کل ”گرد و پیش“ کے روحِ رواں رضی الدین رضی اور شاکر حسین شاکر نے استادِ محترم اسلم انصاری کی چوراسی ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے دولت کدے پر حاضری دی اور ان سے ان کی تازہ غزل بھی سنی۔اسلم انصاری نے 1975 میں ایک غزل کہی تھی جس کے کچھ اشعار اور مقطع زباں زدِ عام رہے ہیں:
سفر طویل ہے اور راستہ بھی ڈر کا ہے
جو روکتا ہے بہت وہ خیال گھر کا ہے
خفا نہ ہو جو ترے ہاتھ چھو لیے میں نے
کہ یہ مقام تو ویسے بھی در گذر کا ہے
یہ فاصلہ بھی حقیقت میں بحر و بر کا ہے
یہ فاصلہ کہ بظاہر فقط نظر کا ہے
اسی غزل کا یہ مقطع بیک وقت اپنے شہر کی ادبی و شعری فضا سے ان کا شکوہ بھی تھا اور زعمِ ہنر کا دعوٰی بھی:
میں اپنے شہرکے لوگوں سے مختلف بھی نہیں
جو مجھ میں عیب ہے سارا مرے ہنر کا ہے
پھر یوں ہوا کہ وقت کی گرد آہستہ آہستہ بیٹھتی چلی گئی اور اسلم انصاری کی تخلیقی شخصیت کو سب ہی مان گئے۔اور اب یہ عالم ہے کہ وہ وطنِ عزیز کے سب سے سینئر شاعر ہیں اور ” اب تک“ کے ایک اور سینئیر شاعر کی طرح ایک ہی لہجے ،ایک جیسی لفظیات ، ایک جیسے موضوعات اور ایک جیسی فضا پر مبنی غزل نہیں کہتے بلکہ تازہ کاری ان کا ہنر ہے خواہ موضوع بھی ہنر ہی کیوں نہ ہو ۔غزل کو بزبانِ شاعر سننے کے لیے آپ کو رضی الدین رضی کے ” گرد و پیش “سے رجوع کرنا ہو گا۔
بہر حال وہ غزل جس کے لیے یہ تمہید باندھی ہے ، پڑھ لیجیے:
کہاں گئے وہ شناسا وہ قدر دانِ ہنر
کہ مٹ چلے ہیں ورقِ دہر سے نشانِ ہنر
بہت زیادہ ہیں غوغائے نقدِ فن والے
بہت ہی کم ہیں زمانے میں رازدانِ ہنر
ہمیں خبر ہے کہ کیا دکھ اٹھانے پڑتے ہیں
سنو تو ہم سے سنو تم بھی داستانِ ہنر
گہر ہوں سامنے اور ڈھونڈتے پھریں گوہر
کچھ ایسے بھی ہیں زمانے میں ترجمانِ ہنر
مزاجِ عہد کے زیرِ اثر بھی ہیں کچھ لوگ
ہنر شناس نہیں سارے عاشقانِ ہنر
وہ اشک ریز تبسم وہ دم بخود آہیں
انہی سے پھوٹتی ہے شاخِ جاودانِ ہنر
یہ کچھ شکستہ لکیریں ہیں کچھ بریدہ نقوش
انہی پہ یاروں کو ہوتا رہا گمانِ ہنر
انصاری صاحب کو سال گرہ مبارک ہو۔خدا انہیں صحت مند اور سلامت رکھے۔
فیس بک کمینٹ

