کنڈیشننگ (Conditioning) ان الفاظ میں سے ہے جن کے لیے اردو میں کوئی واضح متبادل نہیں ہے۔ "حالت بنانا” ایک ترجمہ ہے، لیکن یہ مبہم ہے۔ یہ اصطلاح میں نے پہلی بار انٹرمیڈیٹ کی حیاتیات (Biology) میں پڑھی تھی، جہاں اس کے معنی کسی محرّک اور اس کے ردِعمل کے درمیان تعلق میں تبدیلی کرنا تھے۔ اس کی مثال جانوروں کو سدھارنا ہے، جنہیں مختلف افعال کی تربیت دی جاتی ہے۔ جسمانی کنڈیشننگ ایک الگ اصطلاح ہے، جس کی مثال کھلاڑیوں اور اتھلیٹس کی تربیت ہے، جس کے ذریعے وہ کھیل میں بہتر جسمانی کارکردگی دکھانے کے قابل ہوتے ہیں۔
میں یہاں کنڈیشننگ کا ذکر کیوں کر رہا ہوں؟ آئیے، اس پر بات کرتے ہیں۔
کچھ دن پہلے میری گاڑی خراب ہو گئی۔ میں گھر سے پیدل مین روڈ تک پہنچا، وہاں سے موٹر سائیکل رکشے میں بیٹھ کر اپنے اسپتال کے موڑ پر اترا، اور کچھ فاصلہ پیدل طے کر کے اسپتال پہنچا۔ ایسا نہیں کہ میں پہلی بار اس خطرناک سواری میں بیٹھا تھا جو آئے روز بے شمار ٹریفک حادثات کا باعث بنتی ہے۔ لیکن اس سفر میں میں نے کچھ مشاہدات کیے۔
یہ سواری محنت کش طبقے کی اکثریت کے لیے آمد و رفت کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔ اگرچہ یہ آلودگی پھیلاتی ہے، مگر بیک وقت چھ افراد کو سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ مجھے چونکہ اس کی عادت نہیں ہے، اس لیے اس کا شور مجھے تکلیف دیتا ہے اور راستے کی اڑتی ہوئی گرد میرے لیے ناخوشگوار ہوتی ہے۔ لیکن اگر میں روزانہ یہی ذریعہ آمد و رفت استعمال کروں تو چند ہی دنوں میں اس کا عادی ہو جاؤں گا اور یوں کافی رقم بھی بچا لوں گا۔
یہ سوچ کر مجھے اپنی ایک سینئر ڈاکٹر کی بات یاد آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی سب کے لیے مشکل ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔ ہر کسی کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں۔ ہم سب اپنی زندگی اپنے انداز سے گزارتے ہیں، یعنی ہم سب کا اپنا لائف اسٹائل ہے۔ اور اسی لیے ہم سب اپنے حالات سے کنڈیشن ہو جاتے ہیں۔
ہماری کنڈیشننگ ہمیں ظلم اور جبر کے ماحول میں زندہ رہنے کے قابل بناتی ہے۔ مثال کے طور پر، فلسطینی عوام بدترین حالات اور دو سال کی مسلط کردہ جنگ کے باوجود زندہ ہیں۔ اسی طرح بلوچ مزاحمتی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کئی ماہ سے قید اور تشدد کا شکار ہونے کے باوجود عدالت میں پیشی کے دوران مسکراتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
محبت میں بھی انسان کنڈیشنڈ ہو جاتا ہے۔ شروع میں دل کا ٹوٹنا ایک شدید صدمے سے دوچار کرتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ ہم اس نفسیاتی بحران کے عادی ہو جاتے ہیں۔ نئے اور مشکل حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں کنڈیشننگ کے اس نفسیاتی ردِعمل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا دماغ اور جسم قدرتی طور پر ہماری مدد کرتے ہیں تاکہ ہم نئے ناخوشگوار حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ یعنی ہماری ساخت ہی ایسی ہے کہ ہم ہمیشہ مشکلات سے لڑنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
میں چونکہ ایک تخلیق کار ہوں، اس لیے میں نے یہ سیکھا ہے کہ نئے اور غیر موافق حالات ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بنا دیتے ہیں۔ دنیا کا بہترین ادب اکثر ظلم اور جبر کے حالات میں تخلیق ہوا ہے۔ فیض احمد فیض نے اپنی بہترین نظمیں ساہیوال جیل میں لکھیں۔ جس کوٹھڑی میں فیض قید تھے، آج اسے میوزیم کا درجہ حاصل ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا ذہن ہماری جدوجہد کو آگے بڑھانے میں ہمیشہ مدد کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کنڈیشننگ کچھ اس طرح کریں کہ ہماری ذاتی مشکلات نہ صرف ہمیں انفرادی طور پر مضبوط بنائیں بلکہ اجتماعی طور پر بھی ترقی کا باعث ہوں۔ آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہوا کے رخ پر چلنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کریں، ورنہ ہماری نشوونما رک جائے گی اور ہم فنا ہو جائیں گے۔
فیس بک کمینٹ

