میرا گلا خشک ہو چکا ہے، نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے، اعصاب تنے ہوئے ہیں، سینے میں جلن ہو رہی ہے، میں پاکستان میں دوبارہ داخل ہو چکا ہوں۔ بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد حالات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کونسل کے کارکنوں پر تشدد کے بعد اس کی رہنماؤں کو پابند سلاسل کیا جا چکا ہے۔ پارہ چنار لہو لہو ہے۔ سندھ میں خشک سالی ہے اور ساتھ ہی سندھو دریا سے نہریں نکالنے کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ اور پنجاب میں کیا صورتحال ہے، وہ میں آج اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں۔
میں پہلے دن اپنے ہسپتال میں میڈیکل کروانے پہنچا۔ ناشتہ کرنے کے لیے ہسپتال کے کیفے ٹیریا کا رخ کیا۔ چائے پیتے ہوئے پیچھے سے کسی یوٹیوبر رجب بٹ کے بارے میں گفتگو کی آواز آ ئی۔ "اس نے گستاخی کی ہے”، کسی کی آواز آئی۔ "وہ شیعہ ہے”، کوئی بولا۔ "اس نے اپنے پرفیوم کا نام 295 رکھ کر مقدس قانون کا مذاق اڑایا ہے”، کوئی اونچی آواز میں غرایا۔ "میں تحریک لبیک کا حامی نہیں ہوں لیکن اس کے بانی مولانا خادم رضوی نے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا حق ادا کر دیا، آج کسی کو گستاخی کرنے کی جرات نہیں ہے۔ سب کو پتا ہے کہ اب ملک کے کونے کونے میں سچے عاشقان رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہیں جو ہر گستاخ کا سر تن سے جدا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ مشہور حدیث ہے کہ من سب نبیا فاقتلوہ، یعنی جو بھی رسول پاک کی شان میں گستاخی کرے اسے قتل کر دو۔” میں یہ گفتگو سنتا رہا۔ مجھ سمیت وہاں موجود کسی فرد میں جرات نہیں تھی کہ اس عاشق رسول کو روکنے کی کوشش کرتا۔ وہ ہسپتال کا عام ملازم ہے لیکن اپنے عقائد، متشدد عزائم اور نفرت کا کھل کر اظہار کر سکتا ہے۔
یہاں کوئی ایسا قانون نہیں جو اسے اس کے ذاتی مذہبی عقائد کو دوسروں پر مسلط کرنے سے روکے۔ وہ نہ جگہ دیکھتا ہے اور نہ موقع، اسے کسی کا خوف ہے نہ خیال۔ وہ کسی کو بھی کسی بھی جگہ ہراساں کرنے کی مکمل آزادی رکھتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اسلامی ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے۔
فیس بک کمینٹ

