اردو شاعری کے ایک بلند پایہ شاعر، اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن اپنی علمی اور ادبی میراث ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔ ملتان میں پیدا ہونے والےاستاد محترم ڈاکٹر اسلم انصاری نے وہیں تعلیم حاصل کی اور اردو ادب میں ایک خاص مقام پایا۔ ان کی شاعری کا انداز فلسفیانہ گہرائی، جذباتی شدت اور غزل کی لطافت کا حسین امتزاج تھا، جو قدیم و جدید سامعین دونوں کے دلوں کو چھوتا تھا۔ ان کے اشعار انسانی تجربات کی پیچیدگیوں کو زبان کی خوبصورتی کے ساتھ پروتے ہوئے ایک ابدی خوبصورتی کو جنم دیتے تھے۔
ملتان کی کسی بھی سڑک کو ڈاکٹر اسلم انصاری کے نام سے منسوب کیا جانا چاہیے ، جو ان کی ادبی خدمات اور ثقافتی اثرات کا ایک لازوال اعتراف ہو۔ یہ اس بات کی علامت ہو کہ وہ شاعر، جو اپنی مٹی کا حقیقی عکاس تھا، اپنے شہر کو اردو شاعری کی دنیا میں ایک منفرد مقام دینے میں کامیاب رہا۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے لیکن یہ سڑک ان کے نام کو زندہ رکھے گی اور آئندہ نسلوں کو ان کے ادبی خزانے کی یاد دلاے گی، اور ملتان کے قدیم ورثے میں ایک نئے ثقافتی سنگ میل کی حیثیت کے طور پہ نمایاں رہے گی۔ ڈاکٹر اسلم انصاری کا ورثہ ہمیشہ کے لیے شاعروں، محققین اور ادب کے شائقین کے دلوں میں زندہ رہے گا۔
آپ کے احساسات بہت ہی خوبصورت اور دل کو چھونے والے ہیں۔میرے لیے قابل احترام میرے استاد کا درجہ رکھنے والے ڈاکٹر اسلم انصاری جیسے عظیم شاعر ادیب محقق ناول نگار کے ساتھ نشستوں میں شامل ہونا یقیناً ایک بڑا اعزاز ہے۔ ریڈیو پاکستان ملتان،ارٹس کونسل ،ٹی ہاؤس،پاکستان ٹیلی ویژن سینٹر ملتان اور چیمبر اف کامرس میں ان کے ساتھ مشاعرہ پڑھنے کا تجربہ انمول اور تربیتی رہا، جہاں ان جیسے صاحبِ فن کے سامنے اپنا کلام پیش کرنا یقیناً خوش نصیبی ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی، تھپکی، اور وہ احساس جو انہوں نے ہمیشہ دلایا کہ آپ ادب کی خدمت کر رہی ہیں اور اس سے مستقل جاری رہنا چاہیے ، وہی جذباتی پل ہوتے ہیں جو انسان کو زندگی بھر متاثر کرتے ہیں۔کیونکہ ریڈیو پر ان کا آ نا جانا مستقل تھا اور کافی ٹائم ان کے ساتھ بیٹھنا گفتگو کرنا اور ادب کے اسرار و رموز سیکھنا میری زندگی کا سرمایہ ہیں
استاد محترم
ڈاکٹر اسلم انصاری کا یہ عمل ان کی بڑائی اور مہربانی کو ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے نوجوان اور ابھرتے ہوئے شاعروں کو ہمیشہ دل سے سراہا اور انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ ان کے ساتھ گزارے گئے یہ لمحات میرے لیے ادبی سفر میں ایک سنہری یاد کی مانند ہیں، جو مجھے ادب کی خدمت میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔اج وہ ہم سے جدا ہو گئے بچھڑ گئے لیکن ان کا کام ان کا سلوک ان کی تربیت اور نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کبھی فراموش نہیں کی جا سکے گی ۔
فیس بک کمینٹ

