یہ سال 1991 کی بات ہے، میں نے گورنمنٹ ہائی اسکول خانیوال سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد اپنے دوستوں ارشد اور اشفاق کی دیکھا دیکھی گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان میں داخلے کے لیے درخواست دے دی۔ ان دنوں یہ کالج جس کا اصل نام ایمرسن کالج ہے، گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد پنجاب کا دوسرا بڑا کالج سمجھا جاتا تھا۔ اس کا میرٹ بنانا ان دنوں بہت مشکل ہوا کرتا تھا، اور داخلہ لینے والے طلباء کو بہت خوش نصیب سمجھا جاتا تھا۔ میں بھی ارشد اور اشفاق کے ساتھ ان خوش نصیبوں میں شامل ہو گیا اور ہم ایف ایس سی پری میڈیکل میں داخل ہو گئے۔ ہم چھوٹے شہر والوں کے لیے یہ ایک نئی اور رنگارنگ دنیا تھی۔ ابھی کل ہی کی بات تھی کہ ہم بدزبان اور بات بات پر ڈنڈے مارنے والے اساتذہ سے پڑھا کرتے تھے اور آج ہم ملتان ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عظیم ترین اساتذہ کے سامنے بیٹھے تھے ان اساتذہ میں اردو کے پروفیسر اسلم انصاری، انگریزی کے بی ڈی (بدرالدین) حیدر اور بائیالوجی کے سعید جعفری صاحب مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔ باقی اساتذہ بھی بہت اچھے تھے لیکن یہ تین شخصیات اپنی مثال آپ تھیں۔
مجھے بچپن ہی سے شعر و شاعری سے دلچسپی تھی۔ میرے والد اردو کے ہر شاعر کی کتاب خرید کر لایا کرتے تھے اور کسی شاعر کا کلام انہیں اچھا لگتا تو ہمیں بھی سناتے تھے۔ ان دنوں اپنے والد کے کئی پسندیدہ شعر مجھے بھی یاد تھے بلکہ انہوں نے مجھے خود یاد کروائے تھے۔ میں نے باباجی (اپنے والد) سے اسلم انصاری صاحب کا ذکر کیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ میرا بیٹا برصغیر کے بہت بڑے شاعر کا شاگرد ہے۔ میں بہت حیران ہوا کہ ایک استاد بہت بڑا شاعر بھی ہو سکتا ہے؟ پھر انہوں نے مجھے جناب اسلم انصاری کی شہرہ آفاق غزل "میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں” سنائی۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ غزل ان دنوں کے مشہور گلوکار غلام عباس نے گائی تھی اور یہ ان کی وجہ شہرت بنی تھی۔ اس انکشاف کے بعد میں اسلم انصاری صاحب سے بہت مرعوب ہو گیا اور ان کے لیے عزت اور احترام میرے دل میں بہت بڑھ گیا۔
جناب اسلم انصاری کی نظر بہت کمزور تھی۔ وہ موٹے شیشوں کی عینک لگاتے اور عینک کے پیچھے ان کی موٹی اور رعب دار آنکھیں نظر آتیں۔ میرے دوست ڈاکٹر محمد ارشد ان کے اس انداز سے بہت متاثر تھے۔ وہ اکثر ان کی نقل اتارا کرتے اور بعد میں اسلم انصاری صاحب کا عینک نیچے کر کے دیکھنے کا وہ انداز انہوں نے مستقل اختیار کر لیا۔
مجھے یاد ہے کہ اسلم انصاری صاحب نے ایک دفعہ ہمیں کسی موضوع پر مضمون لکھنے کو دیا۔ میں ہمیشہ سے مختصر تحریر لکھنے کا عادی ہوں۔ انہوں نے میری تحریر دیکھی تو وہ بہت خوش ہوئے اور میری تعریف کر کے کہا، بس اس تحریر کو تھوڑا پھیلا دو۔ انصاری صاحب کی وہ تعریف میرے لیے ایک ایسا اعزاز ہے جو میرے پاس کسی کاغذی سند کی شکل میں محفوظ نہیں ہے لیکن میرے لیے بہت قیمتی ہے۔ میں نے اسلم انصاری کے مشورے پر عمل کیا اور آج بھی وہی تحریر پھیلا رہا ہوں کہ شاید کبھی اسے مکمل کر سکوں۔
آج اسلم انصاری وفات پا گئے۔ میں نے اپنے سامنے عاصی کرنالی، پروفیسر اصغر علی شاہ اور اقبال ارشد جیسے ملتان کے عظیم شعراء کو رخصت ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جناب اسلم انصاری کی رحلت ملتان کا سب سے بڑا ادبی نقصان ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میں انہیں اپنی گاڑی میں سخنور فورم کی ایک ادبی بیٹھک سے انہیں ان کے گھر چھوڑنے جا رہا تھا۔ یوں لگتا ہے جیسے میرے عظیم استاد اس وقت گاڑی میں میرے ساتھ بیٹھے ہیں اور اپنی عینک نیچے کر کے کہہ رہے ہیں، علی شاذف بس اپنی تحریر کو تھوڑا پھیلا دو۔
فیس بک کمینٹ

