مردان : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی تحصیل کاٹلنگ میں عسکری ذرائع کے مطابق بابزئی کے پہاڑوں میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایم ایس ٹائپ ڈی ہسپتال کاٹلنگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں حملے کے بعد جو نو لاشیں لائی گئی ہیں ان دو خواتین اور ایک نوعمر لڑکے کی لاش شامل ہے۔ٹائپ ڈی ہسپتال کاٹلنگ کے میڈیکل سپرانٹینڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر لقمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لاشوں میں دو خواتین اور سات مرد شامل ہیں جنھیں بظاہر بلاسٹ برن انجریز آئی ہیں اور ان کے جسم جھلسے ہوئے ہیں۔
سنیچر کو مقامی لوگوں نے لاشیں سوات ایکسپریس ہائی وے پر رکھ کر احتجاج کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس حملے میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم عسکری ذرائع نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان دور دراز علاقوں میں شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے علاوہ کسی بھی عام شہری کی موجودگی ممکن نہیں اور اگر یہاں پر کوئی عام شہری موجود تھا تو وہ ممکنہ طور پر ان شدت پسندوں کا سہولت کار ہو سکتا ہے۔‘
سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہیں کہ سکیورٹی فورسز کی اس کارروائی میں عام شہری مارے گئے ہیں درست نہیں کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔‘
مقامی افراد کے مطابق سوات ایکسپریس ہائی وے پر احتجاج میں شامل مظاہرین سے حکام نے مذاکرات کیے جس کے بعد مقامی افراد کے مطابق حکام کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج، ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو شہدا پیکج دینے اور آئندہ اس قسم کی کارروائیاں نہ کرنے کے مطالبات تسلیم کرنے پر یہ احتجاج ختم کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کے مطابق ان مذاکرات میں ڈی پی او ظہور بابر افریدی، رکن صوبائی اسمبلی زرشاد انجم اور مفتی حماد یوسفزئی سمیت دیگر افراد شامل تھے اور مذاکرات کی کامیابی کے بعد موٹروے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔تاحال اس بارے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم مردان سے ایک سرکاری افسر نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’بابزئی کے پہاڑوں میں مشتبہ افراد گھنے درختوں میں چھپے ہوئے تھے جن کے خلاف جمعے کی رات سکیورٹی فوسرز نے کارروائی کی۔’اس کارروائی کے دوران تین مشتبہ مقامات پر ڈرون کے ذریعے بمباری کی گئی جس میں شدت پسندوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔‘
سرکاری افسر نے بتایا کہ ’اُن کی اطلاع کے مطابق ایک مقام پر تین شدت پسند اور دوسری جگہ پر سات شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں لیکن اب تک اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہو سکی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ علاقہ انتہائی دشوار گُزار ہے اور یہاں جانے کے لیے پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔‘
عسکری ذرائع کے مطابق ’ان دہشت گردوں نے عید کے دوران بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ ان دہشت گردوں کے مقامی سہولت کار بھی ان کے ساتھ اس کارروائی میں ہلاک ہوئے ہونے کی اطلاعات ہیں۔‘سینیئر سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ علاقہ ماضی میں بھی شدت پسندوں کا اہم مرکز رہا ہے جہاں سوات اور شانگلہ سے مشتبہ افراد اس علاقے میں پناہ لیتے رہے ہیں۔’اس علاقے میں شدت پسندوں کے مختلف گروہ متحرک رہے ہیں۔ یہاں اس سے پہلے بھی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیاں کی جا چکی ہیں اور سنہ 2009 سے شدت پسندوں کے مختلف گروہ اس علاقے میں رہ کر دیگر علاقوں میں کارروائیاں کیا کرتے تھے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

