں اور حمایتیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں. باقی رہا الیکشن، تو وہ اب مکمل طور پر سلیکشن بن چکا ہے، جو بھی جیت کر آئے گا وہ سیلیکٹڈ ہی کہلائے گا۔
فیس بک کمینٹ

