ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

’’تسلسل‘‘: جدوجہد / ڈاکٹر لال خان

میڈیا اور سیاست میں ایک مرتبہ پھر ”جمہوریت کے تسلسل‘‘ کا بہت شور ہے۔ جمہوریت کے تسلسل کے بارے میں ہمارے حکمران اس ملک کے محنت کشوں کو ایسے انداز میں باور کروا رہے ہیں جیسے یہ حاکمیت عوام پر کوئی بہت بڑا احسان کر رہی ہے۔ لیکن یہاں کے نوجوان اور محنت کش عوام اتنے بھی شعور سے عاری نہیں کہ وہ اس تسلسل کے بنیادی کردار اور طبقاتی ساخت کو ہی نہ پہچان سکیں۔ اس تسلسل میں حکمرانوں کے چہرے بدل جاتے ہیں‘ ان کے طبقاتی تعلق اور کردار نہیں بدلتے۔ ایک ہی طبقے کے لوگ ہیں جو پچھلے 70 سال سے اس ملک پر حکمرانی بھی کر رہے ہیں‘ اور یہاں کی محنت اور وسائل کو لوٹ کر امیر سے امیر بھی ہوتے جا رہے ہیں۔ امارت کا یہ تسلسل جاری ہے اور غربت، بے رزوگاری، لا علاجی، نا خواندگی، محرومی اور ذلت کا تسلسل بھی نہیں بدل سکا ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کے بالا دست طبقات یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ یہاں کی حاکمیت چاہے وہ جمہوری ہو یا آمرانہ‘ اس کا حق صرف اس معاشرے کے دولت مند گھرانوں، جاگیردارانہ خاندانوں اور اشرافیہ کو ہی حاصل ہے۔ معمول کے حالات و ادوار میں ان کی حاکمیت کا جاہ و جلال اور شان و شوکت‘ دونوں معاشرے کی وسیع تر پسماندہ اور مظلوم پرتوں کی نفسیات پر حاوی رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ دہائیوں تک چلتا ہے۔ حکمرانوں کی لڑائیاں ہوتی ہیں وہ ایک دوسرے کو زِچ کرنے کے لئے ہر گھٹیا سے گھٹیا ہتھکنڈا استعمال کرتے ہیں۔ پیسے اور اقتدار کے لئے وفاداریاں بدلتے ہیں، اپنے ہی ”لیڈروں‘‘ کو دھوکے دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خوفناک دشمنوں کی طرح محسوس ہوتے ہیں‘ لیکن ان کی مارکیٹ چلتی رہتی ہے۔
معاشرے کے ارتقا کا یہ ایک ایسا عمل ہے‘ جو طوالت کے باوجود کبھی حتمی نہیں ہوتا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کارپوریٹ سرمائے کی جکڑ میں ہوتے ہیں اور اسی کی ملکیت بھی‘ اور ان کی سب سے بڑی فنکاری یہ ہوتی ہے کہ وہ محنت کش عوام کو حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کی لڑائیوں میں الجھا کر نفسیاتی طور پر ایسا تماشبین بنا دیں کہ وہ جبر کے نظام کی انہی شخصیات کو کبھی اپنا ہیرو تصور کرنے لگیں اور کبھی ان کے مد مقابل دھڑے کے لیڈروں کی طرح ”وِلن‘‘ کی حیثیت سے ایک نفرت انگیز رویہ اپنا لیں۔ وہ ان ”اچھے‘‘ اور بڑے ”حکمرانوں‘‘ کے پیش کردہ تماشے میں اس قدر محو ہو جائیں کہ اپنے ان ازلی دشمن طبقات کے نمائندوں کو اپنا نمائندہ سمجھنے لگیں۔ پھر ایک پسماندہ اور قدامت پرست معاشرے میں انہی متحارب سیاست دانوں کے خصوصاً جنسی سیکنڈل اچھال کر اس تماشے کو زیادہ دلچسپ اور پُر لذت بنا کر معاشرے میں پھیلی ہوئی پراگندگی کو محکوم طبقات خصوصاً نوجوانوں میں زیادہ ذہنی اضطراب اور نظریاتی بے راہ روی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ مالیاتی اور جنسی سیکنڈل عموماً حقیقی واقعات پر مبنی ہوتے ہیں‘ کیونکہ اس حاکمیت کے ناخدا ذاتی اور اقتصادی معاملات میں اپنے ہی اصولوں، عقائد اور سماجی و اخلاقی قدروں کے حوالے سے انتہائی بد کردار اور بدعنوان ہیں۔ لیکن بعض اوقات وہ سیاسی حکمرانوں کے اس ناٹک سے اتنا اکتا جاتے ہیں کہ کسی اور کو خصوصاً معاشرے کی پسماندہ پرتوں میں ہیرو بنا کر ان کے جبر کے ذریعے اس معاشرے کی گلی سڑی کیفیت اور برائیوں کے خاتمے کی امیدیں لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک پاکستان میں یہ ڈائیلاگ پسماندہ ذہنیت رکھنے والوں میں بہت عام اور مقبول رہا تھا کہ ”یہاں اب کسی سخت آدمی کو آنا چاہیے‘‘۔ لیکن یہاں جب ایسے افراد آتے ہیں تو چند سالوں میں سماج کا وہ حشر کر دیتے ہیں کہ پھر میڈیا اور سیاست کا لبرل حصہ‘ دونوں عوامی نفسیات میں جمہوریت کے لئے امیدیں اور ارمان ایک فنکارانہ واردات کے ذریعے سرایت کرانا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن چاہے آمریت سے جمہوریت آئے یا ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوریت آئے‘ معاشرے کے جبر و استحصال اور آبادی کی وسیع تر اکثریت کی محرومی اور ذلت کا تسلسل جاری رہتا ہے۔ حکمرانوں کے صرف لباس بدلتے ہیں حاکمیت کا کردار نہیں بدلتا‘ صرف انداز اور طریقۂ واردات بدل جاتے ہیں‘ لیکن حکمرانوں کی لوٹ مار اور ان کے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی بیماری ”شرح منافع کی گراوٹ اور زوال‘‘ کی وجہ سے معاشرے میں جو سماجی بحران پیدا ہوتا ہے‘ اس سے حکمرانوں کی لڑائیاں اور الزام تراشیاں مزید شدت اختیار کر جاتی ہیں۔ یہی صورت حال سب سے زیادہ عدم استحکام اور انتشار کا باعث بنتی ہے۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی بد ترین جبر، خاموشی اور جمود کے عہد میں کہیں نہ کہیں‘ کسی نہ کسی صورت میں نیچے سے کوئی تحریک یا بغاوت نہ ابھر رہی ہو۔
1947ء سے لے کر اب تک اس حاکمیت کے تسلسل نے کم از کم یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ یہاں کے حکمران طبقات اور ان کے مغربی و مشرقی سامراجی آقا اس معاشرے کو وہ ترقی نہیں دے سکے‘ جس سے ایک قومی یکجہتی اور جدید قومی ریاست استوار ہو سکتی۔ ایک ایسی جمہوریت آ سکتی کہ لوگوں کو کچھ تو بنیادی جمہوری حقوق اور معاشی آسودگی حاصل ہوتی، جہاں تھوڑا بہت تو معاشرے میں استحکام اور امن ممکن ہوتا، جہاں بے زمین کسانوں اور مزارعوں کی صدیوں کی محکومی میں کچھ تو نرمی آتی، جہاں مزدوروں کے لئے یورپ کی حد تک ہی کچھ تو اوقات کار میں کمی، اجرتوں اور رعایتوں کا حصول ممکن ہو سکتا، جہاں ریاستی اداروں میں اتنا اتفاق تو ہوتا کہ جمہوری حکومت یہاں کی عدلیہ، ریاست اور دوسرے حاکمیت کے اداروں پر کچھ تو اختیار رکھ پاتی، جہاں ضیاالحق کی پالیسیوں سے داغ دار ”آئین‘‘ کی کوئی تو حرمت ہوتی کہ اس کے تحت ہی دیئے گئے اور اس میں درج کردہ حقوق پاکستان کے تمام حصوں، تمام طبقوں اور محنت کش طبقات کو حاصل ہو سکتے۔ لیکن یہ حکمران اور حاکمیت کے ادارے اپنے آئین اور اپنے قوانین پر بھی عملدرآمد کروانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہاں کے محنت کش اور غریب عوام نسل در نسل برباد ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ جب تک یہ نظام قائم ہے ان کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں آنے والی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کا سیاست دان جس نیم سرمایہ دارانہ، نیم جاگیردارانہ طبقے کی نمائندگی کر رہا ہے‘ وہ اپنے معاشی فرائض ہی پورے نہیں کر سکا۔
حکمرانوں کی ناکامی نے جہاں معاشرے کو یکسر بدل کر 1968-69ء کی تحریک اور سوشلسٹ انقلاب کی چوکھٹ پر لا کھڑا کیا تھا‘ وہاں اس انقلاب کی ناکامی نے نوجوانوں اور محنت کشوں کو تاراج کر کے انتقام لیا۔ افغان جہاد اور ضیاء الحق کی امریکی پشت پناہی میں بننے والی پالیسیوں نے نہ صرف مذہبی جنونیت اور فرقہ واریت کو جنم دیا‘ بلکہ اس کے پیچھے اس دیوہیکل کالے دھن کو بھی ابھارا جو اب اس ملک کی سیاست، معاشرت، صحافت اور ریاست پر حاوی ہے۔ اس حاکمیت کا ایک گٹھ جوڑ (Nexus) ہے جس میں سرمایہ دار بھی ہیں، جاگیردار بھی، بیوروکریٹ بھی اور اعلیٰ اداروں کی اشرافیہ کے اشخاص بھی، کالے دھن کے بیوپاری بھی اور مذہبیت کے ٹھیکیدار بھی۔ اس حاکمیت کا یہ منفرد اور رجعتی تشخص اس کے کردار کی غمازی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تسلسل کا یہ کھیل بہت شدت اختیار کر گیا ہے۔ الیکشن میں جہاں سرکاری فیس کئی گنا بڑھ گئی ہے وہاں مہم میں 15 سے تیس لاکھ کے اخراجات کی حد بھی مضحکہ خیز ہے۔ ہر الیکشن پہلے والے کی نسبت مہنگا ہوتا جا رہا ہے اور اس سے بننے والی حکومتیں بدعنوان سے بدعنوان تر ہوتی جا رہی ہیں۔ پہلے کیا عوام کم لٹے ہیں کہ اب لٹیروں نے اس استحصال کے لئے اپنے داؤ آزمانا شروع کر دئیے ہیں؟ عوام تو لٹ چکے ہیں کہ ان کی محنت ابھی تک لوٹی جا رہی ہے لیکن اس کی انتہا کیا ہے؟ جس لمحے ان محنت کرنے والے انسانوں کو اپنی محنت کی طاقت کا احساس ہو گیا، اپنی ذلت کا ادراک ہو گیا تو پھر یہ محنت اس سرمائے کے خلاف جو بغاوت کرے گی وہ صرف حکمرانوں کے اس تسلسل کو ہی نہیں توڑے گی بلکہ اس ظلم و جبر اور استحصالی نظام کا خاتمہ کر کے ہی دم لے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker